واٹس ایپ نے اپنے نئے یوزرنیم فیچر کی باضابطہ لانچ سے قبل یوزرنیم ریزرویشن کا عمل شروع کر دیا ہے جس کے تحت صارفین اپنی پسند کے یوزرنیم پہلے سے محفوظ کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ صارفین کے لیے خوشخبری، پرائیویسی بڑھانے کے لیے نیا فیچر متعارف
یہ نیا فیچر صارفین کو بغیر فون نمبر شیئر کیے ایک دوسرے سے رابطہ کرنے کی سہولت دے گا جس کا مقصد پرائیویسی میں اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم اعلان کے بعد بعض صارفین نے اس فیچر پر خوشی کا اظہار کیا ہے جبکہ ماہرین اور سیکیورٹی حلقوں نے جعل سازی، دھوکا دہی اور فِشنگ کے خدشات بھی ظاہر کیے ہیں خاص طور پر بھارت میں جہاں واٹس ایپ کے 50 کروڑ سے زائد صارفین موجود ہیں۔
نیا طریقہ کار
اس وقت واٹس ایپ صارفین کی شناخت کے لیے فون نمبر کو بنیادی ذریعہ کے طور پر استعمال کرتا ہے تاہم نئے فیچر کے بعد صارفین منفرد یوزرنیم کے ذریعے بھی ایک دوسرے کو تلاش اور رابطہ کر سکیں گے۔
میٹا کے مطابق اس تبدیلی کا مقصد صارفین کو خاص طور پر نئے رابطوں، گروپس اور کاروباری اکاؤنٹس کے ساتھ بات چیت کے دوران اپنا فون نمبر محفوظ رکھنے میں مدد دینا ہے۔
صارفین پہلے ہی فیچر کے مکمل رول آؤٹ سے قبل اپنا یوزرنیم ریزرو کر سکتے ہیں۔
جعل سازی کے خدشات
سیکیورٹی ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ کئی معروف شخصیات اور اداروں سے ملتے جلتے یوزرنیم اب بھی ریزرو کیے جا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے: واٹس ایپ میں یوزر نیم بنانے کی سہولت: سیکیورٹی خدشات کا اظہار اور میٹا کی وضاحت
مثال کے طور پر بالی ووڈ اداکار شاہ رخ خان اور امیتابھ بچن، ارب پتی مکیش امبانی کی کمپنی جیو اور ریزرو بینک آف انڈیا جیسے ناموں سے مشابہ یوزرنیم دستیاب پائے گئے۔
اس صورتحال پر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جعل ساز ایسے یوزرنیم استعمال کر کے جعلی اکاؤنٹس بنا سکتے ہیں اور عوام کو دھوکا دے سکتے ہیں۔
حتیٰ کہ بائننس کے بانی چانگ پینگ ژاؤ (سی زیڈ) نے بھی کہا کہ وہ اپنا وہ یوزرنیم محفوظ نہیں کر سکے جو وہ دیگر پلیٹ فارمز پر استعمال کرتے ہیں جس سے مزید سوالات پیدا ہوئے ہیں۔
میٹا کا مؤقف
میٹا نے کہا ہے کہ وہ معروف شخصیات، سرکاری اداروں اور اہم اداروں کے یوزرنیم خودکار طور پر محفوظ کر لیتا ہے تاکہ جعلسازی کو روکا جا سکے۔
مزید پڑھیں: کیا بغیر میسج کیے پتا چل سکتا ہے کہ آپ بلاک ہیں؟ واٹس ایپ کے نئے فیچر نے صارفین میں تجسس پیدا کردیا
تاہم کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سے یوزرنیم محفوظ کیے جاتے ہیں اور مشابہ یوزرنیم کے معاملے کو کس طرح کنٹرول کیا جائے گا۔
بھارت کے ریگولیٹری خدشات
بھارت کی وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی (می آئی ٹی وائی) نے بھی اس فیچر پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق وزارت نے واٹس ایپ کو نوٹس جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یوزرنیم فیچر آن لائن فراڈ، فِشنگ اور جعل سازی کے واقعات میں اضافہ کر سکتا ہے۔
وزارت نے مزید کہا ہے کہ جعل ساز سرکاری اداروں سے ملتے جلتے یوزرنیم بنا کر عوام کو دھوکا دے سکتے ہیں اور اس حوالے سے واٹس ایپ سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔
پرائیویسی کے فوائد
ماہرین کے مطابق خدشات کے باوجود یوزرنیم فیچر سے پرائیویسی میں اہم بہتری بھی آئے گی۔
سائبر سیکیورٹی ماہر ریچل ٹوبیک کے مطابق یوزرنیمز کے ذریعے فون نمبر شیئر کرنے کی ضرورت کم ہو جائے گی جس سے سم سواپنگ، فِشنگ اور اکاؤنٹ ہائی جیکنگ کے خطرات میں کمی آ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: واٹس ایپ بغیر کھولے وائس نوٹس بھیجنے کی سہولت کا امکان
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ صارفین ایسے یوزرنیم منتخب کریں جو منفرد ہوں اور آسانی سے اندازہ نہ لگائے جا سکیں تاکہ اسپیم اور غیر ضروری رابطوں سے بچا جا سکے۔














