دنیا بھر میں ہر سال 16 جولائی کو ورلڈ اسنیک ڈے منایا جاتا ہے جس کا مقصد سانپوں کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کا خاتمہ کرنا، ان کے تحفظ کو فروغ دینا اور ماحولیاتی نظام میں ان کے اہم کردار سے آگاہی فراہم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین میں سیلاب کے باعث تقریباً 900 سانپ فرار، سرچ آپریشن جاری
ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں سانپوں کی 3 ہزار 900 سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں جن میں صرف چند اقسام ہی زہریلی ہیں جبکہ اکثریت غیر زہریلے سانپوں پر مشتمل ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سانپ قدرتی ماحولیاتی نظام کا ایک اہم حصہ ہیں اور یہ چوہوں اور دیگر نقصان دہ جانداروں کی تعداد کو قابو میں رکھ کر فصلوں کے تحفظ اور ماحول کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیے: چینی خاتون اپنے 60 ہزار پالتو زہریلے سانپوں کے ذریعے کتنا کما لیتی ہیں؟
ماہرین نے کہا کہ سانپوں کے زہر پر ہونے والی سائنسی تحقیق تریاق یا زہر مخالف ادویات (اینٹی وینم) کی تیاری اور دیگر طبی علاج میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔
ان کے مطابق سانپوں کو صرف خوف یا غلط فہمی کی بنیاد پر مارنے کے بجائے ان کے تحفظ اور قدرتی نظام میں ان کی اہمیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکا میں 2 سروں والا نایاب سانپ ’ہاریبو‘ دریافت
علاوہ ازیں راولپنڈی کے ایوب نیشنل پارک میں قائم اسنیکس ہاؤس شہریوں خصوصاً بچوں اور طلبہ کے لیے خصوصی دلچسپی کا مرکز ہے جہاں مختلف اقسام کے سانپ رکھے گئے ہیں۔ دیکھیے یہ ویڈیو رپورٹ اور جانیے کہ اس اسنیکس ہاؤس میں کن کن اقسام کے کتنے سانپ موجود ہیں۔













