وفاقی آئینی عدالت نے نابالغ بچوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے نابالغ بچوں کے مقدمات میں سرپرست کی تقرری لازمی قرار دے دی۔
عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچوں، ضعیف افراد اور پردہ نشین خواتین کے مقدمات میں فریقین کے درمیان ہونے والے سمجھوتے عدالت کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد ہی قابل قبول ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: لاپتا بچوں کا معاملہ، سپریم کورٹ آئینی بینچ نے تمام آئی جیز اور سیکریٹریز داخلہ کو طلب کرلیا
فیصلے میں کہا گیا کہ کسی بھی مقدمے کے آغاز پر ہی یہ تعین کیا جائے گا کہ آیا کوئی فریق کم عمر ہے یا نہیں، جبکہ کم عمر افراد کے حقوق کا تحفظ کیے بغیر کوئی فیصلہ نہیں دیا جائے گا۔
وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ نابالغ افراد کے لیے ایسے شخص کو سرپرست مقرر کیا جائے گا جس کا مقدمے میں کوئی ذاتی مفاد نہ ہو، تاکہ ان کے حقوق کا مؤثر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ نابالغ سے متعلق ملکیت کے تنازعات میں غیر ضروری عجلت سے گریز کیا جائے گا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے کی نقول تمام سول اور ریونیو عدالتوں کو بھجوانے کا حکم بھی دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بچوں کے اغوا، بھیک اور جبری مشقت پر وفاقی آئینی عدالت برہم، وفاق اور صوبوں سے تفصیلی رپورٹ طلب
عدالت نے کیس میں لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو مقدمے کی کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت کر دی۔
مذکورہ مقدمے میں سول کورٹ کی جانب سے سمجھوتے کی بنیاد پر دیے گئے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا، درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ فیصلے میں نابالغ بچوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کیا گیا۔











