امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت کے بعض ارکان نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے امریکی رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تاکہ واشنگٹن اپنی سفارتی پالیسی تبدیل کر دے اور ایران کے خلاف فوجی کارروائی جاری رہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کی امریکا کو سخت وارننگ، حملے بڑھے تو پورا مشرقِ وسطیٰ میدانِ جنگ بن جائے گا
رائٹرز و دیگر غیر ملکی میڈیا کے مطابق بدھ کے روز نشر ہوئے ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ انہیں اس بات کا مکمل یقین ہے کہ اسرائیلی حکومت کے بعض افراد سفارتی کوششوں کے بجائے ایران کے خلاف فوجی مہم کو طول دینا چاہتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات کا ذرہ برابر شک نہیں کہ اسرائیلی حکومت کے اندر کچھ لوگ امریکا کو اپنی موجودہ پالیسی سے ہٹانے کی کوشش کر رہے تھے کیونکہ وہ فوجی کارروائی جاری رکھنا چاہتے تھے۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا دفاع
جے ڈی وینس نے گزشتہ ماہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی راہ ہموار کی اگرچہ اسرائیل میں اس کی مخالفت کی گئی۔
مزید پڑھیے: ٹرمپ تابوت میں، تہران میں نصب بل بورڈ دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گیا
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کے بعض ارکان کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات ہیں تاہم کچھ عناصر امریکی عوام کی رائے پر اثر انداز ہو کر واشنگٹن کی پالیسی تبدیل کرانا چاہتے تھے۔
ان کے بقول ہمیں مکمل یقین ہے کہ اسرائیلی نظام کے اندر کچھ لوگ امریکی رائے عامہ کو متاثر کرنے اور جنگ کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔
غیر ملکی اثر و رسوخ پر مؤقف
امریکی نائب صدر نے کہا کہ مختلف ممالک کی جانب سے امریکی پالیسی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کوئی نئی بات نہیں۔
انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات پر اعتراض نہیں کہ اسرائیل ایسا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور نہ ہی اس پر کہ روس یا دیگر ممالک بھی ایسا کرتے ہیں کیونکہ سنہ 2026 میں سیاسی قیادت کا یہ ایک حصہ ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی فورسز کے ایران پر مسلسل پانچویں روز حملے، آبنائے ہرمز میں بحری و فضائی کشیدگی عروج پر
تاہم ان کا کہنا تھا کہ تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ایسی مہمات امریکی فیصلہ سازی پر اثر ڈالنے لگیں۔
انہوں نے کہا کہ مجھے اس وقت تشویش ہوتی ہے جب بیرونی اثر و رسوخ کی ایسی کوششیں امریکی سیاسی فیصلوں کو متاثر کرنے لگیں۔
کیا اسرائیلی اثر کے بغیر امریکا جنگ میں شامل ہوتا؟
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ مضبوط مؤقف ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہییں اور وہ خود بھی اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں کیا طے پایا؟
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکا اور ایران نے فوجی کارروائیاں روکنے، آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے اور 60 روز کے اندر ایران کے جوہری پروگرام، امریکی پابندیوں اور مستقل جنگ بندی سے متعلق جامع معاہدے پر مذاکرات کرنے کا عہد کیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران کی اندرونی طاقتوں میں کشمکش کے اثرات پوری دنیا بھگت رہی ہے، سینیئر صحافی محمد عاطف
بعد ازاں 21 جون کو پاکستان اور قطر کی ثالثی میں سوئٹزرلینڈ کے شہر لوسرن میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کا پہلا دور منعقد ہوا، جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے شرکت کی۔
تکنیکی مذاکرات کا اگلا دور ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی سرکاری تدفین کی تقریبات کے باعث مؤخر کر دیا گیا، تاہم مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق برقرار ہے۔
پاکستان کی سفارتی کوششیں
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کے عمل میں پاکستان نے کلیدی ثالث کا کردار ادا کیا۔ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کرانے کے بعد اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کی میزبانی بھی کی۔
18 جون کو وزیراعظم شہباز شریف، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دشمنی کا خاتمہ اور مزید مذاکرات کا آغاز تھا۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا معاہدہ: کیا نیتن یاہو سب سے بڑے سیاسی نقصان اٹھانے والے ثابت ہوں گے؟
بعد ازاں پاکستان اور قطر نے سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے پہلے دور کی مشترکہ میزبانی کی جس کے بعد دونوں ممالک نے سفارتی پیش رفت کو حوصلہ افزا قرار دیا۔













