واشنگٹن اور تہران کے درمیان خلیجی خطے میں کشیدگی انتہائی سنگین رخ اختیار کر گئی ہے، جہاں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے مسلسل پانچویں روز بھی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کو ختم کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے ایرانی فوجی ٹھکانوں، کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاعی نظام، اور ساحلی تنصیبات پر شدید بمباری کی ہے۔
Iran attacked Kuwait, Bahrain and Jordan on July 14, claiming to have targeted the US Fifth Fleet’s command centre. The strikes followed US attacks on Iranian coastal cities and the collapse of talks. pic.twitter.com/B4pwQj43qE
— Al Jazeera English (@AJEnglish) July 15, 2026
امریکی فوج کے مطابق ان حملوں میں تنبِ بزرگ جزیرے پر ساحلی دفاعی اور کروز میزائل سائٹس، بندر عباس اور دیگر حکمت عملی کے حامل فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے تاکہ ایران کی حملہ کرنے کی صلاحیت کو مفلوج کیا جا سکے۔ اس جارحانہ کارروائی کے ساتھ ہی امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی بھی بحال کر دی ہے، جس کے تحت خبردار کیے جانے کے باوجود ایرانی جزیرے خارگ کی طرف بڑھنے والے جزائر کیوراساؤ کے پرچم بردار ایک تیل کے ٹینکر کو ہیل فائر میزائلوں سے ناکارہ بنا دیا گیا، جبکہ دو دیگر تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا۔
اس ناکہ بندی اور حملوں کے باعث عالمی سطح پر اہم ترین تیل کی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے اور خام تیل کی قیمتیں 80 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
They are carzy: A banner showing Trump in a coffin has been put up in central Tehran
The coffins of the president’s wife and children are also shown draped in American flags.
Donald Trump said strikes on Iran would continue until he says “enough” — and threatened to knock out… pic.twitter.com/VnZvAQofyV
— NEXTA (@nexta_tv) July 15, 2026
جوابی کارروائی کے طور پر پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند رکھنے کی حکمت عملی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے خطے میں امریکی اتحادیوں بشمول کویت، بحرین، اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات و مواصلاتی نظام پر خودکش ڈرونز اور میزائلوں سے حملے کیے ہیں۔ ایرانی بحریہ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کیخلاف کارروائی کی کوشش کی گئی تو خطے کے دیگر تمام توانائی کے برآمدی راہداریوں کو بھی بند کر دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ، ایران میں متعدد فوجی اہداف پر حملے
اس دوران تہران کے انقلاب چوک میں ایک بڑا بل بورڈ نصب کیا گیا ہے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تابوت میں دکھاتے ہوئے ’ہم ٹرمپ کو قتل کریں گے‘ کے الفاظ درج ہیں، جو رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تعزیتی تقاریب کے بعد پیدا ہونے والے غم وغصے کی عکاسی کرتا ہے۔
The Iranian regime has chosen to pursue destabilizing violence instead of dialogue. In response, The U.S. is imposing sanctions on more than 50 individuals, entities, and vessels that enable illicit shipping and sanctions evasion network, which is a major force behind Iran’s oil…
— Tommy Pigott (@statedeptspox) July 14, 2026
سیاسی و سفارتی محاذ پر، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران جلد شکست کھا جائے گا اور حالات پرامن ہونے پر تیل کی قیمتیں 55 ڈالر فی بیرل تک گر سکتی ہیں، تاہم انہوں نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے امکان کو رد نہیں کیا۔ ٹرمپ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایران کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش موصول ہوئی ہے۔
دوسری جانب امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ امریکا ایران میں 1,50,000 زمینی افواج بھیج کر حکومت کی تبدیلی کی پالیسی کا حصہ نہیں بنے گا اور یہ کام خود ایرانی عوام کا ہے۔ اسی گرما گرمی کے دوران ایران نے حسنِ نیت کے اظہار کے طور پر دسمبر 2024 سے قید امریکا ایرانی فلاحی کارکن دینا کراری کو آزاد کر کے امریکا روانہ کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی حکومت ہوش مندی سے کام لے ورنہ پورا خطہ پہلے سے زیادہ امریکی گرفت میں چلا جائےگا، منصور جعفر
دوسری جانب اقوامِ متحدہ نے دونوں ممالک کے درمیان جاری اس تصادم اور تجارتی گزرگاہوں کی بندش پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور انسانی حقوق کے تحفظ کی اپیل کی ہے۔














