امریکی فورسز کے ایران پر مسلسل پانچویں روز حملے، آبنائے ہرمز میں بحری و فضائی کشیدگی عروج پر

جمعرات 16 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

واشنگٹن اور تہران کے درمیان خلیجی خطے میں کشیدگی انتہائی سنگین رخ اختیار کر گئی ہے، جہاں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے مسلسل پانچویں روز بھی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کو ختم کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے ایرانی فوجی ٹھکانوں، کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاعی نظام، اور ساحلی تنصیبات پر شدید بمباری کی ہے۔

امریکی فوج کے مطابق ان حملوں میں تنبِ بزرگ جزیرے پر ساحلی دفاعی اور کروز میزائل سائٹس، بندر عباس اور دیگر حکمت عملی کے حامل فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے تاکہ ایران کی حملہ کرنے کی صلاحیت کو مفلوج کیا جا سکے۔ اس جارحانہ کارروائی کے ساتھ ہی امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی بھی بحال کر دی ہے، جس کے تحت خبردار کیے جانے کے باوجود ایرانی جزیرے خارگ کی طرف بڑھنے والے جزائر کیوراساؤ کے پرچم بردار ایک تیل کے ٹینکر کو ہیل فائر میزائلوں سے ناکارہ بنا دیا گیا، جبکہ دو دیگر تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا۔

اس ناکہ بندی اور حملوں کے باعث عالمی سطح پر اہم ترین تیل کی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے اور خام تیل کی قیمتیں 80 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں۔

جوابی کارروائی کے طور پر پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند رکھنے کی حکمت عملی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے خطے میں امریکی اتحادیوں بشمول کویت، بحرین، اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات و مواصلاتی نظام پر خودکش ڈرونز اور میزائلوں سے حملے کیے ہیں۔ ایرانی بحریہ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کیخلاف کارروائی کی کوشش کی گئی تو خطے کے دیگر تمام توانائی کے برآمدی راہداریوں کو بھی بند کر دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ، ایران میں متعدد فوجی اہداف پر حملے

اس دوران تہران کے انقلاب چوک میں ایک بڑا بل بورڈ نصب کیا گیا ہے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تابوت میں دکھاتے ہوئے ’ہم ٹرمپ کو قتل کریں گے‘ کے الفاظ درج ہیں، جو رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تعزیتی تقاریب کے بعد پیدا ہونے والے غم وغصے کی عکاسی کرتا ہے۔

سیاسی و سفارتی محاذ پر، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران جلد شکست کھا جائے گا اور حالات پرامن ہونے پر تیل کی قیمتیں 55 ڈالر فی بیرل تک گر سکتی ہیں، تاہم انہوں نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے امکان کو رد نہیں کیا۔ ٹرمپ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایران کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش موصول ہوئی ہے۔

دوسری جانب امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ امریکا ایران میں 1,50,000 زمینی افواج بھیج کر حکومت کی تبدیلی کی پالیسی کا حصہ نہیں بنے گا اور یہ کام خود ایرانی عوام کا ہے۔ اسی گرما گرمی کے دوران ایران نے حسنِ نیت کے اظہار کے طور پر دسمبر 2024 سے قید امریکا ایرانی فلاحی کارکن دینا کراری کو آزاد کر کے امریکا روانہ کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی حکومت ہوش مندی سے کام لے ورنہ پورا خطہ پہلے سے زیادہ امریکی گرفت میں چلا جائےگا، منصور جعفر

دوسری جانب اقوامِ متحدہ نے دونوں ممالک کے درمیان جاری اس تصادم اور تجارتی گزرگاہوں کی بندش پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور انسانی حقوق کے تحفظ کی اپیل کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوغت جیسے موضوعات پر بچوں کو کھل کر گائیڈ کریں، معروف ماڈل ونیزہ کا والدین کو مشورہ

انیقہ معراج ‘مس ورلڈ’ مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی پہلی خاتون بن گئیں

ایس سی او بارڈر سروسز سربراہان کا اجلاس: سرحدی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ

اپنے ہی انتخابی حلقے سے شکست کھا گئے تو پھر کبھی الیکشن نہیں لڑیں گے، وزیراعظم آزاد کشمیر

ویڈیو

’کاروبار میں آسانی‘ کی 558 اصلاحات پر پیشرفت، 468 ارب روپے سے زائد بچت متوقع، وزیراعظم

بھارت سے دریائے چناب میں پانی کی آمد 4 روز میں 21 ہزار 600 کیوسک کم، سندھ طاس معاہدے پر تشویش بڑھ گئی

جب جماعتوں میں مشاورت کی روایت کمزور پڑنے لگے تو اختلافات بڑھ جاتے ہیں، رہنما ایم کیو ایم رؤف صدیقی

کالم / تجزیہ

کیا موساد نےسابق ایرانی صدر کو آلہ کار بنا لیا تھا؟

ہمارا جھوٹ اور ان کا جھوٹ

دھڑکتے دل کا فون