.
.
امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل چھٹے روز بھی بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے، جن میں جنوبی ایران کے مختلف شہروں اور ساحلی علاقوں میں واقع شہری اور بنیادی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔
جنوبی ایران کے شہر بندر عباس کے حکام کے مطابق امریکی حملوں میں بجلی کی تنصیبات، ریلوے اسٹیشن اور دیگر شہری سہولیات کو نقصان پہنچا ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا نے ایرانی فوج کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس نے بحرین میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے پر تعینات امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا، جبکہ کویتی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔ قطری حکام کے مطابق ایرانی حملوں کو ناکام بنانے کے دوران گرنے والے میزائل کے ملبے سے ایک بچہ زخمی ہوا۔
یہ بھی پڑھیے آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر کون سے منصوبے زیرِ غور ہیں؟
ایران کی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا ہے کہ جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کبھی بھی اپنی سابقہ صورتحال میں واپس نہیں آئے گی۔ ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں نے خلیج عمان میں ایک بحری جہاز پر سوار ہو کر ایران کے خلاف نافذ بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کرایا۔
چابہار میری ٹائم کنٹرول ٹاور پر تیسری بار حملہ
الجزیرہ نے ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے حوالے سے خبر دی ہے کہ امریکی میزائل حملے میں چابہار میری ٹائم کنٹرول ٹاور کو نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یہ تیسرا موقع ہے کہ اس تنصیب پر امریکی حملہ کیا گیا ہے۔
امریکی فضائی کارروائیوں کے باعث ایران کے جنوبی ساحلی شہر اور جزائر مسلسل دوسری رات بھی شدید بمباری کی زد میں رہے۔
امریکی حملوں میں کن ایرانی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا؟
اطلاعات کے مطابق امریکی حملوں میں درج ذیل مقامات کو نشانہ بنایا گیا:
اہواز، قشم، بوشہر، دشتی، بستان، سیریک اور بندر لنگہ میں متعدد دھماکے ہوئے، جن سے بنیادی انفراسٹرکچر کو گزشتہ راتوں کے مقابلے میں زیادہ نقصان پہنچا۔
بندر خمیر کے قریب 2 پل تباہ کر دیے گئے۔
بندر عباس میں ٹپہ اللہ اکبر کے علاقے سمیت شہر کے مختلف حصوں میں دھماکے ہوئے۔
صوبہ ہرمزگان میں سڑکوں اور ریلوے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔
ایران شہر کے ہوائی اڈے پر حملے کے نتیجے میں تنصیبات کو نقصان پہنچا اور کئی علاقوں میں بجلی منقطع ہوگئی۔
کیش جزیرہ بھی فضائی حملوں کی زد میں رہا، جہاں بعض علاقوں میں عارضی طور پر بجلی بند ہوگئی۔
علاوہ ازیں امریکی فضائی حملوں میں جنوبی صوبہ ہرمزگان کے 5 پلوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ہرمزگان گورنری کے حوالے سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حملوں میں متاثر ہونے والے پلوں میں گریوہ پل بھی شامل ہے، جو بندر عباس کو خمیر اور لار سے ملاتا ہے۔ اس طرح لتی دان گاؤں کے قریب واقع ایک پل۔ کہورستان۔لار شاہراہ پر قائم دو پل۔ بندر خمیر، کشار اور بندر عباس کو ملانے والا زیرِ تعمیر پل۔ خمیر ضلع کے گاؤں مارو میں واقع ایک پل شامل بھی ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایران کی امریکا کو سخت وارننگ، حملے بڑھے تو پورا مشرقِ وسطیٰ میدانِ جنگ بن جائے گا
حملوں کے بعد متعلقہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، تاہم فوری طور پر جانی نقصان یا زخمیوں کے بارے میں کوئی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت میں امریکی فوج کی تعیناتی کے مقامات اور لاجسٹک سپورٹ مراکز کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم اپنی تاریخ، عوامی حمایت، تجربے اور جنگی تیاری پر بھروسہ کرتے ہوئے ہر قسم کے دباؤ اور دھمکی کا پوری چوکسی اور قوت کے ساتھ مقابلہ کریں گے۔
ایرانی فوج کے اس دعوے پر تاحال امریکی یا کویتی حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ حملوں سے ہونے والے ممکنہ نقصان یا جانی نقصان کی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
سینٹ کام کا دعویٰ، ایران میں بڑے پیمانے پر کارروائی کامیابی سے مکمل
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف تازہ بڑے پیمانے کی فضائی کارروائی کامیابی سے مکمل کر لی گئی ہے۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور جنگی بحری جہازوں نے انتہائی درست نشانے والے ہتھیار استعمال کرتے ہوئے ایران کی درجنوں عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
بیان میں کہا گیا کہ حملوں میں ساحلی نگرانی کے مراکز، فضائی دفاعی نظام، فوجی لاجسٹکس انفراسٹرکچر اور بحری صلاحیتوں سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی فوج کے مطابق یہ ایران پر مسلسل چھٹے روز کیے گئے حملے تھے۔
سینٹ کام نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات کے مطابق ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کیا جا رہا ہے اور تجارتی بحری جہازوں پر حالیہ حملوں کا جواب دیا جا رہا ہے۔
بیان کے مطابق مشرق وسطیٰ میں اس وقت 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں، جو مکمل طور پر چوکس اور ہر قسم کی کارروائی کے لیے تیار ہیں۔
ٹرمپ کا دعویٰ، ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کو برتری حاصل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قوم سے خطاب میں دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف اسرائیل کے ساتھ جاری مشترکہ کارروائی میں امریکا کو واضح برتری حاصل ہے۔انہوں نے کہا، ’آپ بہت جلد ان کوششوں کے نتائج دیکھیں گے۔‘
بحری ناکہ بندی کا دائرہ صرف ایرانی بندرگاہوں تک محدود
امریکی فوج نے اگرچہ حملوں کی نئی لہر کے آغاز کا اعلان کیا، تاہم اہداف، جانی نقصان یا کارروائی میں شریک فوجی یونٹوں کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔
امریکی حکام کے مطابق ایران کی بندرگاہوں سے آنے جانے والی بحری آمد و رفت پر نافذ ناکہ بندی پر سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے، تاہم امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو کوئی حفاظتی اسکورٹ فراہم نہیں کر رہی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ بحری کارروائیاں صرف ایرانی بندرگاہوں سے متعلق بحری نقل و حرکت تک محدود ہیں اور ان کا مقصد وائٹ ہاؤس کی ہدایات کے مطابق ایران پر دباؤ برقرار رکھنا ہے۔













