آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر کون سے منصوبے زیرِ غور ہیں؟

جمعہ 17 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

متحدہ عرب امارات اپنی جبل علی بندرگاہ کے بجائے خلیجِ عمان کے ساحل پر واقع فجیرہ بندرگاہ کو مستقبل میں بحری آمد و رفت کے لیے زیادہ استعمال کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جبکہ سعودی عرب اپنی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی توسیع کے ذریعے بحیرۂ احمر کے راستے تیل کی ترسیل پر انحصار بڑھانا چاہتا ہے۔ اسی طرح عراق بھی اردن اور ترکیہ کی بندرگاہوں تک پائپ لائنیں بچھا کر اپنی تیل برآمدات برقرار رکھ سکتا ہے، تاہم کویت، قطر اور بحرین ایسے ممالک ہیں جن کے لیے آبنائے ہرمز کے علاوہ متبادل راستے محدود ہیں۔ قطر دنیا کا سب سے بڑا ایل این جی برآمد کرنے والا ملک بھی ہے۔

دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے، کیونکہ دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک، جن میں سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، اسی سمندری راستے پر انحصار کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے امریکا ایران کشیدگی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی دوبارہ ناکہ بندی کا اعلان

28 فروری کو اسرائیل اور امریکا کے ایران پر حملوں کے بعد، 4 مارچ کو ایران نے آبنائے ہرمز سے تیل بردار بحری جہازوں کی آمد و رفت روک دی، جس کے بعد دنیا ایک بحرانی کیفیت سے دوچار ہو گئی۔ تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث پاکستان اور بھارت سمیت کئی ممالک مشکلات کا شکار ہوئے۔

اب 8 جولائی کو ایران کی جانب سے سعودی اور قطری پرچم بردار بحری جہازوں پر حملوں کے بعد آبنائے ہرمز ایک بار پھر بند ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

آبنائے ہرمز کی بار بار بندش اور اس سمندری راستے کے غیر محفوظ ہونے کے باعث خلیجی ممالک میں تشویش پائی جاتی ہے، جس کے پیشِ نظر وہ متبادل منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ امور کے ماہر منصور جعفر نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات آنے والے دنوں میں فجیرہ بندرگاہ کو مزید فعال بنا سکتا ہے، جبکہ سعودی عرب ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے اپنی تیل برآمدات برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا۔ تاہم خطے کے دیگر عرب ممالک کا انحصار بدستور آبنائے ہرمز پر رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اگرچہ فجیرہ بندرگاہ استعمال کر لے گا، لیکن کاروباری اعتبار سے یہ ایک مہنگا متبادل ہے، اس لیے تجارتی نقطۂ نظر سے اسے مکمل طور پر موزوں قرار نہیں دیا جا سکتا۔

سعودی عرب کا ایسٹ ویسٹ پائپ لائن منصوبہ کیا ہے؟

یہ منصوبہ دراصل 1980 کی دہائی سے جاری ہے، جس کے تحت ملک کے مشرقی حصے سے مغربی بندرگاہ ینبع تک ایک پائپ لائن بچھائی گئی ہے۔ اگر اس کی گنجائش 90 لاکھ بیرل یومیہ تک بڑھا دی جاتی ہے تو سعودی عرب اپنی تیل برآمدات کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز سے گزارے بغیر براہِ راست بحیرۂ احمر کے ذریعے یورپ اور امریکا بھیج سکے گا۔

اس سے نہ صرف ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر ممکنہ دباؤ کی اہمیت کم ہوگی بلکہ سعودی عرب کی حیثیت ایک قابلِ اعتماد توانائی سپلائر کے طور پر بھی مزید مستحکم ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے آبنائے ہرمز کی بندش: کویت کی تیل برآمدات 35 سال میں پہلی بار صفر

یہ منصوبہ وژن 2030 کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے تیل کی آمدنی کو زیادہ محفوظ بنایا جا سکے گا، بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں ریفائنری، پیٹروکیمیکل اور لاجسٹکس کے نئے مراکز قائم ہونے کی راہ ہموار ہوگی، جبکہ بحری راستے مختصر ہونے، انشورنس اور نقل و حمل کے اخراجات کم ہونے اور سعودی تیل کی عالمی مسابقت بڑھنے کی بھی توقع ہے۔

اس لحاظ سے یہ صرف ایک پائپ لائن کی توسیع نہیں بلکہ سعودی عرب کی جغرافیائی خودمختاری، معاشی تحفظ اور عالمی توانائی کی سیاست میں اپنی تزویراتی حیثیت مزید مستحکم کرنے کی جامع حکمتِ عملی کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات اور فجیرہ بندرگاہ

متحدہ عرب امارات پہلے ہی حبشان سے فجیرہ تک پائپ لائن چلا رہا ہے۔ فجیرہ خلیجِ عمان کے ساحل پر واقع ہے، یعنی آبنائے ہرمز سے باہر۔ اسی وجہ سے ابوظہبی کا خام تیل زمینی پائپ لائن کے ذریعے فجیرہ پہنچایا جاتا ہے، جہاں سے آئل ٹینکر براہِ راست بحرِ ہند کی جانب روانہ ہو جاتے ہیں۔

امارات اس نیٹ ورک کی مزید توسیع پر بھی کام کر رہا ہے تاکہ آبنائے ہرمز پر انحصار مزید کم کیا جا سکے۔

عراق، عمان اور دیگر ممالک

عراق بصرہ سے اردن کی بندرگاہ عقبہ، ترکیہ کی جیہان بندرگاہ اور دیگر راستوں تک نئی پائپ لائنوں پر کام کر رہا ہے، تاہم ان میں سے بیشتر منصوبے ابھی تک مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیے آبنائے ہرمز کی بندش سے امریکی ڈالر پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟

دوسری جانب عمان اپنی دقم بندرگاہ کو ایک بڑے علاقائی توانائی اور لاجسٹکس مرکز میں تبدیل کر رہا ہے تاکہ مستقبل میں خلیجی ممالک اپنی برآمدات کے لیے اس سے بھی فائدہ اٹھا سکیں۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت پھر بھی برقرار رہے گی

خلیجی ممالک میں سب سے زیادہ مشکل صورتِ حال قطر، کویت اور بحرین کو درپیش ہے۔

قطر دنیا کے سب سے بڑے ایل این جی برآمد کنندگان میں شامل ہے، لیکن اس کی تقریباً تمام برآمدات آبنائے ہرمز سے ہو کر گزرتی ہیں اور اس کے پاس فی الحال کوئی ایسا متبادل راستہ موجود نہیں جو آبنائے ہرمز کی مکمل جگہ لے سکے۔

اسی طرح کویت اور بحرین بھی بڑی حد تک آبنائے ہرمز پر انحصار کرتے ہیں، جس کی وجہ سے کسی بھی ممکنہ بندش کی صورت میں ان کی توانائی برآمدات شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لنکا پریمیئر لیگ سے قبل بڑا ایکشن، میچ فکسنگ کے شبہے میں بھارتی مالک گرفتار

فیفا ورلڈ کے فاتحین کو پہلی بار امریکی طرز کی انگوٹھیاں دی جائیں گی

تعطیلات خوشی سے غم میں بدل گئیں، ویڈیو کال پر ملازم کو نوکری سے برطرف کر دیا گیا

پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کے نئے امکانات، صحت اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا: چینی سفیر

3 بڑے امریکی ٹی وی چینلز نے ٹرمپ کا خطاب براہِ راست نشر کرنے سے انکار کر دیا

ویڈیو

’کاروبار میں آسانی‘ کی 558 اصلاحات پر پیشرفت، 468 ارب روپے سے زائد بچت متوقع، وزیراعظم

بھارت سے دریائے چناب میں پانی کی آمد 4 روز میں 21 ہزار 600 کیوسک کم، سندھ طاس معاہدے پر تشویش بڑھ گئی

جب جماعتوں میں مشاورت کی روایت کمزور پڑنے لگے تو اختلافات بڑھ جاتے ہیں، رہنما ایم کیو ایم رؤف صدیقی

کالم / تجزیہ

کیا موساد نےسابق ایرانی صدر کو آلہ کار بنا لیا تھا؟

ہمارا جھوٹ اور ان کا جھوٹ

دھڑکتے دل کا فون