ایم کیو ایم پاکستان کے سینیئر رہنما رؤف صدیقی نے وی نیوز کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے پارٹی کی موجودہ قیادت پر براہِ راست تنقید سے گریز کیا، تاہم ان کی گفتگو میں ایسے کئی اشارے موجود تھے جنہوں نے ایم کیو ایم پاکستان کی اندرونی سیاست، تنظیمی معاملات اور قیادت کے درمیان تعلقات پر نئی بحث چھیڑ دی۔
رؤف صدیقی نے گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا کہ سیاسی جماعتوں کی اصل طاقت ان کے کارکن، تنظیمی ڈھانچہ اور اجتماعی فیصلوں میں ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب جماعتوں میں مشاورت کی روایت کمزور پڑنے لگے اور ادارہ جاتی فیصلوں کے بجائے شخصیات نمایاں ہونے لگیں تو تنظیمی مسائل جنم لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کے لیے برداشت، مکالمہ اور اجتماعی سوچ ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کیا ایم کیو ایم کی اعلی قیادت کراچی کے میئر شپ کے خواب دیکھ رہی ہے؟
پوڈکاسٹ کے دوران جب ان سے ایم کیو ایم پاکستان کی موجودہ صورتحال، تنظیمی معاملات اور قیادت سے متعلق سوالات کیے گئے تو انہوں نے کسی بھی رہنما کا نام لینے یا براہِ راست تنقید کرنے سے گریز کیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے ہر جماعت میں موجود ہوتا ہے، مگر اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ان اختلافات کو کس انداز میں سنبھالا جائے۔ ان کے مطابق اگر اندرونی معاملات عوامی سطح پر نمایاں ہونے لگیں تو اس کا اثر جماعت کی ساکھ اور کارکنوں کے اعتماد پر بھی پڑتا ہے۔
رؤف صدیقی نے کہا کہ کارکن ہمیشہ ایک متحد، پُراعتماد اور واضح سمت رکھنے والی قیادت کی توقع رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تنظیم کے اندر اعتماد، استحکام اور ہم آہنگی کو برقرار رکھے تاکہ کارکن کسی قسم کی بے یقینی کا شکار نہ ہوں۔
انہوں نے کراچی کے مسائل، شہری سیاست اور مقامی حکومتوں کے کردار پر بھی تفصیل سے اظہارِ خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کو درپیش چیلنجز کا حل صرف سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ تمام متعلقہ قوتوں کے باہمی تعاون، بہتر حکمرانی اور مستقل پالیسیوں سے ممکن ہے۔

اپنی سیاسی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے رؤف صدیقی نے کہا کہ سیاست میں برداشت، تجربہ اور مسلسل مکالمہ ہی ایسے عناصر ہیں جو جماعتوں کو مضبوط بناتے ہیں، جبکہ اندرونی اختلافات کو غیر ضروری طور پر نمایاں کرنا کسی بھی سیاسی جماعت کے مفاد میں نہیں ہوتا۔
رؤف صدیقی نے پوری گفتگو میں ایم کیو ایم پاکستان کی موجودہ قیادت پر براہِ راست تنقید سے گریز کیا، مگر ان کے متعدد جملے پارٹی کے اندر جاری اختلافات، تنظیمی سمت اور قیادت کے باہمی تعلقات کی جانب واضح اشارے دیتے رہے۔
ان کا محتاط اندازِ گفتگو یہ ظاہر کرتا تھا کہ وہ جماعتی نظم و ضبط کی حدود میں رہتے ہوئے اپنا مؤقف پیش کرنا چاہتے ہیں، تاہم بین السطور موجود پیغامات اس تاثر کو مضبوط کرتے ہیں کہ ایم کیو ایم پاکستان کے اندرونی معاملات اب بھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئے۔













