مصر کی وزارتِ سیاحت و نوادرات کے زیرِ نگرانی ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی ٹیم نے صوبہ منیا کے تاریخی مقام جبل الطیر میں کھدائی کے دوران 5 ہزار سال پرانے 2 منفرد مقبرے دریافت کیے ہیں۔ اس دریافت کی تفصیلات سامنے آتے ہی عالمی میڈیا میں غیر معمولی جوش و جذبہ دیکھا جا رہا ہے، اور اسے اہرامِ مصر کی تعمیراتی ابتدا کو سمجھنے کی جانب ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ پُرجوش میڈیا کوریج میں ایک اہم سائنسی پہلو کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ دریافت اہرامِ مصر کی تعمیر کے پسِ منظر کو سمجھنے میں معاون ہو سکتی ہے، لیکن معروف برطانوی ماہرِ مصر قدیمات رولینڈ اینمارچ کے مطابق، یہ دریافت کوئی غیر متوقع یا حیران کن امر نہیں ہے، بلکہ یہ اس ارتقائی عمل کا حصہ ہے جس سے ماہرین پہلے ہی واقف تھے۔
خلائی مخلوق کے نظریات کی حقیقت
اہرامِ مصر انسانی تاریخ کا وہ عظیم اور حیرت انگیز شاہکار ہیں جو انسانی تہذیب کے بالکل ابتدائی دور میں تعمیر کیے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ آج بھی حیران ہیں کہ ہزاروں سال قبل بغیر کسی جدید مشینری کے زمین پر اتنی بڑی عمارتیں کیسے کھڑی کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیے بھاری مشینری کے بغیر اہرام مصر کیسے تعمیر ہوئے، معمہ حل ہوگیا
اسی حیرت کے باعث ماضی میں کچھ نظریات حقیقت سے بہت دور چلے گئے۔ مثال کے طور پر 1968 میں سوئٹزرلینڈ کے مصنف ایرک وون ڈینکن نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب Chariots of the God‘ میں یہ دعویٰ کر دیا تھا کہ اہرامِ مصر انسانوں نے نہیں بلکہ کسی ’خلائی مخلوق (Aliens) نے تعمیر کیے تھے۔ تاہم، جبل الطیر کی حالیہ دریافت ان تمام مفروضوں کو رد کرتے ہوئے یہ ثابت کرتی ہے کہ اہرام اچانک وجود میں نہیں آئے، بلکہ یہ صدیوں پر محیط انسانی مہارت اور تعمیراتی ارتقاء کا نتیجہ تھے۔
‘مصطبہ’ سے اہرام تک کا سفر
رولینڈ اینمارچ کے مطابق، جب مصر پہلی بار تقریباً 3100 قبل مسیح میں ایک متحدہ ملک بنا، تو شاہی خاندان کے افراد کو بڑے اور خوبصورت مقبروں میں دفن کیا جاتا تھا، لیکن ان مقبروں کے اوپر کوئی دیوہیکل ڈھانچہ نہیں ہوتا تھا۔
عربی زبان میں مٹی کی اینٹوں سے بنی مستطیل شکل کی ان قبروں کو ’مصطبہ‘ (جس کا مطلب بینچ ہے) کہا جاتا ہے، جن کی چھت ہموار اور دیواریں ڈھلوان ہوتی تھیں۔ سقارہ اور دیگر مقامات پر ہونے والی کھدائیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی دور کے بااثر لوگ ایسے ہی مقبروں میں دفن کیے جاتے تھے۔
یہ بھی پڑھیے اہرام مصر کا ایک اور پوشیدہ راز دریافت
اہرامِ مصر کی شکل اختیار کرنے کا یہ سفر تقریباً چند نسلوں کے اندر، یعنی 2700 سے 2600 قبل مسیح کے درمیان تیزی سے طے ہوا۔ اس ارتقاء کی سب سے پہلی اور مضبوط کڑی قاہرہ کے جنوب میں واقع ‘سقارہ’ کا سیڑھی نما اہرام ہے، جسے تیسرے شاہی خاندان کے بانی فرعون جوسر (Djoser) نے تقریباً 2670 سے 2650 قبل مسیح کے درمیان بنوایا تھا۔

تعمیراتی ٹیکنالوجی کا پہلا انقلاب
فرعون جوسر اور اس کے معمار نے ایک انقلابی فیصلہ کرتے ہوئے مقبرے کی تعمیر کے لیے مٹی کی اینٹوں کے بجائے پتھر کا استعمال شروع کیا۔ انہوں نے پہلے ایک روایتی مصطبہ (مستطیل مقبرہ) بنایا، پھر اس کے نقشے میں بار بار تبدیلیاں کرتے ہوئے اس کے اوپر مزید چھوٹے مصطبے تعمیر کیے۔ اس طرح مٹی کی اینٹوں کے بجائے مکمل طور پر پتھر سے بنا ہوا دنیا کا پہلا ’سیڑھی نما اہرام‘ وجود میں آیا۔
اس ارتقاء کا آخری مرحلہ تقریباً 2610 قبل مسیح میں فرعون سنیفرو (Sneferu) کے دور میں طے ہوا۔ سنیفرو نے جو اہرام بنوایا، وہ بھی شروع میں جوسر کے اہرام کی طرح سیڑھی نما ہی تھا، لیکن بعد میں ان سیڑھیوں کو چھپانے کے لیے ان پر چونے کے پتھر (Limestone) کی ایک ہموار تہہ چڑھا دی گئی۔ یوں دنیا کے پہلے ہموار دیواروں والے اہرام کا آغاز ہوا، جس کی سب سے بہترین شکل آج ہمیں جیزہ کے عظیم اہراموں کی صورت میں نظر آتی ہے۔














