وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری جامعات میں بھرتیوں سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ہر ناکام امیدوار شفافیت کے فقدان یا قواعد کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر بھرتی کے معاملے کو آئینی مقدمہ نہیں بنا سکتا۔
وفاقی آئینی عدالت نے یہ فیصلہ جامعہ کراچی میں پروفیسرز کی بھرتیوں سے متعلق کیس میں جاری کیا، جس میں عدالت نے کراچی یونیورسٹی کی سلیکشن کمیٹی اور سنڈیکیٹ کے فیصلے بحال کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آئینی دائرہ اختیار صرف اسی صورت میں استعمال کیا جا سکتا ہے جب بھرتیوں کے عمل کی قانونی حیثیت متاثر ہو۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری ملازمین کی سینیارٹی سے متعلق وفاقی آئینی عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا
فیصلے کے مطابق اگر ہر تقرری کے معاملے میں عدالتی جائزے کے لیے رجوع کیا جائے توعدالتیں تقرریوں کے لیے اپیل کا فورم بن جائیں گی، جو آئین کے آرٹیکل 199 کے منافی ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے مزید قرار دیا کہ عدالتوں کا تعلیمی اداروں کی تقرریوں کے لیے اپیلیٹ فورم بن جانا جامعات کی خودمختاری سے مطابقت نہیں رکھتا۔
مزید پڑھیں: اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت سے ہی بہتر عدالتی اصلاحات ممکن ہیں، چیف جسٹس پاکستان
عدالت نے کہا کہ سرکاری جامعات سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق شفاف اور منصفانہ انداز میں بھرتیوں کا عمل مکمل کریں گی۔
کیس کی سماعت کے دوران عدالت کے سامنے یہ معاملہ آیا کہ ڈاکٹر فیروز عالم جعفری نے کراچی یونیورسٹی میں پروفیسرز کی بھرتیوں کے عمل کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف سماعت کے لیے بڑا بینچ ضروری نہیں، وفاقی آئینی عدالت
سندھ ہائیکورٹ نے سلیکشن کمیٹی کی ایک رکن کے خود بھی امیدوار ہونے کی بنیاد پر بھرتیوں کا عمل کالعدم قرار دیا تھا۔
تاہم وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کراچی یونیورسٹی کی سلیکشن کمیٹی اور سنڈیکیٹ کے فیصلوں کو بحال کر دیا ہے۔
اس عدالتی فیصلے سے سرکاری جامعات میں بھرتیوں سے متعلق آئینی دائرہ اختیار اور عدالتی مداخلت کی حدود کے حوالے سے ایک اہم قانونی نظیر قائم ہو گئی۔














