امریکی خلائی کمپنی ‘اسپیس ایکس’ (SpaceX) کے سب سے طاقتور ترین راکٹ ‘اسٹار شپ’ (Starship) کی ٹیکساس سے روانگی آخری سیکنڈوں میں اس وقت روک دی گئی جب راکٹ کے کچھ انجن اسٹارٹ نہ ہونے کے باعث خودکار لانچ ابورٹ (منسوخی) کا نظام متحرک ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیے ایلون مسک کے ’اسٹار شپ‘ کے خلا میں تباہ ہونے کی ویڈیو وائرل
اسپیس ایکس کے سربراہ ایلن مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر جاری ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ راکٹ کے کچھ انجن اسٹارٹ نہ ہونے کی وجہ سے خودکار طریقے سے لانچنگ کا عمل روک دیا گیا ہے۔ تاہم، انہوں نے اپنے بیان میں ‘سپر ہیوی راکٹ’ کے ان انجنوں کی اصل تعداد نہیں بتائی جو اسٹارٹ ہونے میں ناکام رہے۔ ایلن مسک کا کہنا تھا کہ ایک بہترین اور کامیاب پرواز کے یقین کے لیے 2 ریپٹر انجنوں کو نکال کر ان کی جگہ نئے انجن لگائے جائیں گے۔ اب لانچنگ کا سب سے موزوں وقت اگلے ہفتے کا آغاز ہو سکتا ہے۔
اسٹار شپ کی یہ لانچنگ جنوبی ٹیکساس میں واقع اسپیس ایکس کے اپنے صنعتی قصبے ‘اسٹار بیس’ سے مرکزی وقت کے مطابق شام 5:45 بجے (عالمی وقت 22:45 GMT) پر ہونا طے تھی، لیکن طے شدہ وقت سے محض ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت پہلے اسے منسوخ کر دیا گیا۔ آخری لمحات میں راکٹ کے انجنوں میں آگ تو لگی لیکن وہ چند ہی سیکنڈز بعد خودکار طور پر بند ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیے اسپیس ایکس کا اسٹارشپ، 10ویں ٹیسٹ فلائٹ کی تیاریوں کا اعلان
لانچنگ منسوخ ہونے کے بعد کمپنی کی لائیو اسٹریم (براہِ راست نشریات) پر گفتگو کرتے ہوئے اسپیس ایکس کے ترجمان ڈین ہوٹ کا کہنا تھا ’جیسے ہی ہم نے ان ریپٹر انجنوں کو اسٹارٹ کرنا شروع کیا، بوسٹر کے اندر ایک رکاوٹ (ہولڈ) پیدا ہوئی جس نے خودکار نظام کے تحت ہماری لائف آف یعنی اڑان بھرنے کے عمل کو منسوخ کر دیا۔‘














