معروف ماڈل ونیزہ احمد نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں سے بلوغت، جسمانی تبدیلیوں اور ماہواری جیسے موضوعات پر بلا جھجک بات کریں تاکہ انہیں درست معلومات مل سکیں اور وہ خود کو محفوظ رکھ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: حقیقی بلوغت کی عمر کیا ہے، سائنس نے برسوں پرانا تصور چیلنج کر دیا
ونیزہ احمد نے نجی ٹی وی کے پروگرام گڈ مارننگ پاکستان” میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو جنسی ہراسانی اور شکاری رویوں سے بچانے کے لیے والدین کا کھل کر رہنمائی کرنا بے حد ضروری ہے۔
پروگرام کی میزبان ندا یاسر نے ان سے سوال کیا کہ انہوں نے اپنی بیٹیوں کو ہراسانی سے بچاؤ کے لیے کس طرح تیار کیا جس پر ونیزہ احمد نے کہا کہ میں ان معاملات میں بالکل بے جھجک ماں ہوں۔ میرے خیال میں ان موضوعات پر شرمندگی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ماؤں کو اپنی بیٹیوں اور بیٹوں دونوں سے بلکہ میاں بیوی کو بھی آپس میں ایسے موضوعات پر کھل کر بات کرنی چاہیے جبکہ بچوں کو درست معلومات دینا ضروری ہے۔
ونیزہ نے کہا کہ معاشرے میں ماہواری جیسے موضوعات کو بلاوجہ ممنوع بنا دیا گیا ہے حالانکہ اس پر کھل کر بات ہونی چاہیے تاکہ آگاہی میں اضافہ ہو۔ اس موقع پر پروگرام میں شریک انسانی حقوق کے وکیل ضیا اعوان نے کہا کہ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ کئی بالغ خواتین بھی اپنے جسم کے بارے میں مکمل آگاہی نہیں رکھتیں۔
ونیزہ احمد نے بتایا کہ انہوں نے اپنی بیٹیوں کو کم عمری ہی میں سائنسی انداز میں جسمانی ساخت اور بلوغت کے بارے میں آگاہ کیا۔
مزید پڑھیے: شدید گرمی خواتین کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ کیوں متاثر کرتی ہے؟

انہوں نے کہا کہ جب میری دونوں بیٹیاں تقریباً 5 سے 7 سال کی عمر میں تھیں تو میں نے انہیں انسانی جسم کی تشریحی تصاویر دکھائیں اور مرد و عورت دونوں کے جسمانی نظام کے بارے میں سمجھایا۔
ان کے مطابق اسی عمر میں بچوں میں تجسس زیادہ ہوتا ہے اس لیے ان کے سوالات کے درست اور سائنسی جواب دینا ضروری ہے۔
ونیزہ احمد نے کہا کہ میں نے پہلے ہی انہیں بتا دیا تھا کہ عمر کے ساتھ ان کے جسم میں کس طرح تبدیلیاں آئیں گی۔ میں نے انہیں کبھی یہ نہیں سکھایا کہ اپنے جسم سے شرمندہ ہونا چاہیے بلکہ انہیں بتایا کہ انسانی جسم کتنا خوبصورت اور حیرت انگیز نظام رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ ونیزہ احمد پاکستان کی معروف سپر ماڈل، اداکارہ اور کاروباری شخصیت ہیں، جنہوں نے سنہ 1990 اور سنہ 2000 کی دہائیوں میں فیشن انڈسٹری میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہ سماجی مسائل، خواتین کی آگاہی، بچوں کی تربیت اور والدین کے کردار سے متعلق موضوعات پر بھی کھل کر اظہارِ خیال کرتی رہتی ہیں۔
مزید پڑھیں: باپ بننے پر مرد کے جسم میں کون سی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں؟
پروگرام میں شریک ماڈل اور ماہر نفسیات عاتیہ فرید نے بھی کہا کہ نفسیاتی مشاورت ہر فرد کے لیے فائدہ مند ہے تاہم کم عمری میں جنسی ہراسانی کا شکار ہونے والے بچوں کے لیے یہ اور بھی زیادہ ضروری ہے تاکہ وہ ذہنی صدمے سے باہر آ سکیں اور اپنے جذبات کو بہتر انداز میں سنبھال سکیں۔














