ایک وقت تھا جب لندن یا کراچی کے نائن زیرو سے آنے والی ایک گمنام فون کال پر روشنیوں کا شہر کراچی سہم جاتا تھا۔ سڑکیں سنسان ہو جاتیں، بازار بند ہو جاتے اور شہر کے شٹر لمحوں میں گر جاتے تھے۔ سیاسی منظرنامے پر بھی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کا اثر و رسوخ اس قدر تھا کہ اقتدار کا ہما اکثر اسی کے آنگن میں اترتا دکھائی دیتا تھا۔ مگر وقت نے ایسی کروٹ لی کہ آج اسی جماعت کی قیادت، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور فاروق ستار، اپنے شہر میں واقع اسٹیٹ لائف بلڈنگ کے سامنے میڈیا سے گفتگو کے لیے پہنچی تو ایک نجی سیکیورٹی گارڈ نے انہیں وہاں کھڑے ہونے سے روک دیا اور پھر میڈیا ٹاک کی اجازت لینے کے لیے وکلا کو گارڈز سے منت سماجت کرنی پڑی۔
یہ بھی پڑھیں: جب جماعتوں میں مشاورت کی روایت کمزور پڑنے لگے تو اختلافات بڑھ جاتے ہیں، رہنما ایم کیو ایم رؤف صدیقی
جو جماعت کبھی پورے شہر کی سیاسی سمت کا تعین کرتی تھی آج وہ اپنی بات عوام تک پہنچانے کے لیے فٹ پاتھ جتنی جگہ کی بھی محتاج دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس سیاسی زوال کی وجوہات کیا ہیں؟ کیا یہ صرف بدلتے حالات کا نتیجہ ہے یا پھر برسوں سے جاری اندرونی اختلافات، قیادت کی کشمکش اور متنازع فیصلوں نے اس جماعت کو اس مقام تک پہنچایا؟ آئیے ان 4 بڑے عوامل کا جائزہ لیتے ہیں جنہوں نے ایم کیو ایم کی سیاست کا رخ بدل کر رکھ دیا۔
لندن سے علیحدگی کے بعد اصل مالک کون؟
22 اگست 2016 کے بعد ایم کیو ایم پاکستان تو وجود میں آ گئی مگر یہ سوال آج تک پوری طرح حل نہ ہو سکا کہ جماعت میں اصل اختیار کس کے پاس ہے۔ لندن کی قیادت سے علیحدگی کے بعد پارٹی کے اندرونی فیصلے مختلف حلقوں کے اثر و رسوخ اور اندرونی اختلافات کی نذر ہوتے چلے گئے جس سے تنظیمی یکجہتی بتدریج کمزور پڑتی گئی۔
دھڑے بندی اور سینیٹ کا پہلا بڑا بحران (2018)
سنہ2018 کے سینیٹ انتخابات میں کامران ٹیسوری کو ٹکٹ دینے کے معاملے پر پہلی بار پارٹی کھل کر دھڑوں میں تقسیم ہوتی نظر آئی۔ ڈاکٹر فاروق ستار اور رابطہ کمیٹی کے درمیان اختیارات کی کشمکش شدت اختیار کر گئی جس کے نتیجے میں فاروق ستار کو جماعت سے الگ کر دیا گیا۔ مبصرین کے مطابق یہی وہ موڑ تھا جہاں سے اندرونی تقسیم کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جس نے تنظیمی ڈھانچے کو مسلسل کمزور کیا۔
پی ایس پی کا انضمام: پرچم تو ملے، دل نہ مل سکے
جب مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی نے پاک سرزمین پارٹی ختم کر کے دوبارہ ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کی تو بظاہر یہ جماعت کی طاقت میں اضافہ محسوس ہوا مگر اندرونی اختلافات مزید گہرے ہو گئے۔
مزید پڑھیے: ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟
ایم کیو ایم کے ذرائع کے مطابق سنہ 2024 کے عام انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم کے دوران بعض رہنماؤں کی مبینہ سفارشات، جن میں فیصل واوڈا کا نام بھی لیا جاتا ہے، نے پارٹی کے اندر شدید بے چینی پیدا کی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس صورت حال پر خواجہ اظہار الحسن سمیت بعض سینیئر رہنماؤں نے سخت تحفظات کا اظہار کیا جس کے بعد اختلافات اس حد تک بڑھ گئے کہ مختلف واٹس ایپ گروپس بھی تقسیم کا شکار ہو گئے۔
ایک ذریعے کے مطابق جس حلقے سے مصطفیٰ کمال انتخابات میں حصہ لے رہے تھے، وہاں سے فیصل واوڈا کو میدان میں اتارنے کی تجویز زیر غور آئی جبکہ مصطفیٰ کمال کے لیے خواجہ اظہار الحسن کو دستبردار ہونے کا کہا گیا تاہم ذرائع کے مطابق خواجہ اظہار الحسن نے یہ تجویز فوری طور پر مسترد کر دی۔
مزید پڑھیں: ایم کیو ایم پاکستان میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کیوں لڑ رہے ہیں؟
ابتدا میں ان دعوؤں کو محض افواہیں یا پروپیگنڈا قرار دیا جاتا رہا لیکن جب بعد ازاں فیصل واوڈا ایم کیو ایم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت سے سینیٹر منتخب ہوئے تو پارٹی کے اندر ان قیاس آرائیوں کو مزید تقویت ملی۔ ذرائع کے مطابق کارکنوں اور رہنماؤں میں یہ سوال شدت سے اٹھنے لگا کہ جماعت کے اہم فیصلے آخر کہاں اور کس کی منظوری سے ہو رہے ہیں۔
آڈیو لیکس کا دھچکا اور رابطہ کمیٹی کا خاتمہ
پارٹی کے اندرونی بحران کو مزید گہرا کرنے میں سنہ 2024 کے انتخابات کے بعد سامنے آنے والی مبینہ آڈیو لیکس نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان لیکس کے بعد جماعت شدید تنقید کی زد میں آ گئی۔
بعد ازاں تقریباً 80 ارکان پر مشتمل تاریخی رابطہ کمیٹی تحلیل کر دی گئی، کنوینر کا عہدہ ختم کر کے چیئرمین کا نیا منصب قائم کیا گیا اور ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو اس ذمہ داری سونپی گئی تاہم پارٹی کے بعض حلقوں نے اس تبدیلی کو قبول نہیں کیا۔
آج صورت حال یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے مختلف دھڑوں سے وابستہ کارکن، خصوصاً خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کے حامی، ایک دوسرے کے خلاف نعرے لگاتے اور کھلے عام اختلافات کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک گروپ مبینہ طور پر ’ڈرائنگ روم کے فیصلوں‘ کو مسترد کرتا ہے، جبکہ دوسرا مخالفین پر بغاوت اور بے وفائی کے الزامات عائد کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سندھ کی گورنر شپ سے محروم ہونے کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کیا سوچ رہی ہے؟
پارٹی کے ایک اہم رہنما کے مطابق ایم کیو ایم کے زوال کی بنیادی وجہ کوئی بیرونی قوت نہیں بلکہ جماعت کے اندر برسوں سے موجود یہ بنیادی سوال ہے کہ ایم کیو ایم کا اصل فیصلہ ساز کون ہے۔ ان کے بقول جب تک اس سوال کا واضح جواب سامنے نہیں آتا، جماعت کے اندر استحکام پیدا ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے اور وہ سیاسی قوت جو کبھی اقتدار کے ایوانوں میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی تھی آج اپنی بات عوام تک پہنچانے کے لیے بھی ’مناسب جگہ‘ تلاش کرتی نظر آتی ہے۔













