ضلع خیبر میں طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث ریسکیو 1122 نے بڑے پیمانے پر امدادی آپریشن کرتے ہوئے 100 سے زائد پھنسے ہوئے افراد اور گاڑیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا، جبکہ مختلف علاقوں سے 6 افراد کی لاشیں بھی نکال لی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد، راولپنڈی، مری اور گلیات میں موسلا دھار بارش، نیلم اور مانسہرہ میں کلاؤڈ برسٹ سے تباہی
ریسکیو 1122 کے مطابق آپریشن میں 50 سے زائد اہلکاروں اور غوطہ خور ٹیموں نے حصہ لیا۔ پاک افغان شاہراہ پر سیلابی پانی میں پھنس جانے والی 100 سے زائد گاڑیوں کو بحفاظت نکالا گیا، تاہم سیلابی ریلے میں 3 گاڑیاں بہہ گئیں۔

ترجمان کے مطابق لنڈی کوتل میں دو نوجوانوں کی لاشیں برآمد کی گئیں، جبکہ جمرود کے مختلف علاقوں سے ایک بچے اور ایک خاتون سمیت مزید 4 افراد کی لاشیں نکال کر قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کے حوالے کر دی گئیں۔ ان اموات کے بعد ضلع خیبر میں سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 6 ہو گئی ہے۔

ریسکیو 1122 کا کہنا ہے کہ علی مسجد کیمپ، لنڈی کوتل، سلطان خیل، جمرود اور تختہ بیگ کے علاقوں میں سرچ اور ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے، تمام متاثرہ مقامات کو کلیئر کر کے پاک افغان شاہراہ پر ٹریفک کی روانی بھی بحال کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں 3 اگست تک ممکنہ سیلابی صورتحال، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر شارق ریاض خٹک نے کہا کہ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے چوبیس گھنٹے الرٹ ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔

ریسکیو حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ندی نالوں اور سیلابی علاقوں کے قریب نہ جائیں، بچوں کو پانی کے قریب جانے سے روکیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ہیلپ لائن 1122 پر رابطہ کریں۔














