امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک آئیں گے تو انہیں کسی صورت گرفتار نہیں کیا جائے گا۔
ٹرمپ کا یہ بیان نیویارک کے میئر زوہران مامدانی کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ شہر کا قانونی شعبہ نیتن یاہو کی ممکنہ گرفتاری کے معاملے پر غور کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کی مقامی عدالت میں ٹرمپ، نیتن یاہو اور مودی کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی استدعا پر سماعت
ٹرمپ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر بیان میں کہا کہ ’بنیامین نیتن یاہو کو امریکہ میں کسی بھی صورت، کسی بھی طریقے سے گرفتار نہیں کیا جائے گا۔‘
انہوں نے نیتن یاہو کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم ایران کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں اور ان کے مطابق ایران نے کئی برسوں سے امریکی فوجیوں اور دیگر افراد کو نقصان پہنچایا ہے۔
دوسری جانب نیویارک کے میئر زوہران مامدانی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کے خیال میں نیتن یاہو کا مقام عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) ہے۔
مامدانی نے کہا کہ ’وہ جنگی جرائم کے الزام کا سامنا کر رہے ہیں اور عالمی فوجداری عدالت نے ان کے خلاف وارنٹ جاری کیے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی اپنے خلاف کرپشن کے مقدمات میں صدارتی معافی کی درخواست
عالمی فوجداری عدالت نے نومبر 2024 میں نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا۔ عدالت نے الزام عائد کیا تھا کہ غزہ جنگ کے دوران جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے حوالے سے ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
یہ مقدمہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہونے والی غزہ جنگ سے متعلق ہے۔
نیتن یاہو کے دفتر نے عالمی فوجداری عدالت کے وارنٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’بے اختیار عدالت‘ قرار دیا اور میئر مامدانی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ عالمی فوجداری عدالت کو اسرائیل یا امریکہ کے شہریوں کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں ہے۔ بیان میں میئر مامدانی پر الزام لگایا گیا کہ وہ نیویارک کے مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے اسرائیلی قیادت کو نشانہ بنا رہے ہیں۔














