بھارت میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کی احتجاجی کال پر دہلی میں پارلیمنٹ کے قریب ہزاروں افراد جمع ہوئے تاہم احتجاج اس وقت پرتشدد رخ اختیار کر گیا جب مظاہرین نے پارلیمنٹ کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی اور پولیس سے جھڑپیں شروع ہو گئیں۔
مظاہرین کو روکنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے شیل فائر کیے اور لاٹھی چارج کیا جبکہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ بعض مظاہرین نے بیریکیڈز توڑنے اور اہلکاروں پر پتھراؤ کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
And it has finally begun.
Security personnel using lathicharge to disperse crowd at CJP protest in Delhi. pic.twitter.com/JYTNKLq0Tj
— Piyush Rai (@Benarasiyaa) July 20, 2026
احتجاج کے دوران بعض شرکاء کی جانب سے پارلیمنٹ کے خلاف دھمکی آمیز نعرے بھی لگائے گئے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں ایک نوجوان کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’اگر استعفیٰ نہیں ملا تو ہم پارلیمنٹ اکھاڑ دیں گے اور بھارت کو نیپال بنا دیں گے‘۔
Sansad Bhawan Ukhaad dega! Nepal bana diya jayegaa!
What about the education system? The youth have clearly been stirred up, but here’s a simple question: if something goes wrong today and a young students gets injured, will Abhijeet take responsibility for it? https://t.co/vHYv1FSHpm pic.twitter.com/g6LeoSRbUa
— Rattan Dhillon (@ShivrattanDhil1) July 20, 2026
ارپت شرما نے بھارتی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ اس دن کو کبھی فراموش نہیں کرے گی جب ایک بزدل حکمران نے اپنے ہی ملک کے نوجوانوں کے سامنے سکیورٹی فورسز کو ہتھیار اٹھانے کا حکم دیا۔
History will remember how a Darpok ordered Security Forces to aim weapons on the youth of the country.
The world is watching!! pic.twitter.com/0boUuWVIeq
— Arpit Sharma (@iArpitSpeaks) July 20, 2026
ایک بھارتی صارف نے لکھا کہ لگتا ہے اب مودی جی کے لیے اپنا سامان باندھ کر رخصت ہونے کا وقت آ گیا ہے۔
Lagta hai Modi ji ka Jhola uthane ka waqt aa gaya hai ….!! 😳😳 pic.twitter.com/PdnIDI7Y7D
— Priya Purohit (@Priyaa_Purohit) July 20, 2026
رپورٹس کے مطابق مظاہرین قومی میڈیکل داخلہ امتحان نیٹ (NEET) میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پرچہ لیک ہونے کے معاملے پر احتجاج کر رہے تھے اور مرکزی وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیٹ امتحان کے پرچہ لیک اسکینڈل نے بھارت کے تعلیمی نظام کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ مئی میں سامنے آنے والے اس تنازعے سے 20 لاکھ سے زائد طلبہ متاثر ہوئے، جبکہ متعدد امیدواروں کو دوبارہ امتحان دینا پڑا۔














