نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 24 جولائی تک ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث دریاؤں، ندی نالوں اور پہاڑی برساتی گزرگاہوں میں اچانک سیلاب، طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق گلگت بلتستان کے اضلاع ہنزہ، شگر اور گانچھے میں شمشال، ہنزہ، چپورسن، کلیک، شگر، شیوک اور ہُشے دریاؤں میں اچانک سیلابی ریلوں کا خدشہ ہے، جبکہ آزاد کشمیر میں دریائے جہلم، نیلم، پونچھ، مہل اور دیگر معاون ندی نالوں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:بھارت اور نیپال میں مون سون کی تباہ کاریاں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے درجنوں ہلاکتیں
خیبرپختونخوا میں دریائے چترال، کابل، سوات، پنجکوڑہ اور متعدد مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ پنجاب میں ڈی جی خان کے پہاڑی نالوں، دریائے سواں، پوٹھوہار اور دریائے چناب (مرالہ) اور دریائے جہلم (منگلا کے بالائی علاقوں) میں اونچے درجے کے سیلاب کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کے تھین، پونگ اور بھاکھڑا ڈیموں سے پانی چھوڑے جانے کی صورت میں دریائے راوی اور ستلج میں بھی پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
Flash flood alert!
🚫Kaghan Valley road is blocked- bridge connecting Naran & Kaghan towns have been swept away
🚫 Karakoram Highway has been blocked- Uchar nalla and landsliding near Gonar farm
🚫Ratti Gali partly swept owing to floods#Pakistan
— Discover Pakistan 🇵🇰 | پاکستان (@PakistanNature) August 16, 2022
راولپنڈی، جہلم، گوجرانوالہ، سرگودھا، خوشاب، سیالکوٹ، گجرات، نارووال، لاہور، اوکاڑہ، چکوال اور اٹک کے شہری علاقوں میں بھی اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
اتھارٹی نے 21 سے 23 جولائی کے دوران چترال اور گلگت بلتستان کے مختلف پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، پتھر گرنے اور ملبے کے ریلوں کا بھی الرٹ جاری کرتے ہوئے عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے۔
این ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو دریاؤں اور ندی نالوں کی مسلسل نگرانی، امدادی ٹیموں کی پیشگی تعیناتی، حساس علاقوں میں حفاظتی اقدامات اور ممکنہ طور پر بند ہونے والی شاہراہوں کی فوری بحالی کے انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
اتھارٹی نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ تیز بہاؤ کے دوران دریاؤں، ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں کو عبور کرنے سے گریز کریں اور موسم کی تازہ معلومات کے لیے ’پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ‘ موبائل ایپ سے رہنمائی حاصل کریں۔














