امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کینیڈا سے درآمد ہونے والی بیشتر اشیا پر 50 فیصد ٹیرف یعنی درآمدی محصول عائد کرنے کا اعلان کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ کینیڈا امریکی گاڑیوں، الکوحل اور ڈیری مصنوعات کے ساتھ غیر منصفانہ اور امتیازی سلوک کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کی ریاست بن جائیں، ٹیرف ختم کردیں گے، ٹرمپ کی کینیڈا کو پیشکش
اس فیصلے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہونے اور امریکا میں مہنگائی کی نئی لہر آنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار کے مطابق، کینیڈا چین کے علاوہ ان چند ممالک میں شامل تھا جنہوں نے ٹرمپ کی سابقہ ٹیرف پالیسیوں کے جواب میں جوابی اقدامات کیے، اس لیے اسے اس کا جوابدہ ٹھہرانا ضروری ہے۔
President Trump is imposing 50% tariffs on a range of Canadian goods, from hockey equipment to alcoholic beverages, escalating the trade dispute between the two countries.
The new tariffs — laid out in a series of proclamations signed by Mr. Trump on Monday — are set to take… pic.twitter.com/2WEDuAsoPp
— CBS News (@CBSNews) July 20, 2026
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عہدیدار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے 1930 کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 338 کے تحت 3 صدارتی اعلانات پر دستخط کیے ہیں، جن کے ذریعے نئے ٹیرف نافذ کیے جائیں گے۔
گزشتہ سال کئی ڈیموکریٹ ارکانِ کانگریس نے اس شق کو ختم کرنے کی تجویز دی تھی کیونکہ ان کا مؤقف تھا کہ اس کا استعمال معیشت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹیرف کے نفاذ کے بعد 50 سے زائد ممالک امریکا سے تجارتی مذاکرات کے خواہاں
نئے 50 فیصد ٹیرف کا اطلاق توانائی کی مصنوعات، پوٹاش، مچھلی اور اہم معدنیات پر نہیں ہوگا، تاہم ان اشیا پر ضرور ہوگا جو پہلے امریکا، میکسیکو اور کینیڈا تجارتی معاہدے کے تحت درآمدی محصولات سے مستثنیٰ تھیں۔
2020 میں ہونے والے اس تجارتی معاہدے کی امریکا نے تجدید نہیں کی، جس کے بعد نئے مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے اور یہ عمل 2036 تک جاری رہ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:امریکی ٹیرف پالیسی کے خلاف کینیڈا، میکسیکو کا اتحاد، چین بھی کھل کر سامنے آگیا
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق نئے ٹیرف 30 روز بعد نافذ العمل ہوں گے، جس سے قبل امریکا اور کینیڈا کے درمیان مذاکرات کے لیے وقت موجود ہوگا۔
واضح رہے کہ ماضی میں بھی صدر ٹرمپ بعض اوقات درآمدی محصولات میں اعلان کردہ اضافے پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں کر سکے تھے۔














