ٹرمپ کا کینیڈا پر بڑا معاشی وار، بیشتر اشیا پر 50 فیصد ٹیرف نافذ

منگل 21 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کینیڈا سے درآمد ہونے والی بیشتر اشیا پر 50 فیصد ٹیرف یعنی درآمدی محصول عائد کرنے کا اعلان کر دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ کینیڈا امریکی گاڑیوں، الکوحل اور ڈیری مصنوعات کے ساتھ غیر منصفانہ اور امتیازی سلوک کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کی ریاست بن جائیں، ٹیرف ختم کردیں گے، ٹرمپ کی کینیڈا کو پیشکش

اس فیصلے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہونے اور امریکا میں مہنگائی کی نئی لہر آنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار کے مطابق، کینیڈا چین کے علاوہ ان چند ممالک میں شامل تھا جنہوں نے ٹرمپ کی سابقہ ٹیرف پالیسیوں کے جواب میں جوابی اقدامات کیے، اس لیے اسے اس کا جوابدہ ٹھہرانا ضروری ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عہدیدار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے 1930 کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 338 کے تحت 3 صدارتی اعلانات پر دستخط کیے ہیں، جن کے ذریعے نئے ٹیرف نافذ کیے جائیں گے۔

گزشتہ سال کئی ڈیموکریٹ ارکانِ کانگریس نے اس شق کو ختم کرنے کی تجویز دی تھی کیونکہ ان کا مؤقف تھا کہ اس کا استعمال معیشت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹیرف کے نفاذ کے بعد 50 سے زائد ممالک امریکا سے تجارتی مذاکرات کے خواہاں

نئے 50 فیصد ٹیرف کا اطلاق توانائی کی مصنوعات، پوٹاش، مچھلی اور اہم معدنیات پر نہیں ہوگا، تاہم ان اشیا پر ضرور ہوگا جو پہلے امریکا، میکسیکو اور کینیڈا تجارتی معاہدے کے تحت درآمدی محصولات سے مستثنیٰ تھیں۔

2020 میں ہونے والے اس تجارتی معاہدے کی امریکا نے تجدید نہیں کی، جس کے بعد نئے مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے اور یہ عمل 2036 تک جاری رہ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:امریکی ٹیرف پالیسی کے خلاف کینیڈا، میکسیکو کا اتحاد، چین بھی کھل کر سامنے آگیا

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق نئے ٹیرف 30 روز بعد نافذ العمل ہوں گے، جس سے قبل امریکا اور کینیڈا کے درمیان مذاکرات کے لیے وقت موجود ہوگا۔

واضح رہے کہ ماضی میں بھی صدر ٹرمپ بعض اوقات درآمدی محصولات میں اعلان کردہ اضافے پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں کر سکے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp