قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے عدالتی اصلاحات کے فریم ورک کی منظوری دیدی

منگل 21 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے اپنے 61ویں اجلاس میں نیشنل جوڈیشل ریفارم فریم ورک کی اصولی منظوری دے دی ہے، جس میں قابلِ پیمائش کارکردگی کے معیارات اور بین الاقوامی معیار بھی شامل کیے گئے ہیں۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نیشنل جوڈیشل ریفارم فریم ورک کو ورلڈ جسٹس پراجیکٹ رول آف لا انڈیکس سے ہم آہنگ کیا گیا ہے، جس کا مقصد پاکستان میں شواہد پر مبنی عدالتی اصلاحات کو فروغ دینا، انصاف تک رسائی، شفافیت اور عدالتی نظام کی پیش گوئی کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عدالتی اصلاحات کے سلسلے میں اہم سنگ میل، نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ کا باضابطہ اجرا

چیف جسٹس آف پاکستان کی زیرِ صدارت قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس سپریم کورٹ میں منعقد ہوا، جس میں ملک بھر کی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان، وفاقی وزیر قانون و انصاف، سیکریٹری وزارتِ قانون و انصاف، پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے شرکت کی۔

کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ہائیکورٹس نیشنل جوڈیشل ریفارم فریم ورک اور انٹرنیشنل فریم ورک فار کورٹ ایکسیلنس کی سیلف اسیسمنٹ چیک لسٹ اختیار کر سکیں گی، جبکہ اصلاحاتی اقدامات کی پیش رفت کا سہ ماہی جائزہ لینے اور مؤثر رپورٹنگ کا نظام بھی قائم کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا ججز کی خالی آسامیوں پر بھرتیاں فوری مکمل کرنے کا فیصلہ

اعلامیے کے مطابق لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان اور وزارتِ قانون و انصاف فریم ورک پر عمل درآمد کے لیے خصوصی سیل قائم کریں گے، لا اینڈ جسٹس کمیشن سیکریٹریٹ رول آف لا سے متعلق اشاریوں کی نشاندہی اور توثیق کرے گا، جنہیں مرحلہ وار نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ میں شامل کیا جائے گا۔

اس مقصد کے لیے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے ایک خصوصی ٹیکنالوجی پلیٹ فارم بھی تیار کیا جائے گا، جس کے ذریعے اصلاحات کی پیشرفت کی نگرانی اور باقاعدہ رپورٹس مرتب کی جائیں گی۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں رات کو عدالتیں لگانے سے 979 ججز نے انکار کردیا

سیکریٹریٹ عدالتی شعبے میں استعدادِ کار بڑھانے کے اقدامات کو بھی مربوط کرے گا۔

کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ فریم ورک پر عمل درآمد سے متعلق پیش رفت کا جائزہ 8 اکتوبر 2026 کو ہونے والے آئندہ اجلاس میں لیا جائے گا، جبکہ پاکستان کی ورلڈ جسٹس پروجیکٹ رول آف لا انڈیکس میں سالانہ کارکردگی کا بھی باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا، جس میں ادارہ جاتی مضبوطیوں، خامیوں اور مزید اصلاحات کے لیے سفارشات شامل ہوں گی۔

قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عدالتی اصلاحات کو شواہد، قابلِ پیمائش نتائج اور بین الاقوامی معیارات کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے گا، جس سے ادارہ جاتی کارکردگی اور عوامی اعتماد میں مزید اضافہ ہوگا۔

مزید پڑھیں: انصاف پر ٹیکس؟ بائیو میٹرک فیس کے خلاف آئینی عدالت میں درخواست دائر

کمیٹی نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ جدت، شواہد پر مبنی طرزِ حکمرانی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نظامِ انصاف کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

اجلاس میں جبری گمشدگیوں سے متعلق مجوزہ کمیشن پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، کمیٹی نے اس ضمن میں حکومت کے اقدامات کو سراہا۔

وفاقی وزیر قانون و انصاف نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کمیشن کی سربراہی کے لیے سپریم کورٹ کے سابق ججز کے نام زیرِ غور ہیں اور کمیشن کی تشکیل اور قواعدِ کار جلد مکمل کر لیے جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں، وزیراعظم شہباز شریف

صدر آصف زرداری کا اقوامِ متحدہ سے مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کے لیے فعال کردار ادا کرنے کا مطالبہ

نماز کی پابندی نے ہمایوں سعید کی زندگی کیسے بدل دی؟ اداکار کا بڑا انکشاف

انگلش کپتان ہیری کین فٹ بال کے بہترین کھلاڑی قرار، بیلن ڈی اور اپنے نام کرلیا

پنجاب میں جنگلی حیات کے تحفظ کے مثبت نتائج، اڑیال کی آبادی مستحکم ہونے لگی

ویڈیو

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

نہ چار دیواری، نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، 2050 تک شدید بحران کا خدشہ

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں