وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ : فیڈرل لینڈ کمیشن کا 1996 کا حکم اور لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

منگل 21 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ لینڈ ریفارمز ریگولیشن 1972 کے تحت مجاز حکام کے حتمی فیصلوں کو دہائیوں بعد کسی انتظامی حکم کے ذریعے دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔

چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سول اپیلیں منظور کرتے ہوئے فیڈرل لینڈ کمیشن کے چیئرمین کا 22 اگست 1996 کا حکم، لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ اور اس کے نتیجے میں ہونے والا انتقال بھی کالعدم قرار دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ، مری میں 577 کنال زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کے خلاف دائر اپیلیں خارج

عدالت نے اپنے 25 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا کہ 1972 میں ڈپٹی لینڈ کمشنر اور لینڈ کمشنر کی جانب سے کیے گئے فیصلوں کو کسی اعلیٰ قانونی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا، اس لیے وہ حتمی حیثیت اختیار کر چکے تھے اور انہیں دوبارہ کھولنے یا تبدیل کرنے کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں۔

فیصلے کے مطابق 1977 میں فیڈرل لینڈ کمیشن کی کارروائی صرف اس بات تک محدود تھی کہ آیا مسماۃ حشمت حبیب الرحمٰن کے پاس کسی دوسرے ضلع میں مزید زرعی اراضی موجود تھی یا نہیں۔ اس کارروائی کا مقصد یا اثر 1972 کے حتمی ضبطی احکامات کو کالعدم کرنا یا دوبارہ کھولنا نہیں تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ فیڈرل لینڈ کمیشن کے چیئرمین نے 1996 میں اس بنیاد پر حکم جاری کیا کہ مسماۃ حشمت حبیب الرحمٰن اور ان کے شوہر الگ الگ ڈیکلیرنٹ تھے، حالانکہ یہی مؤقف مجاز حکام 1972 میں مسترد کرچکے تھے اور اس فیصلے کو کبھی قانونی طور پر چیلنج نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: آن لائن بینک فراڈ کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا شہری کے حق میں فیصلہ

وفاقی آئینی عدالت نے مزید قرار دیا کہ اراضی کی ملکیت یا بینامی ملکیت سے متعلق تنازعات انتظامی کارروائی کے ذریعے طے نہیں کیے جا سکتے، خصوصاً ایسے معاملات میں جو قانون کے مطابق پہلے ہی حتمی طور پر نمٹائے جا چکے ہوں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اپیل کنندگان 1971 سے متنازع اراضی پر سرکاری مزارع کے طور پر کاشت کر رہے تھے اور لینڈ ریفارمز ریگولیشن 1972 کے تحت انہیں اراضی کی الاٹمنٹ پر غور کیے جانے کا قانونی حق حاصل ہو چکا تھا، جسے بعد میں کسی غیر قانونی انتظامی کارروائی کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے قرار دیا کہ فیڈرل لینڈ کمیشن کے چیئرمین نے دو دہائیوں سے زائد عرصے بعد ایک ایسا معاملہ دوبارہ کھولا جو قانوناً حتمی ہو چکا تھا، اس لیے 22 اگست 1996 کا حکم قانونی اختیار سے تجاوز، لینڈ ریفارمز ریگولیشن 1972 اور حتمی فیصلوں کے مسلمہ اصولوں کے منافی تھا، لہٰذا اسے برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حکومت کا 2 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، خطے کی صورتحال اور پاک سعودی تعلقات پر تبادلہ خیال

جنوبی وزیرستان:سیکیورٹی فورسز نے خودکش حملہ ناکام بنا دیا، 4 فتنہ الخوارج دہشتگرد ہلاک

مون سون بارشیں جاری، چناب میں درمیانے درجے کے سیلاب اور کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ

ویڈیو

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

آزاد کشمیر الیکشن: گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی، کس کا پلڑا بھاری؟

پہلا ٹیسٹ: برائن لارا اسٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری

کالم / تجزیہ

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار