وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ، مری میں 577 کنال زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کے خلاف دائر اپیلیں خارج

بدھ 6 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی آئینی عدالت نے مری میں 577 کنال زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کردی ہیں۔ عدالت کی جانب سے 40 ارب روپے سے زیادہ مالیت کی زمین کا قبضہ پنجاب حکومت کے حوالے کرنے کا حکم جاری کردیا گیا۔

وفاقی آئینی عدالت کے جج جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے مؤقف اختیار کیا کہ سیٹلمنٹ اسکیم کے تحت صرف زرعی زمین کی الاٹمنٹ ممکن تھی، اور موجودہ الاٹمنٹ قانونی طور پر درست نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر بنیاد ہی غیر قانونی ہو تو اس پر قائم تعمیرات کی حیثیت بھی برقرار نہیں رہتی۔

انہوں نے مزید کہاکہ اگر درخواست گزار زرعی زمین کے بدلے کسی دعوے کا حق رکھتا ہے تو وہ متعلقہ فورم سے رجوع کر سکتا ہے۔ اس پر جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ الاٹ کی گئی زمین اس وقت کس کے زیر استعمال ہے۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ زمین کے کچھ حصے پر کوہسار یونیورسٹی قائم کی جا رہی ہے جبکہ کچھ رقبہ گرلز گائیڈ اور اسکاؤٹس کے زیر استعمال ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے پاس موجود زمین عوامی مقاصد کے لیے استعمال ہورہی ہے۔

مزید بتایا گیا کہ کچھ حصوں کا قبضہ واگزار کرایا جانا باقی ہے، جبکہ یہ زمین مری بیوٹیفکیشن منصوبے کے لیے بھی استعمال کی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp