وفاقی آئینی عدالت نے مری میں 577 کنال زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کردی ہیں۔ عدالت کی جانب سے 40 ارب روپے سے زیادہ مالیت کی زمین کا قبضہ پنجاب حکومت کے حوالے کرنے کا حکم جاری کردیا گیا۔
وفاقی آئینی عدالت کے جج جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے مؤقف اختیار کیا کہ سیٹلمنٹ اسکیم کے تحت صرف زرعی زمین کی الاٹمنٹ ممکن تھی، اور موجودہ الاٹمنٹ قانونی طور پر درست نہیں تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر بنیاد ہی غیر قانونی ہو تو اس پر قائم تعمیرات کی حیثیت بھی برقرار نہیں رہتی۔
انہوں نے مزید کہاکہ اگر درخواست گزار زرعی زمین کے بدلے کسی دعوے کا حق رکھتا ہے تو وہ متعلقہ فورم سے رجوع کر سکتا ہے۔ اس پر جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ الاٹ کی گئی زمین اس وقت کس کے زیر استعمال ہے۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ زمین کے کچھ حصے پر کوہسار یونیورسٹی قائم کی جا رہی ہے جبکہ کچھ رقبہ گرلز گائیڈ اور اسکاؤٹس کے زیر استعمال ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے پاس موجود زمین عوامی مقاصد کے لیے استعمال ہورہی ہے۔
مزید بتایا گیا کہ کچھ حصوں کا قبضہ واگزار کرایا جانا باقی ہے، جبکہ یہ زمین مری بیوٹیفکیشن منصوبے کے لیے بھی استعمال کی جائے گی۔














