چین 2030 تک سیارچے سے خلائی جہاز ٹکرانے کا منصوبہ کیوں بنا رہا ہے؟

منگل 21 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین زمین کو ممکنہ خطرناک خلائی چٹانوں سے بچانے کی تیاری کے طور پر ایک اہم خلائی تجربہ کرنے جا رہا ہے، جس میں ایک خلائی جہاز کو سیارچے 2015 ایکس ایف 261 سے ٹکرایا جائے گا۔ اس مشن کا مقصد سیارچے کا راستہ تبدیل کرنے اور زمین کے دفاعی نظام کی صلاحیت کو جانچنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چین نے لانگ مارچ-8 اے راکٹ کے ذریعے نئے سیٹلائٹس خلا میں بھیج دیے

چینی سائنس دانوں کے مطابق یہ تجربہ 2030 کے قریب کیا جا سکتا ہے۔ منصوبے کے تحت دو خلائی جہاز روانہ کیے جائیں گے، جن میں سے ایک سیارچے سے ٹکرائے گا جبکہ دوسرا محفوظ فاصلے سے اس تصادم کا مشاہدہ کرے گا اور طویل عرصے تک تبدیلیوں کا جائزہ لیتا رہے گا۔

یہ منصوبہ امریکی خلائی ادارے ناسا کے 2022 کے ڈارٹ مشن سے مختلف ہے۔ ناسا کے تجربے میں خلائی جہاز نے ایک سیارچے کے چاند نما حصے ڈائیمورفس سے ٹکرا کر اس کے مدار میں تبدیلی پیدا کی تھی، جبکہ چین کا منصوبہ ایک ایسے سیارچے کو نشانہ بنانے کا ہے جو زمین کے قریب گردش کرتا ہے اور اس کے ڈھانچے پر اثرات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: چینی خلابازوں کی واپسی مؤخر، خلائی ملبے کے ممکنہ ٹکراؤ کا شبہ

سائنس دانوں کے مطابق اس مشن سے سیارچوں کی اندرونی ساخت، کثافت، مضبوطی اور مستقبل میں زمین کو ممکنہ خطرات سے بچانے کے طریقوں کے بارے میں معلومات حاصل ہوں گی۔ تاہم 2015 ایکس ایف 261 کے بارے میں محدود مشاہدات ایک بڑا چیلنج ہیں، کیونکہ اب تک اس سیارچے کا محدود تعداد میں ہی مشاہدہ کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp