بھارت میں طلبہ پر پولیس تشدد اور داخلہ امتحانات میں پیپر لیک کے معاملے پر کانگریس کی جانب سے وزیراعظم نریندر مودی کی رہائشگاہ کے باہر کیے گئے احتجاج کے دوران پولیس نے قائد حزب اختلاف راہول گاندھی، کانگریس کی سینیئر رہنما پریانکا گاندھی اور دیگر متعدد رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔
کانگریس کی جانب سے منعقدہ احتجاج میں مظاہرین نے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی اور وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندرا پردھان کے خلاف نعرے لگائے اور وزیر تعلیم سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔
Downfall of the BJP has begun.
“Democracy in India is happening right now.”
-Rahul Gandhi
The people are asking questions, demanding accountability, and standing up for the Constitution. This is what a vibrant democracy looks like. 🇮🇳#RahulGandhi #Democracy #India… pic.twitter.com/bpaUnMuJVY
— Mr Vicki (@ParamaTapasvii) July 21, 2026
پولیس نے احتجاجی مظاہرے کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی کرتے ہوئے راہول گاندھی، پریانکا گاندھی اور کانگریس کے دیگر رہنماؤں کو گرفتار کر لیا۔
مودی نوجوانوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں، راہول گاندھی
گرفتاری سے قبل مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی پر شدید تنقید کی اور کہا کہ اگر بھارتی نوجوانوں کا تاریخ میں کوئی بدترین دشمن رہا ہے تو وہ نریندر مودی ہیں۔
انہوں نے میڈیکل اور کالجوں کے داخلہ امتحانات میں مبینہ بڑے پیمانے پر پیپر لیک اور بے ضابطگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لاکھوں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا، مگر حکومت کسی ایک بھی ذمہ دار شخص کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لا سکی۔
اصل ملزمان آزاد، طلبہ نشانے پر
راہول گاندھی نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ امتحانی اسکینڈل میں ملوث افراد آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں، جبکہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے نوجوانوں کو پولیس تشدد اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مزید پڑھیں: مودی ہاؤس کے باہر راہول اور پریانکا گاندھی کا احتجاج، طلبہ پر پولیس تشدد کا جواب مانگ لیا
انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ کو نہ صرف احتجاج کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے بلکہ انہیں وفاقی وزیر تعلیم سے استعفے کا مطالبہ کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی، جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔













