بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی اور ان کی بہن پریانکا گاندھی نے پارٹی کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کے ہمراہ وزیرِاعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کیا اور گزشتہ روز طلبہ کے مظاہرے کے دوران پولیس کارروائی پر حکومت سے جواب طلب کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ’میلونی‘ کو ’میلوڈی‘ ٹافی کھلا رہے ہیں یہ قیادت نہیں تماشا ہے، راہول گاندھی مودی پر برس پڑے
کانگریس کی جانب سے جاری ویڈیوز کے مطابق سابق وزیراعظم آنجہانی راجیو گاندھی کے بیٹے راہول گاندھی اور بیٹی پریانکا گاندھی نے پارٹی کارکنوں کے ہمراہ وزیرِاعظم ہاؤس کی جانب مارچ کیا جہاں انہوں نے حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔
راہول گاندھی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ہم وزیرِاعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ تک مارچ کرکے ان سے گزشتہ روز نوجوان طلبہ پر کیے گئے تشدد کا جواب مانگنے آئے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ طلبہ کے ساتھ ہونے والی کارروائی ناقابل قبول ہے اور حکومت کو اس حوالے سے عوام کو وضاحت دینی چاہیے۔
مزید پڑھیے: راہول گاندھی کا مودی پر بڑا الزام، ایپسٹین فائلز کی وجہ سے دباؤ میں ہونے کا دعویٰ
یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل نئی دہلی میں نوجوان طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں جن کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر بھی گردش کرتی رہیں۔
کانگریس کا کہنا ہے کہ پولیس نے طلبہ کے خلاف طاقت کا بے جا استعمال کیا جبکہ حکومت کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
بھارت میں حالیہ عرصے کے دوران اپوزیشن جماعتیں مختلف داخلی اور عوامی مسائل پر مودی حکومت کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں جبکہ کانگریس کا کہنا ہے کہ نوجوانوں، طلبہ اور عام شہریوں کے مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ہریانہ انتخابات: برازیلی ماڈل کے متعدد ووٹس، راہول گاندھی نے مودی حکومت کی دھاندلی کا پردہ فاش کردیا
دوسری جانب سیاسی مبصرین کے مطابق آئندہ دنوں میں اس معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بیان بازی میں مزید شدت آنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔













