نیپال اور بنگلہ دیش کے بعد نوجوان بھارت میں بھی سڑکوں پر، مودی حکومت کو کتنا خطرہ ہے؟

بدھ 22 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ستمبر 2025 میں نیپال میں نوجوان نسل نے حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر بے جا پابندیوں کے خلاف احتجاج شروع کیا جو نیپال میں حکومت کے خاتمے پر منتج ہوا۔

2024 میں بنگلہ دیش میں کوٹہ سسٹم کے خلاف احتجاج شروع ہوا جو حسینہ واجد کی 20 سالہ حکومت کے خاتمے پر منتج ہوا۔

مزید پڑھیں: نریندر مودی کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کرنا جرم بن گیا، راہول گاندھی کو حراست میں لے لیا گیا

اس وقت بھارتی دارالحکومت دہلی میں جنتر منتر پر 2 لاکھ سے زیادہ طلبہ کا احتجاج جاری ہے جس کا بنیادی مطالبہ تو ’امتحانی پرچوں کے لیک ہونے، تعلیمی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں اور وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ ہے‘ لیکن بھارتی حکومت کی جانب سے احتجاجی طلبہ پر ہونے والا تشدد صورتحال کو سنگین کر رہا ہے۔

دیکھنا یہ ہوگا کہ آیا موجودہ بھارتی حکومت اس احتجاج کو ختم کر پائے گی یا یہ حکومت کے خاتمے پر منتج ہوگا؟

موجودہ صورتحال

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ طلبہ اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں، ایک روز قبل مقبوضہ کشمیر سے عمر عبداللہ اور فاروق عبد اللہ بھی اس احتجاج میں شامل ہوئے، جبکہ گزشتہ روز اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی بھی احتجاج میں شریک ہوئے جبکہ پورے بھارت میں اِس احتجاجی تحریک کی حمایت کے لیے بھی مختلف شہروں میں احتجاج ہو رہے ہیں۔

بھارتی حکومت نے پنجاب سے آنے والی سڑکوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے کہ کہیں پنجاب کے کسان اس احتجاج میں شامل نہ ہو جائیں۔ بعض فلمی اداکار بھی اس احتجاج کا حصہ بن چکے ہیں جن کے خلاف حکمران جماعت مذمتی بیانات جاری کرکے پولیس سے کریک ڈاؤن کا مطالبہ کررہی ہے۔

نفرت اور تقسیم کی سیاست کو مسترد کرتی نوجوان نسل

مظاہرین میں کئی نوجوانوں کو کہتے سنا گیا کہ ہندو مسلم تقسیم پیدا کر کے یا پاکستان مخالف بیانیہ بنا کر، بی جے پی کی حکومت اصل مسائل جن میں تعلیم، صحت اور روزگار کے مسائل ہیں ان سے صرف نظر کررہی ہے۔

سپریم کورٹ جج کے ریمارکس سے جنم لینے والی جماعت حکومت کے لیے مشکل بن گئی

دارالحکومت نئی دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج نے بھارتی سیاست میں مذہبی تقسیم، بی جے پی کی پالیسیوں اور پاکستان مخالف بیانیے سے متعلق ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ احتجاج کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ بھارتی سیاست میں مذہب کو انتخابی مفادات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ حکومت عوام کو درپیش بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے جذباتی اور قومی سلامتی سے متعلق بیانیوں کو ترجیح دے رہی ہے۔

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں حکمران بی جے پی کی سیاست پر یہ تنقید مسلسل زور پکڑ رہی ہے کہ پارٹی اپنی انتخابی حکمت عملی میں ہندو قوم پرستی کو مرکزی حیثیت دیتی ہے۔

ناقدین کے مطابق بی جے پی کی سیاست کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ اکثریتی ہندو ووٹرز کو مذہبی شناخت اور قومی سلامتی کے معاملات کے ذریعے متحرک کرتی ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی، بے روزگاری، کسانوں کے مسائل، معاشی عدم مساوات اور سماجی محرومی جیسے مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔

پاکستان مخالف بیانیہ اور بھارتی سیاست

بھارتی سیاست میں پاکستان ایک مستقل سیاسی موضوع رہا ہے، لیکن بی جے پی کے دور حکومت میں پاکستان کے حوالے سے سخت مؤقف اور قومی سلامتی کا بیانیہ زیادہ نمایاں ہوا ہے۔ بی جے پی کے ناقدین کا الزام ہے کہ پاکستان کے ساتھ کشیدگی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور قومی سلامتی کے معاملات کو انتخابی سیاست میں نمایاں جگہ دی جاتی ہے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر، سرحدی کشیدگی، دہشتگردی اور پانی جیسے تنازعات پہلے ہی دونوں ممالک کے تعلقات کو پیچیدہ بنائے ہوئے ہیں۔ ایسے ماحول میں دونوں طرف کے سیاسی حلقوں کے لیے قومی سلامتی کا بیانیہ عوامی جذبات کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

کیا بھارتی نوجوان نسل تبدیل ہو رہی ہے؟

اس پوری بحث کا سب سے اہم پہلو بھارتی نوجوان نسل کا رویہ ہے، بھارت دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوان آبادی کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ لاکھوں نوجوان ہر سال تعلیم مکمل کرکے روزگار کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں۔ ان کے لیے روزگار، مہنگائی، معیاری تعلیم، ہنر، ٹیکنالوجی اور معاشی مواقع مذہبی نعروں سے کہیں زیادہ اہم مسائل ہو سکتے ہیں۔

بھارتی نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا سے جڑا ہوا ہے۔ وہ نہ صرف بھارتی میڈیا بلکہ بین الاقوامی میڈیا، آزاد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مختلف ممالک کے نقطہ نظر تک بھی رسائی رکھتا ہے۔ اس وجہ سے حکومتی بیانیے کو اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اصل تبدیلی یہ ہے کہ بھارتی نوجوان اب سیاسی جماعتوں سے صرف جذباتی نعروں کی بنیاد پر نہیں بلکہ کارکردگی، روزگار اور مستقبل کے حوالے سے سوالات بھی پوچھ رہا ہے۔

مزید پڑھیں: مودی ہاؤس کے باہر راہول اور پریانکا گاندھی کا احتجاج، طلبہ پر پولیس تشدد کا جواب مانگ لیا

اس احتجاج سے اٹھنے والا بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا بھارتی سیاست مذہبی تقسیم اور پاکستان مخالف بیانیے سے آگے بڑھ کر روزگار، معیشت، تعلیم، صحت اور سماجی ہم آہنگی جیسے موضوعات کو مرکزی حیثیت دے سکتی ہے؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حکومت کا 2 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، خطے کی صورتحال اور پاک سعودی تعلقات پر تبادلہ خیال

جنوبی وزیرستان:سیکیورٹی فورسز نے خودکش حملہ ناکام بنا دیا، 4 فتنہ الخوارج دہشتگرد ہلاک

مون سون بارشیں جاری، چناب میں درمیانے درجے کے سیلاب اور کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ

ویڈیو

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

آزاد کشمیر الیکشن: گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی، کس کا پلڑا بھاری؟

پہلا ٹیسٹ: برائن لارا اسٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری

کالم / تجزیہ

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار