پاکستان نے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کی دھمکیوں اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات پر سخت اور واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مملکت سعودی عرب کی سلامتی، بحری راستوں کے تحفظ اور خطے کے امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائےگا۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان کی سعودی عرب پر کیے گئے ڈرون حملوں کی مذمت، اظہار یکجہتی
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری پالیسی بیان میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو دی جانے والی دھمکیوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔
🔊PR No.1️⃣8️⃣1️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Press Release https://t.co/b4r1MQntcd
🔗⬇️ pic.twitter.com/liBZXUV8Mi
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) July 22, 2026
بیان میں پاکستان نے خطے کے استحکام، بحری سلامتی، عالمی تجارت کے تحفظ اور اپنے خودمختار مفادات کے دفاع کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیاکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پاکستان اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثی ایک مقامی یمنی شورش پسند گروہ سے بڑھ کر ایک علاقائی غیر ریاستی قوت میں تبدیل ہو چکے ہیں، جس نے بحیرہ احمر کو جغرافیائی سیاست اور بحری دباؤ کے ایک اہم میدان میں بدل دیا ہے۔
بیان کے مطابق تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا اور سعودی عرب کو دھمکیاں دینا صرف علاقائی سلامتی کو متاثر کرنے کی کوشش نہیں بلکہ یہ آزادی جہاز رانی، عالمی سپلائی چین اور قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام کو بھی براہ راست چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔
’سعودی عرب کی سلامتی خطے کے استحکام سے جڑی ہوئی ہے‘
پاکستان نے اپنے مؤقف میں کہاکہ سعودی عرب کی سلامتی پورے خطے کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ ریاض کی سرزمین اور بحری تجارت کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے، جو علاقائی استحکام اور عالمی توانائی کے تحفظ کے لیے اجتماعی اقدامات کی ضرورت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔
پاکستان نے واضح کیاکہ وہ تجارتی جہاز رانی کے خلاف ہر قسم کی دھمکی کو یکسر مسترد کرتا ہے اور مملکت سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد، مشترکہ سلامتی اور کئی دہائیوں پر محیط دفاعی تعاون پر استوار ہیں، اس لیے پاکستان کی حمایت صرف دوطرفہ یکجہتی کا اظہار نہیں بلکہ ایک دیرینہ اسٹریٹجک شراکت دار کی سلامتی کے لیے اس کے عزم کی بھی عکاس ہے۔
پاکستان نے خبردار کیاکہ پاکستانی پرچم بردار کسی بھی بحری جہاز یا پاکستان کے بحری مفادات کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کے خلاف براہ راست خطرہ تصور کیا جائے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسی کسی بھی صورت حال میں پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنے دفاع کے فطری اور قانونی حق کو بروئے کار لانے کا اختیار محفوظ رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پرعزم، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع سے اہم ملاقات
پاکستان نے خود کو ایک ذمہ دار علاقائی ریاست قرار دیتے ہوئے کہاکہ وہ کشیدگی میں اضافے کے بجائے مؤثر دفاعی حکمت عملی، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور مذاکرات کو خطے میں امن، بحری سلامتی اور عالمی تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانے کا بہترین ذریعہ سمجھتا ہے۔
بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار علاقائی طاقت کے طور پر مشرق وسطیٰ میں امن، محفوظ بحری راستوں، بلا تعطل عالمی تجارت اور خطے کے پائیدار استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہےگا۔














