براڈ پیک پر گزشتہ ماہ برفانی تودے کی زد میں آکر جاں بحق ہونے والی امریکی کوہ پیما سارہ میلوری گیس کی میت بیس کیمپ سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسکردو منتقل کردی گئی ہے۔
سارہ میلوری گیس ان 10 کوہ پیماؤں میں شامل تھیں جو 30 جولائی کو معروف برطانوی نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا کی سربراہی میں جانے والی مہم کے دوران براڈ پیک پر برفانی تودے کی زد میں آکر جاں بحق ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: براڈ پیک پر لاپتا پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کی لاش مل گئی
نرمل پرجا کی کمپنی نے بعد میں اعلان کیا تھا کہ حادثے میں مہم کے تمام ارکان جاں بحق ہوگئے ہیں۔
سارہ میلوری گیس ان آخری دو کوہ پیماؤں میں شامل تھیں جن کی میتیں تاحال برآمد نہیں کی جاسکی تھیں۔ ان کی میت 22 روز بعد جمعہ کو 3 مقامی پورٹرز نے تلاش کی اور اسے براڈ پیک کے بیس کیمپ منتقل کردیا تھا۔
خراب موسم کے باعث ہیلی کاپٹر آپریشن ممکن نہ ہونے کی وجہ سے میت کو فوری طور پر اسکردو منتقل نہیں کیا جاسکا۔
الپائن کلب آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ایاز شگری کے مطابق منگل کو پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے میت اسکردو پہنچائی گئی، جہاں الپائن کلب، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور طبی حکام کے نمائندوں نے اسے وصول کیا۔
یہ بھی پڑھیں: براڈ پیک سانحہ: نرمل پرجا سمیت 5 بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی لاشیں اسکردو منتقل، 2 لاپتا افراد کی تلاش جاری
بعد ازاں میت کو کمبائنڈ ملٹری اسپتال اسکردو منتقل کردیا گیا۔ ایاز شگری کے مطابق قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد میت اسلام آباد منتقل کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ مہم کے آخری رکن نوانگ تھندو شیرپا کی تلاش بھی جاری ہے۔
براڈ پیک قراقرم کے سلسلے میں واقع دنیا کا بارہواں بلند ترین پہاڑ ہے اور اسے 8 ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں میں مشکل ترین اور تکنیکی طور پر پیچیدہ چوٹیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
اسپانٹک پر پاکستانی کوہ پیما کی میت کی تلاش بھی جاری
دوسری جانب اسپانٹک پر جاں بحق ہونے والی پاکستانی کوہ پیما ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت واپس لانے کے لیے امدادی ٹیم نے بھی منگل کو اپنا سفر دوبارہ شروع کردیا۔
34 سالہ ڈاکٹر اسماء مشتاق 20 اگست کو گلگت بلتستان کے ضلع شگر میں واقع 7 ہزار 27 میٹر بلند اسپانٹک چوٹی سے اترتے ہوئے بلند مقامات پر جاں بحق ہوئی تھیں۔
ان کی میت تقریباً 6 ہزار 250 میٹر کی بلندی پر واقع کیمپ تھری میں موجود ہے۔ شدید خراب موسم کے باعث پہلے میت کی واپسی کی کوششیں متاثر ہوئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: شدید برفباری اور تیز ہوائیں، ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت کی منتقلی کا ریسکیو آپریشن مؤخر
الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق موسم بہتر ہونے کے بعد 6 بلند پہاڑی پورٹرز پر مشتمل امدادی ٹیم نے بیس کیمپ سے دوبارہ سفر شروع کیا اور کیمپ ٹو کی جانب روانہ ہوئی۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بتایا کہ موسم میں بہتری کے بعد امدادی کارروائی دوبارہ شروع کردی گئی ہے اور ٹیم احتیاط سے آگے بڑھ رہی ہے۔
الپائن کلب کے مطابق پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت بیس کیمپ پہنچنے کے بعد اسکردو منتقل کیے جانے کی توقع ہے۔
ڈاکٹر اسما مشتاق نے اسپانٹک کی 7 ہزار 27 میٹر بلند چوٹی کامیابی سے سر کی تھی اور واپسی کے وقت ان کی صحت بہتر تھی، تاہم تقریباً 6 ہزار 400 میٹر کی بلندی پر اترتے ہوئے انہیں شدید طبی پیچیدگی کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی کوہ پیما ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندیوں پر، قومی پرچم سربلند کردیا
ان کے ماؤنٹین گائیڈ اکبر علی اور مہم کے گائیڈ محمد امین نے فوری طور پر ان کی مدد کی، تاہم انتہائی دشوار موسمی حالات میں بھرپور کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہوسکیں۔
ڈاکٹر اسماء مشتاق پانچ رکنی پاکستانی خواتین کوہ پیماؤں کی ٹیم کا حصہ تھیں، جس نے اسپانٹک سر کی تھی۔ ٹیم میں زونی اسلم، زبا شگری، شما اور سوہانا بھی شامل تھیں۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں موسم کے انداز میں آنے والی تبدیلیوں نے کوہ پیمائی کے حالات مزید مشکل بنا دیے ہیں اور برفانی تودوں کے خطرات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔














