پی ٹی وی میں سنسر شپ ہمیشہ رہی، مقصد انتشار سے بچنا ہوتا ہے، شازیہ سکندر

جمعرات 23 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کی سابق سینیئر صحافی، نیوز پروڈیوسر اور تمغۂ امتیاز پانے والی شازیہ سکندر نے کہا ہے کہ پی ٹی وی میں مختلف ادوار میں سنسر شپ موجود رہی ہے، جس کا مقصد ادارے کے اندر بھی حساس معاملات پر احتیاط برتنے اور عوام میں خوف و ہراس یا انتشار سے بچنے کی پالیسی تھا۔

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں شازیہ سکندر نے کہاکہ ضیاالحق کے دور میں سنسر شپ زیادہ سخت تھی اور مختلف ادوار میں پریس سیکریٹریز اور حکومتی نمائندے بھی ادارے میں موجود رہتے تھے، جبکہ وزرا اور مشیر بھی وقتاً فوقتاً ہدایات دیتے رہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی مختلف نوعیت کی سنسر شپ موجود ہے، تاہم سوشل میڈیا اور نجی میڈیا کی موجودگی میں معلومات کو مکمل طور پر چھپانا ممکن نہیں رہا۔

انہوں نے کہاکہ ماضی میں پی ٹی وی میں بعض حساس خبروں کے حوالے سے یہ اصول بھی مدنظر رکھا جاتا تھا کہ ایسی معلومات نشر نہ کی جائیں جن سے عوام میں گھبراہٹ یا بے چینی پھیلنے کا خدشہ ہو۔

بینظیر بھٹو کی شہادت کی کوریج جذباتی لمحہ

بینظیر بھٹو کی شہادت کے روز کی لائیو کوریج کو یاد کرتے ہوئے شازیہ سکندر نے گلو گیر لہجے میں بتایا کہ یہ ان کے لیے انتہائی جذباتی اور مشکل لمحہ تھا، تاہم بطور صحافی انہوں نے پیشہ ورانہ ذمہ داری نبھاتے ہوئے نشریات جاری رکھیں اور ناظرین تک مصدقہ معلومات پہنچانے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہاکہ وہ اپنے رپورٹر نمود مسلم کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کر رہی تھیں جو انہیں جلسہ ختم ہونے کے بارے میں بتا رہے تھے کہ اسی دوران دھماکا ہوگیا اور اس کے بعد بینظیر بھٹو کی شہادت کے واقعے کی کوریج کرنا انتہائی مشکل ہوگیا کیونکہ وہ اس سانحے کی وجہ سے جذبات کا شکار ہوگئی تھیں۔

2005 کے زلزلے کے بعد موت والی خاموشی

 2005 کے تباہ کن زلزلے کی کوریج کے واقعات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کہ یہ ان کے کیریئر کے اہم ترین تجربات میں شامل ہے۔

ان کے مطابق مظفرآباد پہنچ کر ہر طرف موت والی خاموشی، تباہی اور انسانی المیے کے مناظر تھے، جبکہ ایک اسکول میں سینکڑوں بچوں کے ملبے تلے دب جانے کا منظر آج بھی ان کی یادوں میں تازہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس سانحے کے بعد پاکستانی قوم نے متاثرین کی بھرپور مدد کی اور ہر طبقے نے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

نیوز رپورٹس جو مختاراں مائی کو حکومت تک لے گئیں

شازیہ سکندر نے کہاکہ 1981 میں بطور ٹرینی نیوز پروڈیوسر پی ٹی وی میں شمولیت اختیار کی اور اس وقت خواتین کے لیے کام کا ماحول سازگار تھا۔

ان کے مطابق اگر کوئی خاتون باصلاحیت اور پیشہ ورانہ صلاحیت رکھتی تھی تو اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں بنتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اپنے کیریئر کے دوران سماجی مسائل پر رپورٹس تیار کرنے کی کوشش کی، تاہم بعض موضوعات پر کام کرنے کی حوصلہ شکنی بھی کی جاتی تھی۔

انہوں نے کہاکہ مختاراں مائی کیس پر ان کی رپورٹنگ نے حکومتی سطح پر فوری توجہ مبذول کرائی اور متاثرہ خاتون تک سرکاری امداد پہنچانے میں کردار ادا کیا۔

صحافیوں کی نئی نسل کی تربیت کی خدمات کے لیے تیار

انہوں نے کہاکہ پی ٹی وی ورلڈ کے آغاز کے بعد انہیں اس کی ذمہ داریاں سونپی گئیں اور چینل کے متعدد پروگراموں کا تصور اور ڈیزائن ان ہی کی کاوشوں کا نتیجہ تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر حکومت ان کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہے تو وہ صحافت، رپورٹنگ، نیوز رائٹنگ اور پروڈکشن کے شعبوں میں نئی نسل کی تربیت کے لیے اپنی خدمات فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

نوجوان صحافیوں، خصوصاً خواتین کے لیے اپنے پیغام میں شازیہ سکندر نے کہاکہ صحافت میں آنے والوں کو اپنے مضمون پر مکمل عبور، دیانت داری، مسلسل محنت اور وقت دینے کا جذبہ رکھنا چاہیے۔

ان کے مطابق خواتین کو اس شعبے میں کامیابی کے لیے مردوں سے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت  سے بھی خود کو ہم آہنگ رکھنا ضروری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp