سوشل میڈیا پر رقص کرتے، کرتب دکھاتے اور مختلف کام انجام دیتے چینی روبوٹس کی ویڈیوز توجہ حاصل کر رہی ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں سے بیشتر روبوٹ اب بھی مکمل طور پر خودمختار نہیں بلکہ انسانوں کے ذریعے کنٹرول کیے جاتے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک پوڈ کاسٹ میں سائبر اور ٹیکنالوجی ماہرین نے چین میں روبوٹکس کی ترقی کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ وائرل ویڈیوز اور عملی استعمال میں نمایاں فرق موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گھریلو کام، اسپتال اور کارخانوں کے لیے اب روبوٹس کرائے پر بھی دستیاب، جانیے اضافی فوائد
رپورٹ کے مطابق چین دنیا کے تقریباً 90 فیصد ہیومنائیڈ روبوٹ اور 75 فیصد صنعتی و ترسیلی روبوٹ تیار کرتا ہے، جبکہ ملک میں 400 سے زائد اقسام کے روبوٹ بنائے جارہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پر مقبول ہونے والے کئی ہیومنائیڈ روبوٹ درحقیقت دور سے انسانوں کے ذریعے کنٹرول کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر نیو نامی روبوٹ برتن صاف کرنے یا پودوں کو پانی دینے جیسے کام انجام دیتا ہے، مگر اسے ایک شخص ورچوئل ریئلٹی ہیڈ سیٹ کے ذریعے چلاتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گھریلو استعمال کے لیے تیار کیے جانے والے کئی روبوٹ بھی مکمل طور پر خودکار نہیں، بلکہ ان کی نگرانی اور رہنمائی دور بیٹھے آپریٹرز کرتے ہیں۔
البتہ میمو نامی روبوٹ کو نسبتاً جدید قرار دیا گیا، جسے تربیت دینے کے لیے انسان خصوصی دستانے اور کیمرہ پہن کر مختلف حرکات انجام دیتے ہیں، جنہیں روبوٹ بعد میں سیکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انسان یا مشین؟ چین میں جذبات سمجھنے والے حیرت انگیز حقیقی ہیومنائیڈ روبوٹس متعارف
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایک ہی روبوٹ سے تمام کام لینے کے بجائے مختلف مخصوص کاموں کے لیے الگ الگ روبوٹ زیادہ عملی ثابت ہوں گے، جیسے کپڑے تہہ کرنے، کھڑکیاں صاف کرنے یا کافی بنانے والے روبوٹ۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ چین میں ٹیکنالوجی کو جلد اپنانے کا رجحان پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے صارفین کئی ایسے روبوٹ بھی خرید لیتے ہیں جو فی الحال محدود صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں۔














