گھریلو کام، اسپتال اور کارخانوں کے لیے اب روبوٹس کرائے پر بھی دستیاب، جانیے اضافی فوائد

منگل 7 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی تیزی سے ترقی کے ساتھ اب روبوٹس کو خریدنے کے بجائے کرائے یا ماہانہ سبسکرپشن پر حاصل کرنے کا رجحان بھی تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ اسپتالوں، فیکٹریوں، ہوٹلوں، زرعی شعبے اور گھریلو استعمال کے لیے مختلف اقسام کے روبوٹس دستیاب ہیں جنہیں ضرورت کے مطابق چند دن، چند ماہ یا کئی سال کے لیے کرائے پر لیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انسان یا مشین؟ چین میں جذبات سمجھنے والے حیرت انگیز حقیقی ہیومنائیڈ روبوٹس متعارف

امریکا کے مختلف اسپتالوں میں مریض اور طبی عملہ ایک سفید رنگ کے تقریباً 4 فٹ بلند، ایک بازو والے دوستانہ روبوٹ موکسی کو روزمرہ کے کام کرتے دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔

نرسیں اکثر موکسی کو ’گڈ مارننگ‘ کہتی ہیں، ہائی فائیو دیتی ہیں اور بعض اوقات اسے گلے بھی لگا لیتی ہیں جبکہ یہ روبوٹ اپنے دل کی شکل والی ایل ای ڈی آنکھیں روشن کر کے اور بیپ بیپ کی آواز کے ذریعے جواب دیتا ہے۔

موکسی کو امریکی کمپنی ڈیلیجنٹ روبوٹکس نے تیار کیا ہے اور یہ اسپتالوں میں ادویات، طبی سامان اور دیگر ضروری اشیا ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کی ذمہ داری انجام دیتا ہے۔

کمپنی کے چیف آپریٹنگ آفیسر ٹوڈ برگر کے مطابق اس وقت تقریباً 100 موکسی روبوٹس مختلف اسپتالوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور اسپتالوں سے مسلسل یہ رائے مل رہی ہے کہ موکسی اب ان کی ٹیم کا حصہ بن چکا ہے۔

مزید پڑھیے: ملازمتوں کے لیے خطرہ ڈیلیوری روبوٹس اب شہریوں کا راستہ بھی روکنے لگے

انہوں نے بتایا کہ اسپتالوں کو موکسی خریدنے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ اسے کرائے یا سبسکرپشن پر حاصل کیا جا سکتا ہے جس سے ابتدائی اخراجات میں نمایاں کمی آتی ہے۔

ان کے مطابق چونکہ روبوٹکس ٹیکنالوجی بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اس لیے کمپنی مسلسل روبوٹس کے سافٹ ویئر اور صلاحیتوں کو بہتر بناتی رہتی ہے جبکہ دیکھ بھال، مرمت اور اپ گریڈ بھی معاہدے کا حصہ ہوتے ہیں۔

ضرورت پڑنے پر ایک ماہر انجینیئر دور بیٹھ کر بھی روبوٹ کا کنٹرول سنبھال سکتا ہے۔

صرف اسپتال نہیں ہر شعبے میں روبوٹس

اب روبوٹس صرف اسپتالوں تک محدود نہیں رہے بلکہ انہیں بارٹینڈر، زرعی کھیتوں میں خودکار جڑی بوٹیاں صاف کرنے والے روبوٹس، گوداموں، ہوٹلوں اور دیگر تجارتی مقامات پر بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

انسان نما (ہیومینوئڈ) روبوٹس بھی کرائے پر دستیاب ہونے لگے ہیں۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے تاہم ایسے روبوٹس شادیوں، نمائشوں، کارپوریٹ تقریبات اور تفریحی پروگراموں میں رقص، گانا اور مہمانوں کی خدمت جیسے کام انجام دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: اب روبوٹ صفائی، ورزش اور بزرگوں کی دیکھ بھال بھی کر سکتے ہیں، یہ قابل بھروسہ ہوں گے؟

تحقیقی ادارے کاؤنٹرپوائنٹ ریسرچ کے تجزیہ کار ایتھن چی کے مطابق روبوٹ کو رقص سکھانے کے لیے پہلے ایک حقیقی رقاص کی ویڈیو ریکارڈ کی جاتی ہے پھر اسی ویڈیو کی مدد سے مصنوعی ذہانت روبوٹ کو حرکات سکھاتی ہے تاہم زیادہ تر مواقع پر ایک انجینیئر بھی ساتھ موجود رہتا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر مداخلت کر سکے۔

گھریلو روبوٹ بھی سبسکرپشن پر

امریکی کمپنی ون ایکس رواں سال اپنے گھریلو معاون روبوٹ نیو کی فراہمی شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

صارفین اسے تقریباً 20 ہزار ڈالر میں خرید سکتے ہیں یا 499 ڈالر ماہانہ کرائے پر بھی حاصل کر سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیے: روبوٹس کے لیے اجرت طے کرنے کی تجویز، آخر یہ معاملہ کیا ہے؟

کمپنی کے نائب صدر ڈار سلیپر کا کہنا ہے کہ ماہانہ سبسکرپشن سے روبوٹ عام صارفین کی پہنچ میں آ جائے گا اور انہیں ایک ساتھ بڑی رقم ادا نہیں کرنا پڑے گی۔

کرائے پر روبوٹ لینے کے کیا فائدے ہیں؟

ماہرین کے مطابق روبوٹ خریدنے کے بجائے کرائے پر لینا اس لیے بھی فائدہ مند ہے کیونکہ ہر سال نئے اور بہتر ماڈلز متعارف ہو رہے ہیں۔

اگر کوئی شخص روبوٹ خرید لے تو وہ جلد پرانا ہو سکتا ہے جبکہ کرائے کی صورت میں صارف آسانی سے جدید ماڈل استعمال کر سکتا ہے۔

اس کے علاوہ صارفین کو پروگرامنگ یا تکنیکی مہارت کی ضرورت بھی نہیں رہتی کیونکہ تمام تکنیکی مسائل کمپنی خود حل کرتی ہے۔

فیکٹریوں میں بھی روبوٹ کرائے پر

امریکی کمپنی فارمک کے پاس 250 سے زیادہ صنعتی روبوٹس موجود ہیں، جو روبوٹ-بطور-سروس ماڈل کے تحت مختلف کمپنیوں کو فراہم کیے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں: روبوٹس کے لیے ہمارے کپڑے سینا مشکل، وہ اس کام سے ’گھبراتے‘ کیوں ہیں؟

کمپنی کے مطابق اگر روبوٹ میں کسی بھی قسم کی خرابی آ جائے تو اس کی مرمت یا متبادل روبوٹ فراہم کرنا کمپنی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس ماڈل سے چھوٹی صنعتوں کو بھی جدید روبوٹکس استعمال کرنے کا موقع ملا ہے جو پہلے مہنگے روبوٹس خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی تھیں۔

کرایہ بھی کارکردگی کے مطابق

مارکیٹ تجزیہ کار مارکو وانگ کے مطابق بعض کمپنیاں اب ایسا ماڈل بھی اختیار کر رہی ہیں جس میں روبوٹ کا کرایہ اس بنیاد پر طے کیا جاتا ہے کہ وہ کتنی انسانی محنت کی بچت کرتا ہے۔

ان کے مطابق روبوٹکس کمپنیاں کرائے کے ذریعے نہ صرف آمدنی حاصل کرتی ہیں بلکہ حقیقی ماحول میں اپنے روبوٹس کی کارکردگی کا ڈیٹا بھی جمع کرتی ہیں جس سے مستقبل میں مزید بہتر مصنوعات تیار کی جا سکتی ہیں۔

چین روبوٹکس میں آگے

چین اس وقت انسان نما روبوٹس کی تیاری اور استعمال میں دنیا کے نمایاں ممالک میں شامل ہے۔

چینی کمپنیاں اپنے روبوٹس کو ہوٹلوں، صفائی کے کاموں اور دیگر شعبوں میں آزمائش کے طور پر استعمال کر رہی ہیں جبکہ بعض کمپنیوں نے برطانیہ سمیت 17 ممالک میں کرائے پر روبوٹس فراہم کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ چین میں سرکاری مراعات کی وجہ سے کئی ادارے روبوٹس خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں تاہم دنیا کے دیگر حصوں میں کرائے یا سبسکرپشن پر روبوٹ حاصل کرنے کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے۔

مزید پڑھیے: مصنوعی ذہانت اب بھکاریوں کے پیٹ پر بھی لات مارے گی؟ ری چارجنگ کو ترستے روبوٹ نے سڑک پر ہاتھ پھیلا دیے

ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے روبوٹ مزید ذہین، قابل اعتماد اور سستے ہوتے جائیں گے، ویسے ویسے انہیں کرائے پر حاصل کرنا عام کاروباروں اور گھریلو صارفین کے لیے زیادہ عملی اور معاشی انتخاب بنتا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا میں ڈاک خدمات مہنگی، خطوط، پوسٹ کارڈز اور پارسل بھیجنے کے نئے نرخ نافذ

بھارت میں عیسائی برادری ایک بار پھر نشانے پر، چرچ پر حملہ اور توڑ پھوڑ

خواتین کو وراثت سے محروم کرنے والی قبائلی روایات غیر قانونی قرار، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پاکستان کا عالمی مالیاتی منڈیوں کا رخ، یورو بانڈ اور سکوک بانڈز جاری کرنے کا عمل شروع

ویڈیو

خیبرپختونخوا حکومت کی اپنے لیے مراعات، نئے قانون میں خاص کیا ہے؟

خیبر پختونخوا اسمبلی ایک دہائی بعد بھی مکمل پیپر لیس کیوں نہ بن سکی؟

سرگودھا میں لاہور کی طرز پر شاندار ترقیاتی کام، شہری وزیراعلیٰ مریم نواز کی خدمات کے معترف

کالم / تجزیہ

سندھ طاس: بھارت کی اسٹریٹیجک مس کیلکولیشن

فیفا فٹبال میں چھپی صدی کی کہانی

ریڈیو کا روشن باب: بھائی لال اور اوم پرکاش