سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے قلات ڈویژن کو ختم کرنے اور ضلع مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن میں شامل کرنے کے حکومتی فیصلے کو عدالت میں چیلنج کردیا ہے۔
نواب اسلم رئیسانی کی جانب سے بلوچستان ہائیکورٹ میں دائر آئینی درخواست میں حکومت بلوچستان کو فریق بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کے انتظامی ڈھانچے میں تاریخی تبدیلی، 4 نئے ڈویژنز اور اضلاع قائم، کوئٹہ 2 اضلاع میں تقسیم
نواب اسلم رئیسانی کے وکیل ریاض احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں 1973 کا آئین نافذ ہے جو شہریوں کو بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے۔
’تاہم حکومت بلوچستان نے قلات اور مستونگ کے عوام کو اعتماد میں لیے بغیر ڈویژن کی تقسیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جو بنیادی حقوق کے منافی ہے۔‘

اس موقع پر نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ سراوان اور جھالاوان سمیت متعلقہ فریقوں کو سنے بغیر فیصلہ کیا گیا، جو آئینی اور جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قلات ڈویژن کی حیثیت ختم کرکے قلات کی تاریخی اہمیت کو بھی متاثر کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ: تباہ شدہ گیس پائپ لائن کی مرمت میں تاخیر، بحالی میں کتنے دن لگیں گے؟
سابق وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ اس فیصلے سے صوبائی کابینہ کے بعض ارکان بھی متاثر ہوئے ہیں، لیکن وہ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں حالات کی بہتری کے لیے نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
مزید پڑھیں: مستونگ: بلوچستان کانسٹیبلری کی گاڑی کے قریب دھماکا، 3 اہلکار جاں بحق، 16 زخمی
نواب اسلم رئیسانی نے یہ بھی کہا کہ حکومت کسی بھی قسم کی اراضی کی خرید و فروخت یا الاٹمنٹ کے معاملات میں مقامی قبائل کو نظر انداز نہیں کر سکتی اور ایسے فیصلے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر کیے جانے چاہییں۔
انہوں نے عدالت سے حکومتی اقدام کے خلاف آئینی تحفظ فراہم کرنے کی استدعا کی۔













