نیب مقدمات میں دائرۂ اختیار کی وضاحت، ’ایک مقدمہ ایک فورم‘ کا اصول عدالتی نظام میں بہتری کی جانب اہم قدم قرار

ہفتہ 25 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قومی احتساب بیورو (نیب ) مقدمات کی سماعت کے طریقۂ کار سے متعلق ایک اہم آئینی وضاحت سامنے آ گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ جن نیب مقدمات کی دوسری اپیل وفاقی آئینی عدالت میں سنی جائے گی، ان سے متعلق ضمانت اور دیگر تمام ضمنی درخواستیں بھی اسی عدالت کے دائرۂ اختیار میں آئیں گی۔

عدالت نے واضح کیا کہ ’ایک مقدمہ، ایک فورم‘ کا اصول نہ صرف عدالتی نظام میں یکسانیت لائے گا بلکہ متضاد فیصلوں اور فورم شاپنگ جیسے رجحانات کی بھی حوصلہ شکنی کرے گا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سپریم کورٹ کی یہ آئینی تشریح عدالتی معاملات میں اختیارات کی واضح تقسیم اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگی؟ کیا یہ فیصلہ عدالتی نظام میں بہتر ہم آہنگی اور مؤثر انصاف کی راہ ہموار کرے گا؟

یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ کا اہم آئینی فیصلہ: نیب مقدمات میں اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت ہی سنے گی

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان حافظ احسان احمد کھوکھر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا حالیہ فیصلہ آئین، قانون اور عدالتی دائرۂ اختیار کے بنیادی اصولوں کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔

یہ فیصلہ دراصل آئینی اختیارات کی درست تقسیم اور قانون کی بالادستی کو مزید مضبوط بنانے کی ایک اہم مثال ہے۔

سپریم کورٹ نے قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 32 اے کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جب پارلیمنٹ نے نیب مقدمات میں دوسری اپیل کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو تفویض کر دیا ہے تو اسی مقدمے سے متعلق تمام ضمنی معاملات، جن میں ضمانت، سزا کی معطلی، بریت، سزا اور دیگر متعلقہ درخواستیں شامل ہیں، بھی اسی عدالت کے دائرۂ اختیار میں آئیں گے۔

یہ فیصلہ اس بنیادی آئینی اصول کی توثیق کرتا ہے کہ عدالتی اختیار کسی روایت، سہولت یا فریقین کی خواہش سے نہیں بلکہ آئین اور قانون سے پیدا ہوتا ہے۔

ہر عدالت کو صرف وہی اختیار حاصل ہے جو آئین یا قانون اسے فراہم کرتا ہے اور یہی اصول ایک مضبوط آئینی نظام کی بنیاد ہوتا ہے۔

حافظ احسان کھوکھر کے مطابق یہ فیصلہ عدالتی نظام میں اختیارات کی واضح تقسیم کو مزید مستحکم کرے گا اور جب مختلف عدالتوں کے دائرۂ اختیار واضح ہوں گے تو نہ صرف غیر ضروری قانونی پیچیدگیوں میں کمی آئے گی بلکہ عدالتی عمل زیادہ منظم، مؤثر اور قابلِ پیش گوئی ہوگا۔

مزید پڑھیں:نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

’ایک مقدمہ، ایک فورم‘ کا اصول بھی اسی تناظر میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک ہی مقدمے کا مرکزی معاملہ ایک عدالت میں اور اسی سے متعلق ضمنی درخواستیں کسی دوسرے فورم پر زیرِ سماعت ہوں تو اس سے مختلف فیصلوں اور عدالتی تضادات کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے اس اصول کے ذریعے اس امکان کو کم کرنے کی کوشش کی ہے کہ ایک ہی مقدمے سے متعلق تمام معاملات ایک ہی فورم پر یکجا ہو کر طے ہوں۔

قانونی اعتبار سے ضمانت یا دیگر ضمنی درخواستیں اصل مقدمے سے الگ حیثیت نہیں رکھتیں بلکہ اسی عدالتی کارروائی کا حصہ ہوتی ہیں۔

اسی وجہ سے عدالت نے قرار دیا کہ جہاں بنیادی اپیل کی سماعت کا اختیار موجود ہے، وہیں اس سے متعلقہ تمام معاملات بھی اسی فورم پر سنے جانے چاہییں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ فیصلہ قانون کی ہم آہنگ تشریح کے اصول کو بھی واضح کرتا ہے، جس کے تحت آئین اور قانون کی مختلف شقوں کو ایک دوسرے سے مربوط انداز میں سمجھا جاتا ہے تاکہ قانون ساز کے اصل مقصد کو مؤثر بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:نیب مقدمات بحال، 2 گاڑیوں میں ریکارڈ احتساب عدالت پہنچا دیا گیا

عدالت نے اسی اصول کے تحت یہ نتیجہ اخذ کیا کہ نیب مقدمات میں اپیل کے معاملات کے لیے ایک واضح اور مخصوص فورم موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ فورم شاپنگ کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ کسی بھی فریق کو اپنی سہولت یا پسند کے مطابق عدالت منتخب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، بلکہ معاملات اسی عدالت میں طے ہونے چاہییں جسے قانون نے اختیار دیا ہے۔

مجموعی طور پر یہ فیصلہ آئین کی بالادستی، عدالتی نظم و ضبط، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور انصاف کی مؤثر فراہمی کے اصولوں کو تقویت دیتا ہے۔

یہ اقدام مستقبل میں عدالتی دائرۂ اختیار کے معاملات میں مزید وضاحت پیدا کرنے اور قانونی نظام کو زیادہ منظم بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

اس حوالے سے ماہر قانون جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ آئین کی تشریح، آئینی اصولوں کی وضاحت اور آئینی معاملات پر رہنمائی فراہم کرنا آئینی عدالت کے بنیادی کردار کا حصہ ہے۔

ایک مضبوط آئینی نظام کے لیے ضروری ہے کہ آئینی عدالت اپنے فیصلوں کے ذریعے ایسے اصول وضع کرے جو اداروں کے اختیارات، ذمہ داریوں اور باہمی تعلقات کو مزید واضح بنائیں۔

مزید پڑھیں:نیب ترامیم کیس: ضمانت کے مقدمات میں سپریم کورٹ کے اختیار پر سوال، فیصلہ محفوظ

ان کا کہنا تھا کہ آئینی عدالت کے قیام کے بعد عدالتی نظام میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں آئینی معاملات کے لیے ایک مخصوص فورم قائم کیا گیا ہے۔

آنے والے فیصلے آئینی تشریح کے میدان میں مزید رہنمائی فراہم کریں گے اور ملک کے عدالتی نظام میں قانونی وضاحت، استحکام اور ہم آہنگی کو فروغ دیں گے۔

یہ عمل آئینی ارتقا کا حصہ ہے، جس کے ذریعے آئینی عدالت اپنے کردار کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھاتے ہوئے قانون کی حکمرانی اور آئینی اصولوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

ماہر آئین و قانون ایڈووکیٹ حسن رضا پاشا کے مطابق سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ درست سمت میں ایک اہم آئینی پیش رفت ہے۔

پارلیمنٹ نے نیب آرڈیننس میں ترامیم کے ذریعے متاثرہ فریق کو دوسری اپیل کا حق وفاقی آئینی عدالت کے سامنے دیا ہے، اس لیے قانونی تقاضا یہی ہے کہ اسی مقدمے سے متعلق ضمانت یا دیگر متفرق درخواستوں کی سماعت بھی اسی فورم پر کی جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایک ہی مقدمے کے مختلف مراحل کی سماعت 2 مختلف فورمز پر ہوگی تو اس سے مختلف فیصلوں یا دائرۂ اختیار کے تنازعات پیدا ہونے کا امکان موجود رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں:اوور سیز پاکستانیوں سے دھوکا دہی کرنے والوں کے مقدمات نیب کے پاس جائیں گے، سید قمر رضا

ایک مؤثر عدالتی نظام کے لیے ضروری ہے کہ کسی بھی مقدمے کو ایک ہی عدالت یا فورم کے تحت سنا جائے، چاہے معاملہ ضمانت کے مرحلے میں ہو یا اپیل کے مرحلے میں۔

’ایک مقدمہ، ایک فورم ‘ کا اصول عدالتی یکسانیت، قانونی وضاحت اور بہتر انصاف کی فراہمی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے متضاد عدالتی احکامات کے امکانات کم ہوتے ہیں اور مقدمات کی سماعت کا عمل زیادہ منظم ہو جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حکومت کا 2 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، خطے کی صورتحال اور پاک سعودی تعلقات پر تبادلہ خیال

جنوبی وزیرستان:سیکیورٹی فورسز نے خودکش حملہ ناکام بنا دیا، 4 فتنہ الخوارج دہشتگرد ہلاک

مون سون بارشیں جاری، چناب میں درمیانے درجے کے سیلاب اور کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ

ویڈیو

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

آزاد کشمیر الیکشن: گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی، کس کا پلڑا بھاری؟

پہلا ٹیسٹ: برائن لارا اسٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری

کالم / تجزیہ

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار