امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد خطے میں سفارتی سرگرمیوں میں ایک بار پھر تیزی آگئی ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات اور عسکری دباؤ برقرار ہے، تاہم تنازع کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے مختلف سطح پر رابطے جاری ہیں۔
دوسری جانب امریکی میڈیا کہ مطابق ٹرمپ کی جانب سے امریکی صدر نے ایران پر ایک روز کے لیے حملے روکنےکا حکم دیا ہے۔ ٹرمپ کا خیال ہے کہ مزید بڑے پیمانے پر جنگ میں الجھے بغیر سفارت کاری کو موقع دینا زیادہ مناسب ہوگا۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران کشیدگی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی دوبارہ ناکہ بندی کا اعلان
واضح رہے کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف ممالک نے سفارتی کوششیں تیز کردی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سفارتی راستہ کھلا رہنا چاہیے اور مزید کشیدگی سے گریز ضروری ہے، جبکہ ایران نے بھی مذاکرات کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔
اسی تناظر میں پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں خطے کی مجموعی صورتحال، امن و استحکام اور کشیدگی کم کرنے کے لیے ممکنہ سفارتی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
تاہم دونوں ممالک کے مؤقف میں موجود اختلافات کے باعث امن کی کوششیں اب بھی ایک مشکل مرحلے میں ہیں۔ ایسے میں اہم سوال یہ ہے کہ کیا تصادم کے بعد امریکا اور ایران مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی راہ تلاش کر رہے ہیں؟ اور اب دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی بحالی میں بڑی رکاوٹیں کیا ہیں؟
مسائل کا حل مسلسل مذاکرات میں ہی ہے، آصف درانی
سابق پاکستانی سفارتکار اور خارجہ امور کے ماہر آصف درانی نے کہاکہ امریکا اور ایران کے درمیان موجودہ کشیدگی کا پائیدار حل فوجی کارروائیوں یا میزائلوں کے تبادلے میں نہیں بلکہ مؤثر سفارت کاری اور مسلسل مذاکرات میں ہے۔
انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم ماضی کی طرح اس بار بھی بات چیت کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے، جو ایک مثبت پیشرفت ہے۔
آصف درانی کے مطابق تنازع کے حل کے لیے دونوں جانب سے سیاسی عزم اور لچک کا مظاہرہ ضروری ہوگا۔ ان کے بقول ایک طرف امریکا ایک سپر پاور ہونے کے باعث اپنے مؤقف سے آسانی سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں، جبکہ دوسری جانب ایران اپنی جغرافیائی اہمیت اور خطے میں اثرورسوخ کی بنیاد پر دباؤ قبول کرنے سے گریز کرتا ہے، یہی عوامل کسی بھی فوری سمجھوتے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اگر علاقائی ممالک اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھتے ہیں اور دونوں فریق کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز کرتے ہیں تو مذاکرات کی بحالی کے امکانات موجود ہیں۔
ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں جنگ کے بجائے سفارت کاری ہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف خطے میں استحکام لا سکتا ہے بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد سازی کے عمل کو بھی دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔
باہمی اعتماد کا فقدان مذاکرات کی بحالی میں بڑی رکاوٹ ہے، مسعود خالد
سابق سفیر مسعود خالد کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ باہمی اعتماد کا فقدان ہے۔
انہوں نے کہاکہ ماضی میں بھی مذاکراتی عمل کے دوران ایران پر حملے ہوئے، جس کے باعث تہران کو یہ خدشہ ہے کہ امریکا اپنے وعدوں اور یقین دہانیوں پر مکمل طور پر قائم نہیں رہتا۔ یہی عدم اعتماد ایران کو کسی بھی نئی پیشرفت میں انتہائی محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کررہا ہے۔
تاہم مسعود خالد کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں نہ امریکا اور نہ ہی ایران ایک نئی اور طویل جنگ کے خواہاں ہیں۔ ان کے بقول حالیہ اقدامات اور بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پس پردہ سفارتی رابطے جاری ہیں اور دونوں فریق کشیدگی کو مزید بڑھانے کے بجائے سیاسی حل کے امکانات بھی کھلے رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کے ساتھ ساتھ قطر، سعودی عرب، عمان، ترکیہ اور دیگر علاقائی ممالک بھی خاموش سفارت کاری کے ذریعے دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کررہے ہیں۔
تاہم ان کے مطابق اس عمل کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ امریکا اور ایران اعتماد سازی کے لیے عملی اقدامات کرتے ہیں یا نہیں، کیونکہ سخت بیانات، جوابی کارروائیاں اور ایک دوسرے کے ارادوں پر شکوک مذاکراتی عمل کو مسلسل متاثر کررہے ہیں۔
ان کے بقول اگر اعتماد کی اس خلیج کو کم کرنے میں پیشرفت ہوتی ہے تو امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوبارہ آغاز خارج از امکان نہیں۔
امریکا ایران پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے، فیضان ریاض
انٹرنیشنل پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے اسسٹنٹ ریسرچ ایسوسی ایٹ فیضان ریاض کے مطابق حالیہ کشیدگی کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران دوبارہ مذاکرات کی راہ تلاش کررہے ہیں۔
’صدر ٹرمپ کی جانب سے سفارتی راستہ کھلا رکھنے کا بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکا ایک مہنگی اور وسیع جنگ سے بچنا چاہتا ہے، لیکن دوسری طرف ایران پر دباؤ بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔‘
انہوں نے کہاکہ دوسری طرف ایران بھی جانتا ہے کہ امریکا کے ساتھ براہِ راست جنگ اسے معاشی اور عسکری نقصان پہنچا سکتی ہے، اس لیے وہ بھی بات چیت کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کررہا۔ اسی وجہ سے پس پردہ رابطوں اور بالواسطہ پیغامات کے ذریعے دونوں ممالک کشیدگی کم کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ دونوں اپنی اندرونی سیاست میں کمزور بھی دکھائی نہیں دینا چاہتے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ باضابطہ مذاکرات کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ باہمی اعتماد کا فقدان اور اختلافات کا دائرہ ہے۔ ایران کو خدشہ ہے کہ 2018 میں جوہری معاہدے سے امریکا کی علیحدگی کے بعد کسی بھی نئے معاہدے کی ضمانت نہیں ہوگی، اس لیے وہ پہلے پابندیوں میں نرمی چاہتا ہے۔
’دوسری جانب امریکا اور اس کے اتحادی چاہتے ہیں کہ مذاکرات صرف ایران کے جوہری پروگرام تک محدود نہ ہوں بلکہ اس کے میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے کردار پر بھی بات ہو، جسے ایران ناقابلِ قبول قرار دیتا ہے۔‘
مزید پڑھیں: پاکستان کا امریکا ایران کشیدگی پر اظہار تشویش، برادر ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ
انہوں نے کہاکہ جب تک کسی تیسرے فریق کی ثالثی سے ایسا قابلِ قبول فارمولا سامنے نہیں آتا جس پر دونوں متفق ہوں، اور یہ طے نہیں ہو جاتا کہ پہلے کون سا فریق عملی قدم اٹھائے گا، اس وقت تک باضابطہ مذاکرات کی بحالی مشکل دکھائی دیتی ہے، اگرچہ دونوں ممالک جنگ کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دیتے نظر آتے ہیں۔













