پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن نے کہا ہے کہ گندم درآمد کے معاملے میں شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور عوام کو بتایا جائے کہ درآمد کرنے والی کمپنیوں کے پیچھے کون ہے۔
اسلام آباد میں سعید غنی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ندیم افضل چن نے کہا کہ زراعت پنجاب حکومت کی ترجیح نہیں رہی، جبکہ کسانوں کو گندم کے معاملے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مقامی کسانوں سے گندم خریدنے کے بجائے درآمد کو ترجیح دی، جس سے کاشتکار اور عام شہری دونوں متاثر ہوئے۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات شفاف اور غیر جانبدارانہ کرائے جائیں، ندیم افضل چن کا مطالبہ
انہوں نے مطالبہ کیا کہ گندم درآمد میں ملوث 11 کمپنیوں کی تحقیقات کی جائیں اور کسانوں سے گندم نہ خریدنے کی پالیسی پر نظرثانی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاسکو جیسے اداروں کو ختم کرنے کے فیصلوں پر بھی دوبارہ غور ہونا چاہیے۔
ندیم افضل چن نے کہا کہ حکومت عوامی مسائل، مہنگائی اور روزگار کے حوالے سے جواب دہ ہے۔ ان کے بقول حکومت ایک طرف کاروبار نہ کرنے کی بات کرتی ہے جبکہ دوسری طرف نجی کمپنیوں کے ذریعے معاملات چلائے جا رہے ہیں، اس لیے قومی اداروں اور اثاثوں سے متعلق فیصلوں میں مکمل شفافیت ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر میں آٹے اور گندم کی فراہمی کے مسائل فوری حل کیے جائیں، جبکہ گندم کی ترسیل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور رشوت کے معاملات کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں۔
پیپلز پارٹی رہنما نے تعلیم کے شعبے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غریب اور متوسط طبقے کے بچے سرکاری اسکولوں پر انحصار کرتے ہیں، لیکن وہاں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، آبپاشی، صفائی اور سیوریج کے منصوبوں سمیت مختلف شعبوں میں نجی کمپنیوں کے ذریعے کیے جانے والے کاموں کا شفاف جائزہ لیا جانا چاہیے۔
مزید پڑھیں:سیلاب سے خراب گندم نیلام کرنے کی تجویز، نقصان ایس پی وی کو منتقل کرنے کی سفارش
ندیم افضل چن نے کہا کہ حکومت کو سیاسی محاذ آرائی کے بجائے گورننس، شفاف انتخابات اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کے مطابق عوام کو صرف دعووں کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔














