سیلاب سے خراب گندم نیلام کرنے کی تجویز، نقصان ایس پی وی کو منتقل کرنے کی سفارش

منگل 14 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے وفاقی حکومت سے درخواست کی ہے کہ سیلاب سے خراب ہونے والی گندم کے باعث ہونے والے مالی نقصان کو خصوصی مقصد کے ادارے (ایس پی وی) میں منتقل کیا جائے، جبکہ پاکستان زرعی ذخیرہ و خدمات کارپوریشن (پاسکو) کو خراب گندم کھلی نیلامی کے ذریعے فروخت کرنے کی اجازت دی جائے۔

وزارت نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو بتایا کہ پاسکو کے پاس موجود 8 ہزار 197 اعشاریہ 989 میٹرک ٹن خراب گندم کو ‘جہاں ہے، جیسی ہے’ کی بنیاد پر سرکاری خریداری کے قواعد کے تحت کھلی مسابقتی بولی کے ذریعے نیلام کرنے کی منظوری دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا کے سرکاری گوداموں میں ہزاروں ٹن گندم خراب، وجہ کیا ہے؟

وزارت کے مطابق اس گندم کی تخمینی مالیت ایک ارب 4 کروڑ 90 لاکھ روپے ہے، تاہم حتمی مالی نقصان کا تعین نیلامی سے حاصل ہونے والی آمدنی کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

بتایا گیا کہ پاسکو کے بورڈ نے اپنے 160ویں اجلاس میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی، جس میں پاسکو، وزارتِ غذائی تحفظ اور زرعی ترقیاتی بینک کے نمائندے شامل تھے۔ کمیٹی نے 23 دسمبر 2025 کو کام شروع کیا اور 30 جنوری 2026 کو رپورٹ پیش کی، جس میں حافظ آباد، علی پور اور ڈیرہ اللہ یار کے مراکز میں موجود 8 ہزار 197 اعشاریہ 989 میٹرک ٹن گندم کو نقصان زدہ قرار دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق تجربہ گاہوں میں کیے گئے تجزیے سے ثابت ہوا کہ یہ گندم انسانی استعمال کے لیے موزوں نہیں رہی۔

وزارت نے ای سی سی کو آگاہ کیا کہ سیٹ پور کے مراکز میں طویل عرصے تک پانی میں ڈوبے رہنے کے باعث گندم کے وزن میں 20 سے 30 فیصد تک کمی واقع ہوئی۔ بعد ازاں سائنسی و تکنیکی جائزے اور پاکستان کونسل برائے سائنسی و صنعتی تحقیق، پنجاب فوڈ ڈیپارٹمنٹ سمیت دیگر اداروں کی مشترکہ جانچ میں بھی 18 سے 30 فیصد وزن میں کمی کی تصدیق ہوئی، جس کا انحصار ذخیرہ کرنے کے طریقہ کار اور مقامی یا درآمدی گندم پر تھا۔

یہ بھی پڑھیں: لاڑکانہ، کشمور اور کندھ کوٹ کے سرکاری گوداموں سے 24 ہزار میٹرک ٹن گندم کیسے غائب ہوئی؟

وزارت نے مؤقف اختیار کیا کہ 2022 میں سیلاب سے خراب ہونے والی گندم کا نقصان پاسکو کے مالی حسابات میں شامل کر کے شیئر ہولڈرز پر تقسیم کیا گیا تھا، تاہم 2025 کی صورتحال مختلف ہے کیونکہ مسلسل نقصانات کے باعث کمپنی کی شیئر ہولڈرز ایکویٹی منفی ہو چکی ہے، اس لیے مزید نقصان ان پر ڈالنا قانونی اور مالی طور پر ممکن نہیں۔

وزارت نے بتایا کہ پاسکو کی بندش کے عمل کے دوران وفاقی حکومت پہلے ہی ایک خصوصی مقصد کا ادارہ (ایس پی وی) قائم کر چکی ہے تاکہ ادارے کی ذمہ داریاں اس میں منتقل کی جا سکیں، اسی لیے اس نقصان کو بھی اسی ادارے میں منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

وزارت نے مزید بتایا کہ پاسکو بورڈ کے 157ویں اجلاس میں حقائق جاننے کے لیے انکوائری کا حکم دیا گیا تھا۔ 7 اکتوبر 2025 کی انکوائری رپورٹ میں قرار دیا گیا کہ گندم کو نقصان قدرتی آفت کے باعث پہنچا اور عملے کی جانب سے کسی قسم کی غفلت ثابت نہیں ہوئی، لہٰذا خراب گندم کو فوری طور پر کھلی نیلامی کے ذریعے فروخت کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں گندم کی 8 لاکھ بوریاں خراب ہونے کا انکشاف، معاملہ کیا ہے؟

اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے اس تجویز کو پاسکو کی بندش کے تناظر میں ایک انتظامی ضرورت قرار دیا، تاہم وفاقی وزرائے تجارت اور توانائی نے اس بات پر زور دیا کہ نیلامی کا پورا عمل شفاف بنایا جائے، اس کی آزادانہ تصدیق کرائی جائے اور گندم کو انسانی استعمال کے لیے غیر موزوں قرار دینے کے دعوے کو مضبوط سائنسی شواہد سے ثابت کیا جائے۔

وزارتِ غذائی تحفظ نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ خراب گندم کی جلد از جلد فروخت یقینی بنائی جائے گی اور نیلامی کے پورے عمل کی تیسرے فریق سے بھی تصدیق کرائی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد: پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹیلی نار پاکستان کے یوفون میں انضمام کی منظوری دے دی

ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کیسز: 37 ملازمین معطل، 10 کو شوکاز نوٹس

وفاقی حکومت چھوڑنے کا ارادہ نہیں، وعدوں پر عملدرآمد کے لیے ٹائم لائن چاہتے ہیں : رہنما ایم کیو ایم ڈاکٹر فاروق ستار

اظہار رائے پر قدغن ختم کیے بغیر عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کا مقابلہ نہیں کرسکتے، اسامہ خان

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم