امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے لیکن اگر وہ ناکام ہوئی تو کسی بھی سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ نے سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے ایران کے خلاف حملے روک دیے ہیں، مائیک والٹز کی تصدیق
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ثالثوں نے ان سے کہا تھا کہ مذاکرات کے لیے کچھ مہلت دے دی جائے۔
انہوں نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر جاری سفارتی مذاکرات کسی معاہدے پر منتج نہ ہوئے تو امریکا سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔ دوسری جانب پاکستان اور قطر نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت، جس میں پاکستان نے کلیدی ثالث کا کردار ادا کیا تھا، گزشتہ جون میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اور مستقل امن کی راہ ہموار کرنے کے لیے طے پائی تھی۔
یہ معاہدہ 18 جون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اس وقت دستخط کر کے حتمی شکل دی تھی جب پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اسلام آباد معاہدے میں کیا طے پایا تھا؟
معاہدے کے تحت امریکا اور ایران نے فوجی کارروائیاں روکنے، آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے دوبارہ کھولنے اور 60 دن کے اندر ایران کے جوہری پروگرام، امریکی پابندیوں اور مستقل جنگ بندی سے متعلق جامع معاہدے پر مذاکرات کرنے کا عہد کیا تھا۔
مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو فوجی کارروائی ہوگی، ٹرمپ
امریکی ویب سائٹ اکسیوس کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ مذاکرات کو زیادہ وقت دینے کے حق میں نہیں ہیں۔
مزید پڑھیے: امریکی میزائل حملے، ٹرمپ کی ایران کو مزید فوجی کارروائی کی دھمکی
انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے تاہم اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو سخت فوجی کارروائی کے لیے بھی تیار ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ زیادہ وقت نہیں ہے یا تو معاملات تیزی سے آگے بڑھیں گے یا پھر بالکل نہیں بڑھیں گے۔
امریکا اور ایران نے حملے روک دیے
یاد رہے کہ جمعے کے روز سے امریکا اور ایران دونوں نے ایک دوسرے پر نئے حملوں سے گریز کیا جس سے خلیجی خطے میں کشیدگی میں وقتی کمی آئی اور عالمی بحری تجارت و تیل کی منڈیوں کو بھی کچھ ریلیف ملا۔
BREAKING: Trump tells Axios: I'm ready for "strong military action" if Iran talks failhttps://t.co/skxnWMjCtQ
— Axios (@axios) July 27, 2026
ایران نے اعلان کیا کہ اس نے مشرق وسطیٰ میں امریکا کے اتحادیوں کے خلاف جوابی کارروائیاں معطل کر دی ہیں جبکہ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا کہ صدر ٹرمپ مذاکرات کو آگے بڑھنے کے لیے کچھ مہلت دے رہے ہیں۔
ایران نے بھی کارروائیاں معطل کر دیں
ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا کے مطابق تہران نے امریکا کے علاقائی اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں روکنے کے بعد اپنی جوابی فوجی سرگرمیاں بھی معطل کر دی ہیں۔
مزید پڑھیں: چین اور روس نے ایران کو ہتھیار نہ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
دوسری جانب امریکا نے بھی مسلسل تیسری رات ایران پر فضائی حملے نہیں کیے۔ اس سے قبل امریکی فوج مسلسل 13 راتوں تک ایران پر حملے کرتی رہی تھی جو اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سب سے بڑی فوجی کشیدگی تھی۔
پاکستان اور قطر کی تجویز پر امریکا اور ایران کا مثبت جواب
عرب میڈیا کے مطابق امریکا اور ایران نے پاکستان اور قطر کی مشترکہ تجویز پر اپنے جوابات بھی جمع کرا دیے ہیں جس کا مقصد اسلام آباد معاہدے کے تحت مذاکرات دوبارہ شروع کرنا ہے۔
العربیہ اور انادولو ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ دونوں ممالک نے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازع ختم کرنے کے اصولی عزم کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان اور قطر کی ثالثی جاری
ذرائع کے مطابق پاکستان اور قطر نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کے تبادلے کا سلسلہ مزید تیز کر دیا ہے۔
اس سے قبل دونوں ممالک نے تجویز دی تھی کہ امریکا اور ایران 9 جولائی سے پہلے والی پوزیشن پر واپس آ جائیں تاکہ مستقل امن مذاکرات بحال کیے جا سکیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائیوں میں موجودہ وقفے کے باعث یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ آبنائے ہرمز کے گرد پیدا ہونے والی کشیدگی ختم ہونے کے بعد مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
ایک ذریعے نے العربیہ کو بتایا کہ ایران مذاکرات سے دستبردار نہیں ہوا بلکہ صرف عارضی طور پر انہیں معطل کیا تھا اور وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت دوبارہ بات چیت کے لیے تیار ہے۔
ہر سطح پر مذاکرات جاری ہیں
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہر سطح پر مذاکرات جاری ہیں.
انہوں نے این بی سی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ایرانی قیادت کے اندر اختلافات موجود ہیں تاہم صدر ٹرمپ نے سفارت کاری کو موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
بعد ازاں فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ امریکا مکمل طور پر فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے اور خطے میں مزید فوجی وسائل بھی بھیجے گئے ہیں تاہم صدر ٹرمپ فی الحال مذاکرات کو کچھ وقت دینا چاہتے ہیں۔
ٹرمپ نے مزید حملے روک دیے
اکسیوس کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے گزشتہ جمعہ کو پینٹاگون کی جانب سے پیش کیے گئے نئے حملہ منصوبے کو منظور کرنے سے انکار کرتے ہوئے مزید فضائی کارروائیاں روک دیں۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ اس سے پہلے مسلسل 13 روز تک روزانہ حملوں کی منظوری دیتے رہے تاہم بعد میں انہوں نے سفارت کاری کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا۔
ہفتے کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھاق کہ فوجی کارروائی کا اختیار ان کے پاس موجود ہے لیکن ان کے خیال میں اس وقت سفارت کاری بہتر راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت ایرانیوں سے بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ میرا خیال ہے کہ وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ سنجیدہ ہو رہے ہیں تاہم ہم مکمل طور پر تیار ہیں لیکن اس وقت بات چیت جاری ہے۔
مزید حملوں پر تحفظات
سی این این کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے وائٹ ہاؤس اجلاس میں جنگ میں مزید شدت لانے کے ممکنہ نتائج پر تحفظات کا اظہار کیا۔
ادھر نیویارک ٹائمز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مزید فوجی کارروائی کے منصوبے جزوی طور پر اس خدشے کے باعث بھی روک دیے گئے کہ امریکا کے پاس پیٹریاٹ دفاعی میزائلوں سمیت دیگر دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر محدود ہو رہے ہیں۔
پاکستان نے مذاکرات پر زور دیا
منگل کے روز وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقات میں ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایماندار اور مخلص ثالث کی حیثیت سے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
“The president is keeping all options on the table,” says @USAmbUN on Iran.
“Talks are ongoing. They’re happening at every level… what we are constantly seeing though, is on the Iranian regime’s side, they are divided, there is internal fighting…” pic.twitter.com/vfyKKdAsAm
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 26, 2026
وزیراعظم نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے کو مزید عدم استحکام سے دوچار کریں۔
پاکستان کی سفارتی کوششیں
پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کرانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار مسلسل برقرار رکھا ہوا ہے۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت 21 جون کو سوئٹزرلینڈ کے شہر لوسرن میں امریکا اور ایران کے درمیان پہلے اعلیٰ سطحی مذاکرات بھی پاکستان اور قطر کی مشترکہ ثالثی میں منعقد ہوئے تھے جن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے شرکت کی تھی۔
مذاکرات کے بعد پاکستان اور قطر نے اعلان کیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی پیش رفت میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے اور مستقل امن کی جانب پیشرفت جاری ہے۔













