جرمنی کے سرکاری فنڈ سے چلنے والے نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے (ڈی ڈبلیو ) نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو نشانہ بناتے ہوئے ایسی دستاویزی فلم نشر کی ہے جس میں حقائق سے زیادہ پرانے الزامات اور یکطرفہ بیانیے کو دہرایا گیا ہے۔
بظاہر یہ فلم صحافتی تحقیق کے نام پر تیار کی گئی، لیکن اس کا مجموعی تاثر یہی ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو مشکوک بنایا جائے۔
فلم کی ابتدا ہی اس دعوے سے کی جاتی ہے کہ پاکستان نے ایٹم بم ’غیرقانونی‘ طریقے سے حاصل کیا۔ سوال یہ ہے کہ دنیا میں کون سا ایسا بین الاقوامی قانون موجود ہے جس کے تحت کسی ملک کو ایٹمی طاقت بننے کا لائسنس دیا جاتا ہے؟
یہ بھی پڑھیں:جرمن نشریاتی ادارے کی پاکستان مخالف دستاویزی فلم پر خواجہ آصف سمیت اہم سیاسی و صحافتی شخصیات کی شدید تنقید
اگر یہی اصول ہے تو پھر بھارت اور اسرائیل کے ایٹمی پروگراموں پر وہی معیار کیوں لاگو نہیں کیا جاتا؟ یہی دہرا معیار اس پوری دستاویزی فلم کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔
ڈی ڈبلیو نے 1998 کے پاکستانی ایٹمی دھماکوں کا ذکر تو کیا، لیکن یہ بتانے سے گریز کیا کہ ان دھماکوں سے چند روز قبل بھارت نے پوکھران میں ایٹمی تجربات کیے تھے، جنہوں نے جنوبی ایشیا کو ایٹمی خطہ بنایا۔
پاکستان نے جارحیت کا آغاز نہیں کیا بلکہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے جواب دیا۔ اس بنیادی حقیقت کو نظر انداز کرنا صحافت نہیں بلکہ تاریخ کا انتخابی استعمال ہے۔
مزید حیران کن بات یہ ہے کہ فلم پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو مذہبی انتہا پسندی سے جوڑنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ وہی بیانیہ ہے جو برسوں سے پاکستان کے خلاف استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
حالانکہ پاکستان کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ریاستی کنٹرول، مضبوط کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام اور انتہائی سخت سیکیورٹی انتظامات کے تحت چلتا ہے۔ آج تک پاکستان کے جوہری اثاثوں کے غلط استعمال کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
اگر واقعی مقصد غیرجانبدار صحافت ہوتا تو فلم میں بھارت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی دفاعی صلاحیت، اس کے ایٹمی ذخائر، اسرائیل کے غیر اعلانیہ ایٹمی پروگرام اور مغربی ممالک کے دہرے معیار کا بھی ذکر کیا جاتا۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا، کیونکہ اصل ہدف پاکستان تھا۔
مزید پڑھیں:جرمنی میں فائرنگ سے 5 افراد ہلاک، متعدد زخمی، ملزم گرفتار
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دستاویزی فلم ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مغربی میڈیا کی غیرجانبداری خود شدید تنقید کی زد میں ہے۔
ایسے میں ڈی ڈبلیو کی یہ پیشکش اس تاثر کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ بعض مغربی ادارے پاکستان کے دفاعی مفادات کو متنازع بنانے کے لیے پرانے اور گھسے پٹے بیانیوں کا سہارا لے رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام صرف اور صرف قومی دفاع کے لیے ہے۔ یہی صلاحیت گزشتہ کئی دہائیوں سے خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کو روکنے میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہے۔
ایسے میں پاکستان کے جوہری پروگرام پر سوال اٹھانے کے بجائے جنوبی ایشیا کی سیکیورٹی صورتحال کو اس کے مکمل تاریخی اور سیاسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے، نہ کہ یکطرفہ پروپیگنڈا کے ذریعے۔













