ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

پیر 27 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جرمنی کے سرکاری فنڈ سے چلنے والے نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے (ڈی ڈبلیو ) نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو نشانہ بناتے ہوئے ایسی دستاویزی فلم نشر کی ہے جس میں حقائق سے زیادہ پرانے الزامات اور یکطرفہ بیانیے کو دہرایا گیا ہے۔

بظاہر یہ فلم صحافتی تحقیق کے نام پر تیار کی گئی، لیکن اس کا مجموعی تاثر یہی ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو مشکوک بنایا جائے۔

فلم کی ابتدا ہی اس دعوے سے کی جاتی ہے کہ پاکستان نے ایٹم بم ’غیرقانونی‘ طریقے سے حاصل کیا۔ سوال یہ ہے کہ دنیا میں کون سا ایسا بین الاقوامی قانون موجود ہے جس کے تحت کسی ملک کو ایٹمی طاقت بننے کا لائسنس دیا جاتا ہے؟

یہ بھی پڑھیں:جرمن نشریاتی ادارے کی پاکستان مخالف دستاویزی فلم پر خواجہ آصف سمیت اہم سیاسی و صحافتی شخصیات کی شدید تنقید

اگر یہی اصول ہے تو پھر بھارت اور اسرائیل کے ایٹمی پروگراموں پر وہی معیار کیوں لاگو نہیں کیا جاتا؟ یہی دہرا معیار اس پوری دستاویزی فلم کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔

ڈی ڈبلیو نے 1998 کے پاکستانی ایٹمی دھماکوں کا ذکر تو کیا، لیکن یہ بتانے سے گریز کیا کہ ان دھماکوں سے چند روز قبل بھارت نے پوکھران میں ایٹمی تجربات کیے تھے، جنہوں نے جنوبی ایشیا کو ایٹمی خطہ بنایا۔

پاکستان نے جارحیت کا آغاز نہیں کیا بلکہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے جواب دیا۔ اس بنیادی حقیقت کو نظر انداز کرنا صحافت نہیں بلکہ تاریخ کا انتخابی استعمال ہے۔

مزید حیران کن بات یہ ہے کہ فلم پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو مذہبی انتہا پسندی سے جوڑنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ وہی بیانیہ ہے جو برسوں سے پاکستان کے خلاف استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

حالانکہ پاکستان کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ریاستی کنٹرول، مضبوط کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام اور انتہائی سخت سیکیورٹی انتظامات کے تحت چلتا ہے۔ آج تک پاکستان کے جوہری اثاثوں کے غلط استعمال کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔

اگر واقعی مقصد غیرجانبدار صحافت ہوتا تو فلم میں بھارت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی دفاعی صلاحیت، اس کے ایٹمی ذخائر، اسرائیل کے غیر اعلانیہ ایٹمی پروگرام اور مغربی ممالک کے دہرے معیار کا بھی ذکر کیا جاتا۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا، کیونکہ اصل ہدف پاکستان تھا۔

مزید پڑھیں:جرمنی میں فائرنگ سے 5 افراد ہلاک، متعدد زخمی، ملزم گرفتار

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دستاویزی فلم ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مغربی میڈیا کی غیرجانبداری خود شدید تنقید کی زد میں ہے۔

ایسے میں ڈی ڈبلیو کی یہ پیشکش اس تاثر کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ بعض مغربی ادارے پاکستان کے دفاعی مفادات کو متنازع بنانے کے لیے پرانے اور گھسے پٹے بیانیوں کا سہارا لے رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام صرف اور صرف قومی دفاع کے لیے ہے۔ یہی صلاحیت گزشتہ کئی دہائیوں سے خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کو روکنے میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہے۔

 ایسے میں پاکستان کے جوہری پروگرام پر سوال اٹھانے کے بجائے جنوبی ایشیا کی سیکیورٹی صورتحال کو اس کے مکمل تاریخی اور سیاسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے، نہ کہ یکطرفہ پروپیگنڈا کے ذریعے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دفتر خارجہ میں قونصلر خدمات کے لیے شام کی شفٹ کا آغاز، اوقات کار رات 8 بجے تک بڑھا دیے گئے

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ، کاروبار اور معیشت کو کیا فائدہ ہوگا؟

پیٹرولیم کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول ایک روپے سستا اور ڈیزل 3.37 روپے مہنگا

ایران سے بات چیت جاری ہے، ناکامی کی صورت میں سخت حملہ کردیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

راولاکوٹ دھرنے میں ٹی ٹی پی اور ایکشن کمیٹی کا مبینہ گٹھ جوڑ، پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش

ویڈیو

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

جنوبی افریقہ میں فائرنگ کا واقعہ، 2 سگے بھائیوں سمیت 4 پاکستانی جاں بحق، پولیس نے تحقیقات کا آغاز کردیا

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان