کراچی میں سائیکل ایمبولینس کا منصوبہ ایک بار پھر سیاسی اور عوامی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے اس منصوبے کو شہری آبادی، تنگ گلیوں اور شدید ٹریفک کے باعث بروقت طبی امداد پہنچانے کا مؤثر ذریعہ قرار دیا، جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے اسے سندھ میں ترقی کے دعوؤں پر سوالیہ نشان قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا جدید ایمبولینس سسٹمز، ایئر ایمبولینس اور جدید طبی سہولیات کی طرف بڑھ رہی ہے، جبکہ ہم اب بھی سائیکل ایمبولینس پر فخر کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’دنیا فلائنگ ایمبولینس کی طرف جارہی جبکہ کراچی میں سائیکل ایمبولینس کا افتتاح ہورہا ہے‘
سائیکل ایمبولینس دراصل روایتی ایمبولینس کا متبادل نہیں بلکہ ایک فرسٹ رسپانس سروس ہے۔ اس کا مقصد ایسے علاقوں میں فوری طبی امداد فراہم کرنا ہے جہاں تنگ گلیوں یا ٹریفک جام کے باعث بڑی ایمبولینس بروقت نہیں پہنچ سکتی۔ اس میں ابتدائی طبی امداد کا سامان، آکسیجن، نیبولائزر، شوگر ٹیسٹنگ کٹ اور دیگر ضروری آلات موجود ہوتے ہیں تاکہ مریض کو فوری طبی سہولت فراہم کی جا سکے، جبکہ ضرورت پڑنے پر بعد ازاں روایتی ایمبولینس کے ذریعے اسپتال منتقل کیا جاتا ہے۔
اس منصوبے کے کئی مثبت پہلو ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ سائیکل ایمبولینس ٹریفک میں پھنسے بغیر مختصر وقت میں مریض تک پہنچ سکتی ہے۔ کراچی جیسے گنجان آباد شہر میں یہ خصوصیت کئی جانیں بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کی لاگت روایتی ایمبولینس کے مقابلے میں کم ہے، ایندھن کی ضرورت نہیں پڑتی، یہ ماحول دوست ہے اور محدود وسائل میں زیادہ مقامات پر تعینات کی جا سکتی ہے۔ ہنگامی صورتِ حال میں ابتدائی طبی امداد کی بروقت فراہمی بعض اوقات مریض کی جان بچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موٹر سائیکل ایمبولینس: ریسکیو کا عمل 7 منٹ سے بھی کم وقت میں ممکن ہوگا
تاہم اس منصوبے پر اعتراضات بھی سامنے آرہے ہیں۔ سائیکل ایمبولینس کسی شدید زخمی، دل کے دورے یا بڑے حادثے کے مریض کو اسپتال منتقل نہیں کر سکتی۔ اس کی رفتار، سامان اور استعداد محدود ہے۔ اگر اسے جدید ایمبولینس نظام کا متبادل سمجھا جائے تو یہ مؤثر حل نہیں ہوگا۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ سندھ حکومت کو جدید ایمبولینس سروس، ٹراما سینٹرز، ایئر ایمبولینس، اسپتالوں کی بہتری اور ہنگامی طبی نظام پر زیادہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے بھی اسی تناظر میں اس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا مصنوعی ذہانت، جدید طبی ٹیکنالوجی اور تیز رفتار ایمرجنسی سسٹمز کی طرف بڑھ رہی ہے، جبکہ کراچی اور سندھ میں سائیکل ایمبولینس کو ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق شہریوں کو عالمی معیار کی طبی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور صرف علامتی منصوبے بنیادی مسائل کا حل نہیں ہوسکتے۔
یہ بھی پڑھیں: شیراز کا ایک اور کارنامہ، گاؤں کو ایمبولینس فراہم کردی
دوسری جانب منصوبے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ سائیکل ایمبولینس کو روایتی ایمبولینس کا متبادل نہیں بلکہ ایک معاون سہولت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں بھی ایسے فرسٹ رسپانس یونٹس استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ مریض تک ابتدائی طبی امداد کم سے کم وقت میں پہنچائی جاسکے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اسے کس حد تک وسیع ایمرجنسی نظام کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ اگر سائیکل ایمبولینس صرف ابتدائی طبی امداد تک محدود رہے اور اس کے ساتھ جدید ایمبولینس نیٹ ورک، بہتر ٹریفک مینجمنٹ، نئے اسپتالوں اور ہنگامی طبی سہولیات کو بھی مضبوط کیا جائے تو یہ شہریوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر اسے صحت کے شعبے میں بنیادی کامیابی کے طور پر پیش کیا جائے تو اس پر اٹھنے والے سوالات اور تنقید بھی اپنی جگہ موجود رہیں گے۔













