ٹیکسلا، جو ہزاروں سال پرانی گندھارا تہذیب کا اہم گہوارہ رہا ہے ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے ٹیکسلا کے تاریخی مقامات کے تحفظ کے حوالے سے پاکستان کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض تعمیراتی اور بحالی کے اقدامات قدیم آثار کی اصل شناخت اور تاریخی حیثیت کو متاثر کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امن کا پیغام ایک بار پھر ٹیکسلا سے بلند ہونا چاہیے، جاپانی راہب جونسی تیراساوا
یونیسکو کے تحفظات خاص طور پر ٹیکسلا کے 2 اہم تاریخی مقامات سرکپ اور موہرا مرادو سے متعلق ہیں جہاں جاری یا مکمل کیے گئے بحالی کے کاموں کے معیار اور طریقہ کار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق تاریخی مقامات کی بحالی میں جدید تعمیراتی مواد یا غیر سائنسی طریقوں کا استعمال قدیم ورثے کو ناقابلن تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے کیونکہ عالمی اصولوں کے مطابق ایسے مقامات کی مرمت کے دوران اصل ساخت، روایتی تعمیراتی مواد اور تاریخی صداقت کو ہر صورت برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
یونیسکو کی اس وارننگ نے ٹیکسلا کے شہریوں میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس تاریخی ورثے سے نہ صرف ٹیکسلا کی شناخت وابستہ ہے بلکہ ہزاروں لوگوں کا روزگار بھی انہی آثار سے جڑا ہوا ہے۔
ان کے مطابق اگر یونیسکو نے کسی مرحلے پر ٹیکسلا کے تاریخی مقامات کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست سے خارج (ڈی لسٹ) کر دیا تو اس کے منفی اثرات صرف سیاحت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مقامی معیشت، کاروبار اور روزگار بھی شدید متاثر ہوں گے۔
مزید پڑھیے: ٹیکسلا میں مقامی پتھروں سے تیار ہونے والی لنگری جو اپنی پائیداری اور روایتی ڈیزائن کی وجہ سے مشہور ہے
واضح رہے کہ ٹیکسلا کو سنہ 1980 میں یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ یہ شہر بدھ مت، گندھارا تہذیب اور قدیم جنوبی ایشیائی تاریخ کا ایک اہم علمی، مذہبی اور ثقافتی مرکز سمجھا جاتا ہے جہاں ہر سال دنیا بھر سے سیاح، محققین اور آثارِ قدیمہ کے ماہرین آتے ہیں۔
دوسری جانب محکمہ آثارِ قدیمہ کا مؤقف ہے کہ تاریخی مقامات کے تحفظ اور بحالی کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں تاہم یونیسکو نے زور دیا ہے کہ تمام بحالی اور تعمیراتی سرگرمیاں عالمی معیار، سائنسی اصولوں اور بین الاقوامی تحفظاتی ضوابط کے مطابق انجام دی جائیں تاکہ تاریخی ورثے کی اصل حیثیت برقرار رہے۔
مزید پڑھیں: ٹیکسلا میں بدھ مت کے مقدس مقام پر عالمی امن کے لیے دعائیں
اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ٹیکسلا جیسے ہزاروں سال قدیم عالمی ثقافتی ورثے کو بین الاقوامی معیار کے مطابق محفوظ رکھنے میں کامیاب ہو سکے گا یا تحفظ کے ناقص اقدامات اس تاریخی مقام کی عالمی شناخت اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کا درجہ خطرے میں ڈال دیں گے؟ دیکھیے یہ ویڈیو رپورٹ۔












