وفاقی حکومت نے مالی سال 26-2025 کے دوران ترقیاتی منصوبوں پر مجموعی طور پر 916 ارب روپے خرچ کیے، جو ابتدائی طور پر مختص کیے گئے بجٹ سے 11.6 فیصد زیادہ ہے۔
یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب حکومت آئی ایم ایف کے اصلاحاتی پروگرام کے تحت مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے ابتدا میں 820.5 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، تاہم مالی سال کے اختتام تک ترقیاتی اخراجات تقریباً 95.5 ارب روپے بڑھ کر 916 ارب روپے تک پہنچ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے پاکستان کے لیے 3.67 ارب ڈالر امداد کا اعلان
ماہرین کے مطابق سال کے آخری مہینوں میں اخراجات میں تیزی حکومت کی جانب سے ترجیحی منصوبوں کی بروقت تکمیل کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق وفاقی وزارتوں نے 611.1 ارب روپے خرچ کیے، جبکہ سرکاری اداروں کے ترقیاتی اخراجات 304.9 ارب روپے رہے، جو ان کے مختص بجٹ سے نمایاں طور پر زیادہ تھے۔
وزارتوں میں صوبوں اور خصوصی علاقوں کے لیے سب سے زیادہ 195.4 ارب روپے مختص کیے گئے، جن میں سے 192.6 ارب روپے استعمال کیے گئے۔
مزید پڑھیں: پی پی قیادت وفاقی وزرا اور گورنر ہاؤس کی سندھ حکومت کے خلاف سازشوں پر وفاق سے جواب طلب کرے، شرجیل میمن
آبی وسائل ڈویژن نے سب سے زیادہ اضافی اخراجات کیے اور 101.6 ارب روپے کے بجٹ کے مقابلے میں 137.5 ارب روپے خرچ کیے۔
اسی طرح ریلوے ڈویژن نے 18.6 ارب روپے کی مختص رقم کے مقابلے میں 35.1 ارب روپے خرچ کیے، جبکہ ریونیو ڈویژن نے بھی اپنے بجٹ سے زیادہ اخراجات کیے۔
دوسری جانب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے تقریباً اپنی پوری مختص رقم استعمال کی، جبکہ وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے بھی بجٹ سے معمولی زیادہ اخراجات کیے۔
مزید پڑھیں: مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں حکومتی قرضوں میں اضافہ
سرکاری اداروں میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے تقریباً اپنے مقررہ بجٹ کے مطابق اخراجات کیے، تاہم نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی اور پیپکو سمیت پاور ڈویژن کے اداروں نے مجموعی طور پر مختص رقم سے کہیں زیادہ خرچ کیا، جس سے کارپوریٹ شعبے میں اضافی اخراجات کی بڑی وجہ توانائی کا شعبہ بنا۔
ترقیاتی اخراجات میں یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان مالی سال 26-2025 میں 3.7 فیصد جی ڈی پی شرح نمو حاصل کرنے کے بعد بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری بڑھانے اور معاشی سرگرمیوں کو مزید فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔














