اہلِ کشمیر پاکستان سے محبت کرتے ہیں، ن لیگ کی جیت یقینی، ثاقب مجید راجا نے ایکشن کمیٹی کو ’فتنہ و فساد کمیٹی‘ قرار دے دیا

بدھ 29 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے مظفرآباد حلقہ پانچ کھاوڑہ سے امیدوار اسمبلی ثاقب مجید راجا نے کہا ہے کہ ان کے حلقے میں انتخابی مہم پُرامن انداز میں جاری ہے اور انہیں یا ان کے کارکنوں کو کسی مقام پر انتخابی سرگرمیوں کے دوران کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ریاست میں افراتفری پھیلانے والی یہ کمیٹی درحقیقت ’فتنہ فساد‘ کمیٹی ہے، اہل کشمیر ریاست پاکستان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔

’وی نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے ثاقب مجید راجا نے کہاکہ انہوں نے عید کے دوسرے روز ہی اپنی انتخابی مہم کا آغاز کردیا تھا، جبکہ انتخابی شیڈول بعد میں آیا۔

انہوں نے کہاکہ اللہ کا شکر ہے کہ آج تک کسی کو یہ جرات نہیں ہوئی کہ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کا راستہ روکے یا انتخابی مہم میں رکاوٹ ڈالے۔

’کھاوڑہ کے عوام تعمیر و ترقی چاہتے ہیں‘

انہوں نے کہاکہ کھاوڑہ میں کوئی فتنہ فساد موجود نہیں، یہاں کے لوگ اپنے حلقے کی ترقی اور عوامی محرومیوں کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے ہمیشہ عوامی حقوق کی سیاست کی ہے اور عوامی مسائل کے لیے اپنی زندگی وقف کی ہے۔

انہوں نے کہاکہ کھاوڑہ کے دور دراز علاقوں میں آج بھی کئی دیہات بنیادی سہولیات خصوصاً سڑکوں سے محروم ہیں، حالانکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے مختلف نمائندے منتخب ہوتے رہے ہیں۔

’ایکشن کمیٹی نے مجھے ٹکٹ نہ دینے کا مطالبہ کیا‘

ایک سوال کے جواب میں ثاقب مجید راجا نے کہاکہ ایکشن کمیٹی کی جانب سے مسلم لیگ (ن) سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ انہیں پارٹی ٹکٹ نہ دیا جائے، اور اس کی وجہ ان کا ایکشن کمیٹی کے خلاف دوٹوک مؤقف تھا۔

انہوں نے کہاکہ وہ ابتدا میں ایکشن کمیٹی کے ساتھ تھے، لیکن جب انہوں نے پاکستان مخالف نعرے اور سرگرمیاں دیکھیں تو انہوں نے اسی وقت اس سے علیحدگی اختیار کر لی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ اس وقت یہ مؤقف اختیار نہ کرتے تو ممکن تھا کہ کھاوڑہ میں بھی کچھ لوگ اس کا حصہ بنتے، لیکن انہوں نے اپنے حلقے کے عوام کو اس ’فتنہ و فساد‘ سے بچایا۔

’کھاوڑہ کے لوگ پاکستان سے محبت کرتے ہیں‘

ثاقب مجید راجا نے کہاکہ کھاوڑہ کے عوام پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور پاکستان کو اپنا مرکز سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض عناصر انہیں نشانہ بناتے رہے کیونکہ انہوں نے ان کے ایجنڈے کا ساتھ دینے سے انکار کیا۔

انہوں نے کہاکہ اختلاف رائے ہر شخص کا حق ہے، لیکن کسی بھی شخص کو صرف اس وجہ سے گالیاں دینا یا اس کے خلاف پروپیگنڈا کرنا درست نہیں کہ وہ کسی مخصوص سوچ سے اتفاق نہیں کرتا۔

’فتنہ و فساد سے کسی کو فائدہ نہیں ہوا‘

مسلم لیگ (ن) کے امیدوار نے کہاکہ جن لوگوں نے احتجاج کے دوران ’مار دیں گے، جلا دیں گے‘ اور ’سن لو ہم تمہاری موت ہیں‘ جیسے نعرے لگائے، انہوں نے آزاد کشمیر کا امن خراب کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ احتجاجی واقعات میں جاں بحق ہونے والے تمام افراد، خواہ وہ احتجاجی ہوں یا پولیس، ایف سی یا دیگر اداروں سے تعلق رکھتے ہوں، ان واقعات کی ذمہ داری انہی عناصر پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے حالات کو خراب کیا۔

انہوں نے کہاکہ عوامی حقوق کے نام پر دشمن ملک کے ایجنڈے کو آزاد کشمیر میں فروغ دینے کی کوشش کی گئی، جبکہ کشمیری عوام ہمیشہ پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کرتے آئے ہیں۔

’مسلم لیگ (ن) کی حکومت قانون کی عملداری یقینی بنائے گی‘

ایک سوال کے جواب میں کہ اگر دوبارہ احتجاجی تحریک سامنے آئی تو اس سے کیسے نمٹا جائے گا، ثاقب مجید راجا نے کہا کہ آئندہ مسلم لیگ ن کی حکومت بنے گی اور ہم قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ جو لوگ قانون اور ریاست کی بالادستی کو تسلیم کریں گے انہیں عزت دی جائے گی، تاہم جو عناصر ریاستی نظام کو چیلنج کریں گے یا تشدد اور انتشار کی سیاست کریں گے، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

’لطیف اکبر اس بار کامیاب نہیں ہوں گے‘

2 اگست کو مظفرآباد میں ہونے والے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما چوہدری لطیف اکبر سے مقابلے کے حوالے سے ثاقب مجید راجا نے کہاکہ ان کے مطابق گزشتہ انتخابات میں نتائج ان کے خلاف تبدیل کیے گئے تھے۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ اس مرتبہ حالات مختلف ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر پیپلز پارٹی کے سینکڑوں کارکن ان کی جماعت میں شامل ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ان کے اندازے کے مطابق اس بار مسلم لیگ (ن) نہ صرف کامیاب ہوگی بلکہ بڑی برتری سے کامیابی حاصل کرے گی۔

’نصف صدی کی نمائندگی کے باوجود بنیادی سہولیات کا فقدان‘

ثاقب مجید راجا نے کہاکہ گزشتہ 50 برسوں سے مختلف حکومتیں بنتی رہیں، لیکن آج بھی حلقے کے عوام بجلی کے کھمبوں، ٹرانسفارمرز، سڑکوں اور ڈسپنسریوں جیسی بنیادی سہولیات کا مطالبہ کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اتنے عرصے تک حکومتیں رہنے کے باوجود عوام کے مسائل حل نہیں ہوئے تو یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ عوام کی مشکلات میں کمی کیوں نہیں آ سکی۔

’ہر یونین کونسل میں کھلی کچہری لگاؤں گا‘

ثاقب مجید راجا نے کہاکہ اگر وہ منتخب ہوئے تو ہر ماہ ہر یونین کونسل میں ایک روز کھلی کچہری لگائیں گے تاکہ عوام کو اپنے نمائندے تک پہنچنے کے لیے سفارش یا واسطے کی ضرورت نہ پڑے۔

انہوں نے کہاکہ ہر شہری، خواہ وہ کسی بھی برادری، جماعت یا طبقے سے تعلق رکھتا ہو، براہِ راست اپنے منتخب نمائندے سے ملاقات کر سکے گا اور اپنے مسائل بیان کر سکے گا۔

’بلا تفریق عوامی خدمت کروں گا‘

انہوں نے کہاکہ ترقیاتی منصوبوں میں کسی بھی سیاسی وابستگی کو بنیاد نہیں بنایا جائےگا۔

ثاقب مجید راجا نے کہاکہ اگر کسی علاقے میں اسکول، سڑک، بجلی یا دیگر بنیادی سہولیات کی ضرورت ہوگی تو وہاں صرف اس بنیاد پر کام کیا جائےگا کہ عوام کو اس کی ضرورت ہے، نہ کہ اس بنیاد پر کہ انہوں نے کس جماعت کو ووٹ دیا۔

انہوں نے مزید کہاکہ ان کا ایمان ہے کہ بہترین انسان وہ ہے جو لوگوں کو فائدہ پہنچائے، اسی سوچ کے تحت وہ عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور اگر کامیاب ہوئے تو عوامی مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فیفا کا اربوں ڈالرز کمانے کا نیا متنازع منصوبہ، یوروپی فٹ بال ایسوسی ایشن  کا شدید ردِعمل

ملک بھر میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع، 5 اگست تک وقفے وقفے سے بارش کی پیشگوئی

بنگلہ دیشی طلبہ کے لیے علامہ محمد اقبال اسکالرشپ پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز

پی ٹی وی کی سابق نیوز کاسٹر اور معروف سماجی شخصیت جہاں آرا معین انتقال کرگئیں

طالبان حکومت وطن واپس آنے والے افغان مہاجرین کی آبادکاری میں ناکام، انسانی بحران کا خدشہ

ویڈیو

راولاکوٹ میں فورسز پر حملے منظم سازش کا حصہ، متعدد ملزمان گرفتار، اسلحہ برآمد، ایس ایس پی پونچھ خاور علی شوکت

مراد علی شاہ کارکردگی میں بہتر اور مریم نواز ایڈورٹائزنگ میں، ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید

’را‘ سے منسلک مبینہ پی آر نیٹ ورک کیسے بے نقاب ہوا؟ فخر درانی نے پوری کہانی سنا دی

کالم / تجزیہ

اے ٹی ایم مشین 

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں