امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے اچھی بات چیت جاری ہے جبکہ پاکستان اور قطر نے کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو دوبارہ آگے بڑھانے کے لیے سفارتی رابطے تیز کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کے پاس ایک ہزار سال کے لیے ایندھن موجود، چین کے پاس نہیں: ٹرمپ
فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے تاہم انہوں نے الزام عائد کیا کہ تہران بظاہر مذاکرات سے انکار کرتا ہے حالانکہ بات چیت جاری ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بعض اوقات دونوں ممالک کے درمیان بہت اچھی گفتگو جاری ہوتی ہے لیکن ایران کی جانب سے باہر آ کر کہا جاتا ہے کہ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے یا جوہری پروگرام پر بات نہیں ہوئی، جبکہ حقیقت میں یہی سب سے اہم موضوع ہے۔
🚨 UPDATE: President Trump says he’ll be in the middle of productive talks with Iran, then they go PUBLIC and pretend it NEVER HAPPENED
“For some reason we can be in the midst of a beautiful discussion and they’ll come out and say we’re not talking or we didn’t discuss nuclear!… pic.twitter.com/KEzJQqlRFB
— Eric Daugherty (@EricLDaugh) July 28, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور اگر مذاکرات کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔
ٹرمپ کا ایران کی جوہری تنصیبات پر نظر رکھنے کا دعویٰ
امریکی صدر نے ایران کے انتہائی محفوظ سمجھے جانے والے ’پک ایکس ماؤنٹین‘ جوہری مقام سمیت دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دہرائی۔
مزید پڑھیے: ایران سے بات چیت جاری ہے، ناکامی کی صورت میں سخت حملہ کردیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے انہیں ایران کی جانب سے جوہری تنصیبات مضبوط بنانے کے بارے میں آگاہ کیا، تو ٹرمپ نے کہا کہ انہیں صرف اسرائیلی معلومات پر انحصار نہیں کرنا پڑتا۔
KILMEADE: We hear that you’re talking with leaders from Iran. But Iran has come out publicly and said ‘we’re not talking to the US’
TRUMP: Well, they just came out and said we are talking
KILMEADE: So could you tell me who you’re talking to?
TRUMP: We’ve had some very good… pic.twitter.com/bAqKISTbjU
— Aaron Rupar (@atrupar) July 28, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکا کے پاس جدید ترین نگرانی کے نظام موجود ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ ایران میں کیا ہو رہا ہے۔
’ہماری پوزیشن بہت مضبوط ہے‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت امریکا ایران کے معاملے پر بہت مضبوط پوزیشن میں ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ امریکا اگر چاہے تو ایران کے پلوں اور بجلی گھروں کو مختصر وقت میں تباہ کر سکتا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ایسے اقدامات سے بچنا چاہتے ہیں اگر سفارت کاری کے ذریعے مسئلہ حل ہو سکتا ہو۔
مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ نے سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے ایران کے خلاف حملے روک دیے ہیں، مائیک والٹز کی تصدیق
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ ہو سکتا ہے تو وہ مذاکرات کو موقع دینا چاہتے ہیں۔
ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت کی امید
اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے اور معاہدہ ہونے کا امکان موجود ہے۔
ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایرانی حکام نے امریکا سے کہا ہے کہ مذاکرات جاری رہنے کے دوران فوجی کارروائی نہ کی جائے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی فوج کو شدید نقصان پہنچا ہے اور تہران دوبارہ مذاکرات کی طرف آنا چاہتا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ایران نے ثالثوں کے ذریعے اور براہ راست رابطوں کے ذریعے امریکا سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان حملوں میں وقفہ
امریکا اور ایران نے مسلسل چوتھے روز بھی ایک دوسرے کے خلاف نئی کارروائیاں نہیں کیں جس سے خلیجی خطے میں کشیدگی میں کمی کے آثار پیدا ہوئے ہیں۔
ایران نے کہا کہ اس نے مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں کے خلاف جوابی کارروائیاں روک دی ہیں جبکہ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا کہ صدر ٹرمپ مذاکرات کے لیے کچھ وقت دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: چین اور روس نے ایران کو ہتھیار نہ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
یہ وقفہ کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی کے بعد آیا جس نے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ خلیجی ممالک اور اہم سمندری راستوں کو بھی متاثر کیا۔
پاکستان اور قطر کی ثالثی کا کردار
پاکستان اور قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بحال کرنے کے لیے سفارتی رابطے بڑھا دیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک نے امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں کردار ادا کیا ہے تاکہ مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں۔
پاکستان اور قطر نے تجویز دی ہے کہ امریکا اور ایران ابتدائی قدم کے طور پر 9 جولائی سے پہلے والی پوزیشن پر واپس آئیں تاکہ مذاکراتی عمل بحال ہو سکے۔
دونوں ممالک نے سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے تنازع حل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا فریم ورک
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا فریم ورک سامنے آیا تھا۔
یہ معاہدہ جون میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان طے پایا تھا جس کا مقصد جنگ بندی اور مستقل امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا تھا۔
اس فریم ورک کے تحت امریکا اور ایران نے فوجی کارروائیاں روکنے، آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام، امریکی پابندیوں اور مستقل جنگ بندی سے متعلق جامع معاہدے پر مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
ایران کے ساتھ مذاکرات ہر سطح پر جاری ہیں، امریکی سفیر
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات ہر سطح پر جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت کے اندر بھی اختلافات موجود ہیں، تاہم امریکا سفارتی راستے کو موقع دے رہا ہے۔
مائیک والٹز نے اس سے قبل کہا تھا کہ امریکا فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے لیکن صدر ٹرمپ مذاکرات کو وقت دے رہے ہیں۔
ٹرمپ نے فوجی کارروائی روکنے کا فیصلہ کیوں کیا؟
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے پینٹاگون کی جانب سے ایران کے خلاف مزید حملوں کے منصوبے کے باوجود کارروائی روکنے کا فیصلہ کیا۔
🚨 JUST IN: President Trump announces America will BOMB Iran’s nuclear Pickaxe Mountain if no deal is made — the mountain will be totally obliterated
Q: Netanyahu will tell you Iran is fortifying Pickaxe Mountain?
TRUMP: I don’t need Bibi to tell me that. Bibi is telling me… pic.twitter.com/5Iu5lRMQNR
— Eric Daugherty (@EricLDaugh) July 28, 2026
ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے مسلسل 13 دن تک فوجی کارروائی کے منصوبوں کی منظوری دی تاہم بعد میں مزید حملوں کو روک دیا۔
رپورٹس میں بتایا گیا کہ امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ تنازع بڑھنے سے خطے میں وسیع جنگ چھڑ سکتی ہے جبکہ امریکی دفاعی وسائل خصوصاً پیٹریاٹ میزائلوں کے ذخائر پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا امن پر زور
وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیے: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک دیانت دار اور مخلص ثالث کے طور پر کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے فروغ کے لیے کام کرتا رہے گا۔
وزیراعظم نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے کو مزید عدم استحکام کا شکار کریں۔
پاکستان کی سفارتی کوششیں
پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکراتی عمل میں مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
پاکستان کی کوششوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ہوئی اور اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی مذاکرات بھی ہوئے۔
بعد ازاں پاکستان اور قطر کی معاونت سے سوئٹزرلینڈ کے شہر لوسرن میں بھی مذاکرات ہوئے جن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ سفارتی پیش رفت سے امید پیدا ہوئی ہے کہ امریکا اور ایران دوبارہ مذاکرات کی میز پر آ سکتے ہیں تاہم فریقین کے درمیان اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔













