’را‘ سے منسلک مبینہ پی آر نیٹ ورک کیسے بے نقاب ہوا؟ فخر درانی نے پوری کہانی سنا دی

بدھ 29 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے سینیئر تحقیقاتی صحافی فخر درانی نے پبلک ریلیشنز فرم کی آڑ میں پاکستانی صحافیوں کو خرید کر پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا کرنے کی مذموم کوششوں کو بے نقاب کرنے کی کہانی سناتے ہوئے کہا ہے کہ ایک خاتون کے ذریعے ان سے رابطہ کیا گیا اور جب انہوں نے مبینہ پبلک ریلیشنز فرم کے نمائندوں کو بتایا کہ انہیں ان کی انڈین خفیہ ایجنسی ’را‘ سے وابستگی کا علم ہے تو انہیں بیرون ملک منتقل ہونے میں مدد دینے کی پیشکش کی گئی۔

’وی نیوز‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے فخر درانی نے کہاکہ ان سے رابطہ کرنے والی خاتون نے ابتدا میں مؤقف اختیار کیاکہ ان کے کچھ کلائنٹس ہیں اور وہ پی ٹی آئی کو سپورٹ کررہے ہیں۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے کچھ میڈیا اداروں میں ان کی آرا شائع ہوں۔

مزید پڑھیں: بی بی سی کے چیئرمین سمیر شاہ کے مبینہ ’بھارتی رابطوں‘ پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے

’میں نے انہیں فوراً انکار کر دیا تھا، لیکن وہ مسلسل رابطہ کرتے رہے۔ پھر میں نے اپنے ادارے کی انتظامیہ کو بتایا کہ اس طرح مجھے اپروچ کیا جا رہا ہے۔ میرے ادارے نے کہاکہ یہ بذاتِ خود ایک خبر ہے کہ اگر کوئی آؤٹ سائیڈر اپنی مرضی کا مواد شائع کروانا چاہتا ہے تو اس پر کام کریں اور دیکھیں کہ معاملہ کیا ہے۔‘

فخر درانی نے بتایا کہ قریباً ایک مہینے بعد انہوں نے انہیں کہاکہ ٹھیک ہے، وہ کام کریں گے۔ اس کے بعد انہوں نے بتایا کہ وہ کس قسم کا مواد چاہتے ہیں، ان کے ٹارگٹس کیا ہیں، اور کن موضوعات پر کام کروانا چاہتے ہیں۔ ان میں پاکستان آرمی، پاکستان اور چین کے تعلقات، افغانستان کے حق میں مضامین، اور بلوچستان سے متعلق موضوعات شامل تھے۔ یہ ان کے طے شدہ موضوعات کی فہرست تھی۔

انہوں نے کہاکہ اس کے بعد ہمارے ادارے نے حکومت کو آگاہ کیاکہ ایک پی آر فرم کے بھیس میں کچھ لوگ اس نوعیت کی سرگرمیاں کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے اپنی سیکیورٹی کے پیشِ نظر بھی حکومت کو اطلاع دی، کیونکہ اگر کوئی شخص حکومت کو بتائے بغیر اس طرح کا کام کررہا ہوتا اور بعد میں یہ معاملہ سامنے آ جاتا تو یہ ہمارے لیے بھی ایک سیکیورٹی رسک ہوتا۔

’’را‘ کا ذکر کرنے پر برطانیہ منتقل کروانے کی پیشکش‘

فخر درانی نے کہاکہ یہ سلسلہ نومبر 2025 سے جون 2026 تک جاری رہا۔ جولائی میں، جب ہمارے پاس صحافتی اصولوں کے مطابق تمام ثبوت جمع ہو گئے، جن میں مالی لین دین کی تفصیلات بھی شامل تھیں اور وہ تین مضامین بھی جنہیں وہ شائع کروانا چاہتے تھے، تو ہم نے انہیں شائع نہیں کیا کیونکہ ہمارا مقصد انہیں بطور ثبوت محفوظ رکھنا تھا، ان کے ساتھ ہونے والی تمام گفتگو بھی ثبوت کے طور پر محفوظ کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ جب صحافتی اصولوں کے مطابق تمام چیزیں مکمل ہو گئیں تو ہماری انتظامیہ نے فیصلہ کیاکہ اب انہیں سامنے لا کر بتایا جائے کہ ہم جانتے ہیں آپ پی آر فرم نہیں بلکہ کوئی دشمن ادارہ ہیں۔

فخر درانی کے مطابق شروع میں جب انہوں نے موضوعات کی فہرست دی تو ہمیں شک ہوا کہ یہ پی آر فرم نہیں ہو سکتی۔ پھر 26 فروری کے بعد پاکستان اور افغانستان کی سرحدی صورتحال کے دوران انہوں نے ایک اور مطالبہ کیاکہ اگر آپ ہمیں سرحد پر ہونے والی اصل صورتحال، ایسی فوٹیجز، تصاویر یا معلومات فراہم کر سکتے ہیں جو میڈیا پر نہیں آ رہیں تو ہم اس کے لیے بھی ادائیگی کریں گے۔

انہوں نے کہاکہ یہ کسی پی آر فرم کا کام نہیں ہو سکتا کہ وہ سرحدی جھڑپوں یا کسی ملک کی حساس معلومات اکٹھی کرے۔ اسی مرحلے پر ہمیں یقین ہوگیا کہ یہ کوئی پی آر فرم نہیں بلکہ کسی دشمن ایجنسی سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں۔

انہوں نے کہاکہ تحریری گفتگو زیادہ تر انگریزی میں ہوتی تھی، اس لیے اندازہ لگانا مشکل تھا، لیکن جب ٹیلی فون پر بات ہوئی تو میں نے تمام کالز ریکارڈ کرنا شروع کردیں۔ میری کوشش تھی کہ ان سے اردو میں بات کروں تاکہ اندازہ ہو سکے کہ وہ کون ہیں۔ گفتگو کے دوران کئی ایسے الفاظ اور لہجہ سامنے آیا جس سے محسوس ہوتا تھا کہ وہ ہندی لہجے میں بات کررہے ہیں۔

فخر درانی نے بتایا کہ میں نے ان سے کہاکہ مجھے معلوم ہے آپ پی آر فرم نہیں بلکہ کسی دشمن انٹیلی جنس ایجنسی سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن انہوں نے اس کی تردید کی۔

انہوں نے بتایا کہ بعد میں میں نے ان سے کہاکہ اگر میں آپ کے لیے کام کر رہا ہوں تو یہ میرے لیے بہت بڑا رسک ہے، اس لیے مجھے سچ جاننا چاہیے، میں جانتا ہوں کہ آپ ’را‘ سے ہیں۔ اس پر انہوں نے اس کی واضح تردید کرنے کے بجائے کہاکہ اگر آپ ڈر رہے ہیں تو ہم آپ کو اور آپ کے خاندان کو برطانیہ منتقل کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ 23 جولائی کو جب میری اسٹوری شائع ہوئی تو اس کے بعد بھی وہ مسلسل رابطہ کرتے رہے کیونکہ انہوں نے رقم دی تھی اور اپنے مضامین کی اشاعت کا مطالبہ کررہے تھے۔ ’میں نے انہیں اپنی شائع شدہ اسٹوری بھیج دی۔ انہوں نے اسٹوری پڑھنے کے بعد بھی اس بات کی واضح تردید نہیں کی کہ ان کا تعلق کسی دشمن ایجنسی یا ’را‘ سے نہیں ہے، بلکہ اس کے بعد انہوں نے مجھے واٹس ایپ اور فیس بک دونوں پر بلاک کردیا۔

انہوں نے کہاکہ میں نے صحافتی اصولوں کے مطابق تمام تقاضے پورے کیے اور ان سے ہر اہم سوال پوچھا۔

فخر درانی نے بتایا کہ جب میں نے ان سے کہاکہ آپ کا تعلق ’را‘ سے ہے، میں آپ کے لیے کام کر رہا ہوں اور مجھے صرف 35 ہزار روپے دیے گئے ہیں، اس لیے میں آپ پر اعتماد نہیں کر سکتا۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنے سپیریئر سے میری بات کروائیں تاکہ وہ مجھے یقین دہانی کرا سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ اگلے دن ان کے باس سے رابطہ ہوا۔ اس نے دو تین اہم باتیں کہیں۔ اس نے کہاکہ ہم آپ کو انگیج کررہے ہیں، لیکن ہم نہیں چاہتے کہ آپ کی زندگی کسی خطرے میں پڑے۔ ہم صرف نیریٹو بلڈنگ اور اس حوالے سے کچھ آرٹیکلز چاہتے ہیں۔

پیگاسس اسپائی وئیر کا ذکر

فخر درانی نے بتایا کہ اسی گفتگو میں اس نے پیگاسس اسپائی ویئر کا بھی ذکر کیا۔ اس نے بتایا کہ یہ اسرائیلی ساختہ سافٹ ویئر تھا۔ پہلے اس کی ابتدائی جنریشن میں لنک پر کلک کرنا پڑتا تھا، لیکن بعد کی جنریشن میں کلک کی بھی ضرورت نہیں رہتی تھی، صرف ٹارگٹ کا نمبر کافی ہوتا تھا۔

’اس نے دعویٰ کیاکہ اس حوالے سے اس کا ذاتی کردار بھی رہا ہے اور مزید تفصیلات بھی بیان کیں۔‘

2021 میں پیگاسس کے حوالے سے بین الاقوامی تحقیقات ہوئی تھیں، جن میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ پاکستان کے قریباً 2 درجن فون نمبرز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس وقت عمران خان وزیراعظم تھے اور ان کا فون بھی مبینہ طور پر ہیک کیا گیا تھا۔ بعد میں پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی اس معاملے کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر اٹھایا تھا اور باقاعدہ سرکاری بیان جاری کیا تھا۔

ڈی ڈبلیو سمیت کئی مغربی صحافتی اداروں کا مواد پاکستان میں چلوانے کی درخواست

فخر درانی نے بتایا کہ اس کے بعد اس نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا نقطۂ نظر اور کچھ یورپی میڈیا اداروں کا نقطۂ نظر بھی پاکستان تک پہنچے۔ اس نے ڈی ڈبلیو، دی سن اور ایک فرانسیسی اخبار کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ ان کی آرا بھی یہاں شائع ہوں۔ اس نے مزید کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ پولیو، بلوچستان اور دیگر سماجی مسائل سے متعلق مواد بھی نمایاں کیا جائے۔

}ہم نے براہِ راست ان سے پوچھا کہ آپ کا تعلق کس ادارے سے ہے۔ پھر جب مزید گفتگو ہوئی تو میں نے کہا کہ دیکھیں، میں آپ کے لیے کام کر رہا ہوں، یہ میرے لیے بہت رسکی ہو سکتا ہے، اس لیے جو بھی تعلق ہو وہ سچ کی بنیاد پر ہونا چاہیے، میں جانتا ہوں کہ کیا آپ ’را‘ سے ہیں۔‘

فخر درانی کے مطابق اس پر اس نے کہاکہ آپ ڈر رہے ہیں، آپ کیا چاہتے ہیں؟ ہم آپ کو برطانیہ میں شفٹ کرا دیتے ہیں، آپ کی فیملی کو بھی وہاں سیٹل کرا دیتے ہیں۔ اس نے اس بات کی تردید کرنے کے بجائے گفتگو کو اسی سمت میں آگے بڑھایا۔

پراپیگنڈے کے ثبوت کے طور پر شہباز گل کا وی لاگ

فخر درانی نے بتایا کہ میرے ساتھ گفتگو کے دوران انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیاکہ ان کے ساتھ دوسرے صحافی بھی کام کررہے ہیں، لیکن صرف کسی کے کہنے پر یقین کر لینا صحافت نہیں ہوتی۔ میں نے ان سے کہاکہ اگر ایسا ہے تو مجھے دو تین نمونہ آرٹیکلز بھیج دیں تاکہ میں دیکھ سکوں کہ آپ کس نوعیت کا مواد شائع کرواتے ہیں، شاید اس سے مجھے کچھ ناموں کا بھی اندازہ ہو جائے۔

’انہوں نے انکار کردیا اور کہاکہ ایسا کرنے سے ہمارے ساتھ کام کرنے والے لوگ بے نقاب ہو سکتے ہیں کیونکہ ہم شیڈو میں کام کرتے ہیں، اس لیے ہم آپ کو ایسی کوئی مثال نہیں دے سکتے۔‘

فخر درانی کے مطابق انہوں نے جو دعوے کیے، میری کوشش یہی رہی کہ میں ان کی آزادانہ طور پر تصدیق کر سکوں، لیکن اس حوالے سے کوئی قابل تصدیق ثبوت میرے سامنے نہیں آیا۔‘

انہوں نے کہاکہ ایک اور بات یہ ہے کہ اختلاف رائے اور تنقید اپنی جگہ ایک الگ چیز ہے، لیکن اگر کوئی کسی کے پے رول پر کام کررہا ہو تو یہ بالکل مختلف معاملہ ہے۔ جب تک اس کے بارے میں واضح شواہد نہ ہوں، کسی پر ایسا الزام نہیں لگایا جا سکتا کیونکہ ہم ماضی میں اس طرح کے الزامات کے نتائج دیکھ چکے ہیں۔

’یہ ایجنسیاں اکثر کسی ملک کے اندر موجود سیاسی اختلافات سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ انہوں نے بھی ایک پی آر فرم کا کور استعمال کیا اور کہاکہ وہ پی ٹی آئی کے حق میں آرٹیکلز شائع کروانا چاہتے ہیں۔ اس طرح وہ ملک کے اندر موجود اختلافات اور ناراض طبقات کو استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

فخر درانی نے کہاکہ پہلے آرٹیکل میں ان کی توجہ فیلڈ مارشل کے حوالے سے تھی۔ وہ پاکستان کے کردار، پاکستان کی ثالثی اور پاکستان کی کامیابی کو کم اہم دکھانا چاہتے تھے۔ ان کی کوشش تھی کہ فیلڈ مارشل کے بیرونی دوروں، جہازوں کی خریداری اور اسی نوعیت کے دیگر معاملات کو نشانہ بنا کر ایسا تاثر دیا جائے کہ عوام میں بداعتمادی پیدا ہو۔

فخر درانی نے بتایا کہ میں نے ان سے کہاکہ اگر میں اس موضوع پر کچھ لکھوں گا تو صحافتی اصولوں کے مطابق لکھوں گا، اس لیے آپ مجھے اس کے ثبوت فراہم کریں۔

’انہوں نے ثبوت کے طور پر ایک یوٹیوب چینل کا لنک بھیجا۔ جب میں نے وہ چینل کھولا تو اس پر دو دو اور تین تین منٹ کی بہت سی ویڈیوز تھیں جن میں واضح طور پر پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا۔ اس چینل کے قریباً 1.98 ملین سبسکرائبرز تھے اور زیادہ تر ویڈیوز مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ آواز کے ذریعے بنائی گئی تھیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد انہوں نے ایک اور ویڈیو بطور معاون مواد بھیجی جس میں شہباز گل کے یوٹیوب پروگرام سے کچھ حصے لیے گئے تھے۔ انہی دعوؤں اور الزامات کو بطور بنیاد استعمال کرتے ہوئے وہ چاہتے تھے کہ اسی نوعیت کا مواد مزید شائع کیا جائے۔

’دشمن قوتوں سے بچانے کے لیے صحافیوں کو مناسب معاوضے، مراعات دی جائیں‘

ایک سوال کے جواب میں فخر درانی نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنا دیا ہے کہ میں ایک باعزت زندگی گزار سکتا ہوں، اس لیے میں نے یہ پیشکش مسترد کر دی، لیکن ہو سکتا ہے کہ کوئی دوسرا شخص، بے روزگاری یا مالی مشکلات کی وجہ سے ایسی پیشکش قبول کرنے پر مجبور ہو جائے۔

انہوں نے کہاکہ صحافت کے شعبے میں کم تنخواہیں، بے روزگاری اور انڈر پیمنٹ جیسے مسائل موجود ہیں۔ بعض اوقات انسان غربت کے باعث مجبور بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے میرے خیال میں حکومت کو اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہییں۔

’ویج بورڈ ایوارڈ پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے تاکہ صحافیوں کو کم از کم اتنی تنخواہ ضرور ملے جس سے وہ باعزت زندگی گزار سکیں۔ اگر صحافی مالی طور پر مستحکم ہوں گے تو کسی ہاسٹائل ایجنسی کے لیے انہیں مالی لالچ دے کر استعمال کرنا آسان نہیں ہوگا۔‘

انہوں نے کہاکہ اگر کوئی شخص مالی مجبوری اور بے روزگاری کی وجہ سے ایسے راستے پر چلا جاتا ہے تو اس کی ذمہ داری صرف اس فرد پر نہیں بلکہ حکومت پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

’خاص طور پر پریس کلب کی سطح پر صحافیوں کی مالی حالت، رہائشی حالات اور دیگر مشکلات کے بارے میں باقاعدہ سروے ہونا چاہیے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ان کی اصل ضروریات کیا ہیں اور انہیں کس قسم کی معاونت درکار ہے۔‘

مزید پڑھیں: رؤف حسن کے بھارتی رابطوں سے تحریک انصاف کا ملک دشمن ایجنڈا بے نقاب ہوگیا، وفاقی وزیر اطلاعات

انہوں نے کہاکہ میرا خیال ہے کہ اگر حکومت اس حوالے سے عملی اقدامات کرے تو صحافیوں کا ریاست پر اعتماد بھی بڑھے گا۔ جب انہیں یہ احساس ہوگا کہ ریاست ان کی فلاح کے لیے کام کررہی ہے تو وہ کسی مالی مجبوری یا دباؤ کی وجہ سے ایسے عناصر کے ساتھ تعاون کرنے پر مجبور نہیں ہوں گے۔

اسی لیے میری رائے میں حکومت کو صحافیوں کی معاشی اور پیشہ ورانہ فلاح کے لیے سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ملک بھر میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع، 5 اگست تک وقفے وقفے سے بارش کی پیشگوئی

بنگلہ دیشی طلبہ کے لیے علامہ محمد اقبال اسکالرشپ پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز

پی ٹی وی کی سابق نیوز کاسٹر اور معروف سماجی شخصیت جہاں آرا معین انتقال کرگئیں

طالبان حکومت وطن واپس آنے والے افغان مہاجرین کی آبادکاری میں ناکام، انسانی بحران کا خدشہ

اسمارٹ واچ پہننا کہیں خطرناک تو نہیں؟ ماہرین کا بڑا انکشاف

ویڈیو

راولاکوٹ میں فورسز پر حملے منظم سازش کا حصہ، متعدد ملزمان گرفتار، اسلحہ برآمد، ایس ایس پی پونچھ خاور علی شوکت

اہلِ کشمیر پاکستان سے محبت کرتے ہیں، ن لیگ کی جیت یقینی، ثاقب مجید راجا نے ایکشن کمیٹی کو ’فتنہ و فساد کمیٹی‘ قرار دے دیا

مراد علی شاہ کارکردگی میں بہتر اور مریم نواز ایڈورٹائزنگ میں، ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید

کالم / تجزیہ

اے ٹی ایم مشین 

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں