پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کی حالیہ سیاسی سرگرمیوں نے پارٹی کے اندر قیادت، اختیارات اور مستقبل کی حکمت عملی سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے، علیمہ خان اپنے حالیہ دوروں اور کارکنوں سے ملاقاتوں کو عمران خان کی رہائی کی مہم کا حصہ اور اسٹریٹ موومنٹ قرار دے رہی ہیں، جبکہ پی ٹی آئی قیادت اس وقت 5 اگست کے حوالے سے واضح حکمت عملی کے ساتھ سامنے نہیں آرہی۔
پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، صوبائی صدر جنید اکبر، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس، پارٹی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا فی الحال کسی احتجاج کی قیادت کرتے نظر نہیں آ رہے، تاہم علیمہ خان واضح طور پر سامنے آ رہی ہیں اور مختلف مقامات پر اسٹریٹ موومنٹ اور 5 اگست کے احتجاج کی تیاری کرتی نظر آرہی ہیں۔
مزید پڑھیں: عمران خان رہائی فورس کے خدوخال پر غور ہوگا، پارٹی کسی ملیشیا پر یقین نہیں رکھتی، بیرسٹر گوہر
پی ٹی آئی کی اسٹریٹ موومنٹ کے سلسلے میں علیمہ خان نے کارکنوں سے تین سے زیادہ مرتبہ خطاب کیا ہے اور کہا ہے کہ 5 اگست کو تحریک کے لیے تیار رہیں، ہر صورت عمران خان کی رہائی کی تحریک چلانی ہے، عمران خان کی رہائی کے لیے مزید انتظار نہیں کیا جا سکتا اور اب ان کی اگلی منزل ڈی چوک نہیں بلکہ اڈیالہ جیل ہے۔
علیمہ خان کا حالیہ دورہ خیبرپختونخوا ابتدا میں خاندانی اور نجی نوعیت کا قرار دیا گیا، تاہم خیبرپختونخوا میں داخل ہونے کے بعد مختلف شہروں میں کارکنوں کے استقبال، نعروں اور عوامی اجتماعات نے اس دورے کو سیاسی رنگ دے دیا۔ مختلف مقامات پر علیمہ خان نے کارکنوں سے خطاب کیا اور پارٹی کی موجودہ قیادت اور منتخب نمائندوں کی کارکردگی پر سوالات بھی اٹھائے، جبکہ اسٹریٹ موومنٹ کے حوالے سے حکمت عملی بنائی۔
بعد ازاں علیمہ خان نے اپنے دورے کے حوالے سے وضاحت دیتے ہوئے کہاکہ وہ اپنے پوتے پوتیوں سے ملنے چترال جارہی تھیں اور راستے میں کارکنوں کے استقبال کے باعث مختلف مقامات پر رکنا پڑا۔
علیمہ خان کے دورے کو سیاسی رنگ دینا درست نہیں، شفقات ایاز
اس حوالے سے عمران خان کے سابق معاون خصوصی ڈاکٹر شفقات ایاز نے بھی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ علیمہ خان کا دورہ مکمل طور پر خاندانی نوعیت کا تھا اور اس کا مقصد کوئی سیاسی سرگرمی نہیں تھا، کارکنوں کی بڑی تعداد کی موجودگی اور ان کے اصرار پر علیمہ خان نے مختلف مقامات پر مختصر گفتگو کی، تاہم اس دورے کو سیاسی رنگ دینا درست نہیں ہوگا۔
پی ٹی آئی کے اندر علیمہ خان کی سرگرمیوں پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں، بعض رہنماؤں کا خیال ہے کہ پارٹی کے سیاسی اور تنظیمی فیصلے منتخب قیادت کو کرنے چاہییں، جبکہ دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کی رائے ہے کہ عمران خان کی رہائی کی جدوجہد میں ہر مؤثر آواز کا کردار اہم ہے۔
علی محمد خان نے اپنے بیان کی وضاحت کردی
رکن قومی اسمبلی علی محمد خان کی جانب سے موروثی سیاست کے خلاف دیے گئے بیان کو ابتدا میں علیمہ خان سے جوڑا گیا، تاہم بعد میں انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا اشارہ کسی مخصوص شخصیت کی جانب نہیں تھا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق عمران خان کی طویل غیر موجودگی کے باعث مختلف گروپ متحرک ہیں اور رہائی مہم، تنظیمی فیصلوں اور سیاسی حکمت عملی کے حوالے سے مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔
بعض رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ علیمہ خان موجودہ قیادت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں اور وہ زیادہ جارحانہ عوامی تحریک کی حامی ہیں، جبکہ موجودہ قیادت اس مؤقف سے مکمل اتفاق نہیں کرتی۔
مشتاق غنی کا علیمہ خان کی سرگرمیوں کا دفاع
پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما اور سابق اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی مشتاق غنی نے علیمہ خان کی سرگرمیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ عمران خان کی بہنیں کسی سیاسی مفاد یا عہدے کے لیے متحرک نہیں ہیں بلکہ ان کی تمام کوششوں کا مقصد صرف اپنے بھائی کی رہائی ہے۔
انہوں نے کہاکہ علیمہ خان کی سرگرمیوں کو پارٹی پر قبضے یا قیادت حاصل کرنے کی کوشش قرار دینا درست نہیں، بلکہ انہیں ایک بہن کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جو اپنے بھائی کے لیے آواز بلند کررہی ہیں۔
علیمہ خان پارٹی پر قبضے کی کوشش کررہی ہیں، شیر افضل مروت
پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما شیر افضل مروت نے علیمہ خان کی سیاسی سرگرمیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ان کے خیال میں کسی کو اس بات میں شک نہیں ہونا چاہیے کہ علیمہ خان جو کچھ کر رہی ہیں وہ پارٹی پر قبضے کی کوشش ہے۔
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا نے قریباً تمام رہنماؤں کو غدار قرار دیا، لیکن صرف علیمہ خان کو مکمل حمایت حاصل رہی۔
انہوں نے کہاکہ پارٹی قیادت اور علیمہ خان چاہتی ہیں عمران خان جیل میں رہیں اور پارٹی گھر سے چلائی جائے، جو دراصل مائنس عمران خان سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔
شیر افضل مروت نے کہاکہ اگر علیمہ خان واقعی سیاست کرنا چاہتی ہیں تو کھل کر سامنے آئیں اور باقاعدہ سیاسی کردار اختیار کریں، ایک طرف خود کو غیر سیاسی کہنا اور دوسری طرف روزانہ متعدد پریس کانفرنسیں کرنا اور جلسوں سے خطاب کرنا تضاد ہے۔
انہوں نے کہاکہ اگر علیمہ خان عمران خان کی رہائی کے لیے کسی مؤثر عوامی تحریک کا اعلان کرتی ہیں اور وہ عملی طور پر شروع ہوتی ہے تو وہ دونوں ہاتھ جوڑ کر ان سے معافی مانگیں گے، تاہم ان کے مطابق گزشتہ 2 برسوں میں نہ علیمہ خان اور نہ ہی پارٹی قیادت عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی مؤثر عوامی تحریک چلا سکی ہے، اس لیے موجودہ بیانات محض نعرے بازی معلوم ہوتے ہیں۔
عمران خان کی رہائی کے لیے جو بھی میدان میں آئے گا اس کی حمایت کریں گے، ہمایوں مہمند
پی ٹی آئی کے رہنما سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف ہر اس شخص کی حمایت کرے گی جو عمران خان کی رہائی کے لیے میدان میں آئے گا، پارٹی میں کسی قسم کی موروثی سیاست موجود نہیں اور جب تک عمران خان خود کسی کو کوئی عہدہ یا ذمہ داری نہیں دیتے، اس وقت تک کسی شخصیت کو پارٹی قیادت کا وارث قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ہمایوں مہمند نے کہاکہ اگر علیمہ خان عمران خان کی رہائی کے لیے متحرک ہیں تو اس میں کوئی برائی نہیں، اگر پارٹی قیادت، کارکن اور علیمہ خان سب ایک مقصد یعنی عمران خان کی رہائی کے لیے اکٹھے ہو جائیں تو اسے منفی انداز میں نہیں دیکھا جانا چاہیے، اس وقت پارٹی قیادت چاہتے ہوئے بھی کوئی بڑا احتجاج نہیں کر پا رہی، اگر علیمہ خان کوئی بڑا احتجاج کر دیتی ہیں تو یہ سب کی کامیابی ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ چونکہ علیمہ خان کو سوشل میڈیا پر بھی نمایاں حمایت حاصل ہے، اس لیے اگر ان کی قیادت میں احتجاج یا عوامی مہم چلتی ہے تو اسے غیر معمولی بات قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ اصل مقصد عمران خان کی رہائی ہے۔
مزید پڑھیں: ’عمران خان رہائی فورس‘ کے قیام میں اب تک کیا پیشرفت ہوئی؟
سیاسی مبصرین کے مطابق عمران خان کی طویل غیر موجودگی نے پی ٹی آئی کے اندر قیادت اور فیصلہ سازی کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ایک جانب پارٹی کی موجودہ قیادت تنظیمی معاملات سنبھال رہی ہے، جبکہ دوسری جانب علیمہ خان کارکنوں سے براہ راست رابطے، عوامی اجتماعات اور قیادت پر تنقید کے ذریعے ایک زیادہ فعال کردار ادا کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ علیمہ خان عملی طور پر پارٹی کی قیادت سنبھالنے کی کوشش کررہی ہیں، تاہم ان کی مسلسل سرگرمیوں نے پی ٹی آئی کے اندر اختیارات، قیادت اور مستقبل کی سیاسی حکمت عملی پر جاری بحث کو مزید نمایاں ضرور کردیا ہے۔













