اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یو این اے ایم اے) نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان نے رواں سال اپریل سے جون کے دوران کم از کم 389 افراد کو من مانی بنیادوں پر گرفتار کیا، جبکہ صحافیوں، خواتین، سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں اور میڈیا اداروں پر بھی دباؤ برقرار رکھا۔ رپورٹ کے مطابق طالبان نے اسی عرصے میں 137 افراد کو سرعام کوڑے بھی مارے۔
اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یو این اے ایم اے) کی تازہ سہ ماہی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یکم اپریل سے 30 جون 2026 کے دوران طالبان کی وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اہلکاروں نے 389 افراد کو من مانی بنیادوں پر حراست میں لیا، جبکہ 65 دیگر افراد کو بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔
ملل متحد میگوید طالبان در سه ماه نزدیک به ۴۰۰ نفر را بازداشت کرده است pic.twitter.com/OnuiT5wfbJ
— رادیو افغانستان اینترنشنال (@AFIntlRadio) July 28, 2026
رپورٹ کے مطابق زیادہ تر گرفتاریاں طالبان کے مقرر کردہ لباس کے ضابطے کی خلاف ورزی، مغربی انداز میں داڑھی تراشنے اور موسیقی سننے یا بجانے کے الزامات پر کی گئیں۔ صوبہ ہرات میں کم از کم 30 خواتین کو بھی مطلوبہ پردہ نہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتایا کہ سابق افغان سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ گزشتہ 3 ماہ کے دوران کم از کم 8 سابق اہلکار قتل کیے گئے، جبکہ 29 سابق سیکیورٹی اہلکاروں کو من مانی طور پر گرفتار یا حراست میں رکھنے کے واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان کا نیا ہتھکنڈا: کم عمر بچوں کو عسکری مقاصد کے لیے بھرتی کرنے اور انتہا پسندانہ تربیت دینے کا انکشاف
رپورٹ کے مطابق طالبان نے اسی عرصے میں ملک بھر میں جسمانی سزاؤں کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور کم از کم 137 افراد کو سرعام کوڑے مارے گئے، جن میں 112 مرد اور 25 خواتین شامل تھیں۔
یو این اے ایم اے نے اپنی علیحدہ رپورٹ میں افغانستان میں میڈیا کی آزادی پر بڑھتی ہوئی پابندیوں پر بھی شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان نے صحافیوں کی گرفتاریاں، نشریاتی اداروں کی معطلی اور میڈیا پر مختلف پابندیاں عائد کرنے کا سلسلہ برقرار رکھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ خوست میں لمر ریڈیو کے تعلیمی پروگرام بند کرائے گئے، جبکہ ریڈیو بامیان کو مبینہ طور پر لائسنس نہ ہونے کے الزام میں عارضی طور پر معطل کیا گیا۔ اسی طرح راہِ فردا ٹی وی کی نشریات انتظامی تبدیلیوں کے بعد بحال ہوئیں۔
اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان کے مطابق کابل میں ایک میڈیا دفتر سے موبائل فون، کیمرے، کمپیوٹر اور دستاویزات ضبط کرنے کی کوشش بھی کی گئی، جبکہ مختلف واقعات میں 3 صحافیوں کو گرفتار کیا گیا۔ بعد ازاں دو صحافی چند روز بعد رہا کر دیے گئے، جبکہ تیسرے کو پوچھ گچھ کے بعد آزادی ملی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ طالبان نے سرکاری ملازمین کے اسمارٹ فون استعمال کرنے پر بھی نئی پابندیاں عائد کی ہیں، جس کے بعد بعض سرکاری محکموں نے ملازمین کے ذاتی موبائل فون ضبط یا تلف کر دیے اور فیس بک سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سرکاری معلومات کی تشہیر بھی محدود کر دی۔













