طالبان نے تین ماہ میں تقریباً 400 افراد گرفتار، میڈیا پر شکنجہ مزید سخت، اقوام متحدہ کا انکشاف

بدھ 29 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یو این اے ایم اے) نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان نے رواں سال اپریل سے جون کے دوران کم از کم 389 افراد کو من مانی بنیادوں پر گرفتار کیا، جبکہ صحافیوں، خواتین، سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں اور میڈیا اداروں پر بھی دباؤ برقرار رکھا۔ رپورٹ کے مطابق طالبان نے اسی عرصے میں 137 افراد کو سرعام کوڑے بھی مارے۔

اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یو این اے ایم اے) کی تازہ سہ ماہی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یکم اپریل سے 30 جون 2026 کے دوران طالبان کی وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اہلکاروں نے 389 افراد کو من مانی بنیادوں پر حراست میں لیا، جبکہ 65 دیگر افراد کو بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق زیادہ تر گرفتاریاں طالبان کے مقرر کردہ لباس کے ضابطے کی خلاف ورزی، مغربی انداز میں داڑھی تراشنے اور موسیقی سننے یا بجانے کے الزامات پر کی گئیں۔ صوبہ ہرات میں کم از کم 30 خواتین کو بھی مطلوبہ پردہ نہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتایا کہ سابق افغان سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ گزشتہ 3 ماہ کے دوران کم از کم 8 سابق اہلکار قتل کیے گئے، جبکہ 29 سابق سیکیورٹی اہلکاروں کو من مانی طور پر گرفتار یا حراست میں رکھنے کے واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان کا نیا ہتھکنڈا: کم عمر بچوں کو عسکری مقاصد کے لیے بھرتی کرنے اور انتہا پسندانہ تربیت دینے کا انکشاف

رپورٹ کے مطابق طالبان نے اسی عرصے میں ملک بھر میں جسمانی سزاؤں کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور کم از کم 137 افراد کو سرعام کوڑے مارے گئے، جن میں 112 مرد اور 25 خواتین شامل تھیں۔

یو این اے ایم اے نے اپنی علیحدہ رپورٹ میں افغانستان میں میڈیا کی آزادی پر بڑھتی ہوئی پابندیوں پر بھی شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان نے صحافیوں کی گرفتاریاں، نشریاتی اداروں کی معطلی اور میڈیا پر مختلف پابندیاں عائد کرنے کا سلسلہ برقرار رکھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ خوست میں لمر ریڈیو کے تعلیمی پروگرام بند کرائے گئے، جبکہ ریڈیو بامیان کو مبینہ طور پر لائسنس نہ ہونے کے الزام میں عارضی طور پر معطل کیا گیا۔ اسی طرح راہِ فردا ٹی وی کی نشریات انتظامی تبدیلیوں کے بعد بحال ہوئیں۔

اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان کے مطابق کابل میں ایک میڈیا دفتر سے موبائل فون، کیمرے، کمپیوٹر اور دستاویزات ضبط کرنے کی کوشش بھی کی گئی، جبکہ مختلف واقعات میں 3 صحافیوں کو گرفتار کیا گیا۔ بعد ازاں دو صحافی چند روز بعد رہا کر دیے گئے، جبکہ تیسرے کو پوچھ گچھ کے بعد آزادی ملی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ طالبان نے سرکاری ملازمین کے اسمارٹ فون استعمال کرنے پر بھی نئی پابندیاں عائد کی ہیں، جس کے بعد بعض سرکاری محکموں نے ملازمین کے ذاتی موبائل فون ضبط یا تلف کر دیے اور فیس بک سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سرکاری معلومات کی تشہیر بھی محدود کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آزاد کشمیر انتخابات : میرپور ڈویژن کے کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری

عائشہ عمر کی فلم ‘میرا لیاری’ کا ٹی وی پریمیئر 31 جولائی کو ہوگا

شہزادہ ہیری کی ڈیلی میل کے خلاف قانونی جنگ دوبارہ عدالت میں، 5 کروڑ پاؤنڈ کے اخراجات پر فیصلہ متوقع

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے سامنے پاکستان سمیت مختلف ممالک میں تعینات نئے سفیروں نے حلف اٹھا لیا

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

ویڈیو

اسحاق ڈار اور کویتی وزیر خارجہ کے درمیان اہم ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

بنگلہ دیشی طلبہ کے لیے علامہ محمد اقبال اسکالرشپ پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز

راولاکوٹ میں فورسز پر حملے منظم سازش کا حصہ، متعدد ملزمان گرفتار، اسلحہ برآمد، ایس ایس پی پونچھ خاور علی شوکت

کالم / تجزیہ

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین 

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی