بھارت میں پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے احتجاجی طلبہ کے خلاف درج مقدمات واپس نہ لیے تو ملک گیر احتجاج دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔
منگل کو چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے پیپر لیک کے خلاف جنتر منتر اور دیگر مقامات پر احتجاج کرنے والے طلبہ پر مبینہ پولیس تشدد سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت سے کامیاب مذاکرات، ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا
عدالت نے حکم دیا کہ پرامن مظاہرین کے خلاف کوئی جبر یا سخت کارروائی نہ کی جائے، جبکہ ایسے زیر حراست افراد کو رہا کیا جائے جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔
تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ دہلی حکومت اور دیگر ریاستیں پہلے سے درج ایف آئی آرز کی تحقیقات جاری رکھ سکتی ہیں، البتہ پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہیں ہوگی۔
2 Days, 2 Warnings: CJP Threatens To Restart Protest If Agitators Face Action pic.twitter.com/tiGPIkDTsV
— Shakeel Yasar Ullah (@yasarullah) July 28, 2026
عدالت نے کہا کہ یہ تحفظ ایسے افراد کو حاصل نہیں ہوگا جن کا مجرمانہ پس منظر موجود ہے۔
عدالتی فیصلے کے بعد سی جے پی کے ترجمان سوراو داس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ملک بھر کے نوجوانوں کے لیے تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ 25 جولائی کو بھارتی حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ احتجاجی طلبہ کے خلاف درج ایف آئی آرز واپس لی جائیں گی اور کسی بھی مظاہرین کو براہِ راست یا بالواسطہ نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔
اسی یقین دہانی پر اعتماد کرتے ہوئے پارٹی نے اپنا ملک گیر احتجاج ختم کیا تھا۔
مزید پڑھیں: دہلی:سیکیورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہرین پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا، بھارتی اخبار کی رپورٹ
سوراو داس نے خدشہ ظاہر کیا کہ مرکزی حکومت اور بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستیں عدالتی فیصلے کو بنیاد بنا کر احتجاجی طلبہ کو ہراساں کر سکتی ہیں۔
ان کے مطابق حکومت چاہے تو درج مقدمات واپس لے سکتی ہے اور پرامن مظاہرین کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو اپنے وعدے پورے کرنے کے لیے دی گئی مہلت ختم ہو چکی ہے۔

اگر ایف آئی آرز واپس نہ لی گئیں، گرفتار طلبہ کو رہا نہ کیا گیا اور مستقبل میں بھی احتجاج کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تو کاکروچ جنتا پارٹی دوبارہ ملک گیر احتجاج شروع کرے گی۔
واضح رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی نے 20 جون سے جنتر منتر پر نیٹ (NEET) پیپر لیک کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا, احتجاج کے دوران طلبہ نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔
مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاجی کیمپ میں ایک خاموش لائبریری
20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن میں لاٹھی چارج، آنسو گیس اور پیلٹ گنز کا استعمال کیا گیا، جبکہ متعدد پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
بعد ازاں مرکز اور سی جے پی کے درمیان 2 مرحلوں پر مذاکرات ہوئے، جس کے بعد دھرمیندر پردھان مستعفی ہو گئے۔
حکومت کی جانب سے پرامن مظاہرین کے خلاف کارروائی نہ کرنے اور پیپر لیک کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو معاوضہ دینے کی یقین دہانی پر پارٹی نے احتجاج ختم کر دیا تھا، تاہم اب اس نے ایک بار پھر احتجاج کی دھمکی دے دی ہے۔














