وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ انتخابات کے دوران مظفرآباد کی جانب کیا جانے والا مارچ ایک منظم سازش کا حصہ تھا۔
اپنے بیان میں ان کا موقف تھا کہ اس مارچ کا مقصد خطے میں بڑے پیمانے پر بدامنی پھیلانا اور انتخابی عمل کو متاثر کرنا تھا۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ شرپسند عناصر کئی ہفتوں سے معصوم کشمیریوں کا خون بہانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ’فسادی جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں‘، وزیراعظم آزاد کشمیر نے راولاکوٹ احتجاج میں شریک اسلحہ برداروں کی ویڈیو شیئر کردی
ان کے بقول مظفرآباد کی جانب مارچ کا مقصد امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنا اور انتشار پیدا کرنا تھا۔
فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ یہ عناصر جدید اسلحے سے لیس ہیں اور انہیں اہم مقامات تک رسائی حاصل ہے، جہاں سے وہ سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے ہیں۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسے شرپسند عناصر سے دور رہیں، کیونکہ یہ شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پیپلز پارٹی آزاد کشمیر الیکشن میں شکست کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہے، ن لیگ کا بلاول بھٹو کی تنقید پر جواب
دوسری جانب آزاد کشمیر پولیس کے مطابق کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح افراد کی فائرنگ سے 2 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔
دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے راولاکوٹ کی جانب مارچ کے دوران ہونے والے تصادم میں متعدد افراد کے جاں بحق جبکہ کئی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
تاہم حکام کی جانب سے ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی گئی۔














