ہالی ووڈ کی معروف سپر ہیرو فلم فرنچائز ’اسپائیڈر مین‘ کی نئی فلم ’اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے‘ نے شائقین کی توجہ حاصل کر لی ہے جس میں پیٹر پارکر کی زندگی کے ایک نئے اور مشکل دور کو پیش کیا گیا ہے۔
فلم کی کہانی ’اسپائیڈر مین: نو وے ہوم‘ کے اختتام کے بعد شروع ہوتی ہے جہاں پوری دنیا پیٹر پارکر کو بھول چکی ہوتی ہے۔ اپنی شناخت قربان کر کے سب کو بچانے والا پیٹر اب ایک ایسی زندگی گزار رہا ہے جہاں نہ کوئی اسے جانتا ہے اور نہ ہی کوئی اسے یاد کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا سام سنگ کے نئے فولڈ ایبل فون کا سب سے بڑا راز اسپائیڈر مین نے فاش کر دیا؟
فلم میں پیٹر پارکر کے کردار کو پہلے سے زیادہ سنجیدہ، تنہا اور جذباتی انداز میں دکھایا گیا ہے جہاں وہ اپنی شناخت، طاقتوں اور ماضی کے تعلقات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
فلم کا سب سے نمایاں پہلو پیٹر اور ایم جے کے درمیان جذباتی تعلق ہے۔ زندایا نے ایم جے کے کردار میں ایک بار پھر اپنی مضبوط اداکاری کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ پیٹر کا دور سے ایم جے کو دیکھنا اور اسے اپنی زندگی کے بغیر آگے بڑھتے دیکھنا فلم کے سب سے متاثر کن لمحات میں شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسپائیڈر مین میں آواز کا جادو جگانے والے وائس آرٹسٹ الیکزس اورٹیگا انتقال کرگئے
فلم میں اسپائیڈر مین کی نئی طاقتوں کو بھی نمایاں کیا گیا ہے جہاں پیٹر کے جسم میں آنے والی تبدیلیاں اسے پہلے سے زیادہ طاقتور لیکن خطرناک بھی بنا دیتی ہیں۔ اس کے حواس میں اضافہ اور آنکھوں کا سیاہ ہو جانا فلم کے اہم اور سنسنی خیز مناظر میں شامل ہے۔
فلم کے ایک تکنیکی پہلو نے بھی شائقین کو متاثر کیا ہے جہاں پہلی بار ناظرین کو اسپائیڈر مین کے ماسک کے اندر سے دنیا دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ عمارتوں کے درمیان جھولنے اور شہر میں سفر کرنے کے مناظر فلم کو ایک منفرد تجربہ بناتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فٹبال کے بعد ہالی ووڈ، کرسٹیانو رونالڈو اداکاری کے میدان میں اترنے کو تیار
ٹام ہالینڈ نے پیٹر پارکر کے کردار میں پختگی اور جذباتی گہرائی دکھائی ہے، جبکہ جون برنتھال کا پنیشر کے کردار میں آنا بھی فلم کی خاص بات قرار دیا جا رہا ہے۔ مارک روفالو کا ہلک کے طور پر کردار بھی فلم میں شامل ہے تاہم بعض ناقدین کے مطابق ان کا کردار توقعات کے مطابق زیادہ نمایاں نہیں ہو سکا۔
ناقدین کے مطابق فلم میں کچھ کمزور پہلو بھی موجود ہیں خاص طور پر جین گرے کے کردار کو مزید بہتر انداز میں پیش کیا جا سکتا تھا تاہم مجموعی طور پر فلم جذبات، ایکشن اور پیٹر پارکر کے نئے سفر کو مؤثر انداز میں پیش کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مارلن منرو کی پیدائش کے 100 سال مکمل، ہالی ووڈ میں تقریبات کا آغاز
فلم کے اختتام پر پیٹر پارکر ایک بار پھر اپنی شناخت تلاش کر لیتا ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ صرف اسپائیڈر مین نہیں بلکہ پیٹر پارکر بھی ہے۔ اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے 30 جولائی کو متحدہ عرب امارات کے سینما گھروں میں ریلیز کی جا رہی ہے۔














