امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے بعد سخت ردعمل کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کو سخت جواب دے گا تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے کے لیے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران سے اچھی بات چیت کا اعتراف، پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں تیز
فاکس نیوز کو ٹیلی فون پر دیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم انہیں سخت نشانہ بنائیں گے انہیں بھرپور جواب ملے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے اردن میں امریکی افواج پر حملے کے بعد امریکا سخت کارروائی کرے گا۔
امریکی صدر نے بتایا کہ ایران نواز ملیشیاؤں کے خلاف عراق میں رات بھر کیے گئے امریکی حملے عراقی حکومت کے ساتھ رابطے اور تعاون کے تحت کیے گئے۔
ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ ہم انہیں بات چیت جاری رکھنے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا سفارتی کوششوں کے دروازے بند نہیں کر رہا اور مذاکرات کا عمل جاری رہے گا۔
مزید پڑھیے: مجھے نیتن یاہو کی فراہم کردہ معلومات کی ضرورت نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو آڑے ہاتھوں لے لیا
ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ ہم انہیں بات چیت جاری رکھنے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا سفارتی کوششوں کے دروازے بند نہیں کر رہا اور مذاکرات کا عمل جاری رہے گا۔
یاد رہے کہ رواں ہفتے کے آغاز میں بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ اچھی بات چیت جاری ہے اور کسی معاہدے تک پہنچنے کے اچھے امکانات موجود ہیں تاہم انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران سے بات چیت جاری ہے، ناکامی کی صورت میں سخت حملہ کردیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
ٹرمپ کے تازہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں حالیہ جنگ بندی کے بعد ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔














