مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور امریکا، ایران جنگ کے مزید پھیلاؤ کے باوجود عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو جزوی کمی دیکھی گئی، کیونکہ تیل بردار بحری جہاز خطے سے اپنی نقل و حرکت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں:عالمی منڈی میں خام تیل سستا، مگر پاکستان میں پیٹرول مہنگا؟
برینٹ خام تیل کی قیمت 1.29 ڈالر (1.42 فیصد) کمی کے بعد 89.45 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 56 سینٹ (0.66 فیصد) کمی کے ساتھ 83.90 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
اس سے قبل بدھ کو برینٹ کی قیمت میں قریباً 8 فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی میں ساڑھے 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا، جو ایران جنگ کے دوران قیمتوں میں نمایاں اضافے میں شمار ہوتا ہے۔
تازہ شپنگ اعداد و شمار کے مطابق باب المندب کے راستے بحیرۂ احمر میں داخل ہونے والے تجارتی جہازوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہاز اب بھی محدود ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر متبادل بحری راستوں کا استعمال جاری رہا تو آبنائے ہرمز پر ایران کا دباؤ وقت کے ساتھ کم ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:امریکا، ایران کشیدگی میں شدت، برینٹ خام تیل 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگیا
دوسری جانب عراق میں امریکی اور سعودی فضائی حملوں، ایران کی جانب سے اردن میں امریکی اڈوں اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ٹینکروں پر حملوں کے دعووں، اور حوثیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے، جس کے باعث عالمی توانائی منڈی بدستور غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔














